شاعری

بال و پر ہوں تو فضا کافی ہے

بال و پر ہوں تو فضا کافی ہے ورنہ پرواز انا کافی ہے ہم گماں گشت پرندوں کے لیے آسماں بھی ہو تو ناکافی ہے اس خدائی سے نہیں کوئی غرض ہم کو بس نام خدا کافی ہے یہ جو اک حرف دعا ہے لب پر نارسا ہو کہ رسا کافی ہے کچھ نہیں ذات کے صحرا میں مگر منتشر ہونے کو جا کافی ہے زرد پتے میں کوئی ...

مزید پڑھیے

کسی رت میں جب مسکراتا ہے تو

کسی رت میں جب مسکراتا ہے تو نمو پتھروں میں جگاتا ہے تو ترا شعلۂ نطق روح رواں افق تا افق پھیل جاتا ہے تو کبھی کھولتا ہے سمندر کے راز کبھی ایک قطرہ چھپاتا ہے تو کبھی غرق کر دے سفینے ہزار کبھی ایک کشتی تراتا ہے تو کبھی پھونک دے وادئ گل تمام کبھی آگ میں گل کھلاتا ہے تو کبھی شرح ...

مزید پڑھیے

ریت پر مجھ کو گماں پانی کا تھا

ریت پر مجھ کو گماں پانی کا تھا صبر میرا امتحاں پانی کا تھا سب جنون و عزم کاغذ کشتیاں سامنا جب بے کراں پانی کا تھا سنگ صحرا میں تھی دریا کی نمود سنگ صحرا میں زیاں پانی کا تھا یوں ملی سیلاب میں جائے پناہ سر پہ میرے سائباں پانی کا تھا آگ بھی برسی درختوں پر وہیں کال بستی میں جہاں ...

مزید پڑھیے

ہم اپنی صورتوں سے مماثل نہیں رہے

ہم اپنی صورتوں سے مماثل نہیں رہے ایک عمر آئنے کے مقابل نہیں رہے مجبوریاں کچھ اور ہی لاحق رہیں ہمیں دل سے ترے خلاف تو اے دل نہیں رہے اب وقت نے پڑھائے تو پڑھنے پڑے تمام اسباق جو نصاب میں شامل نہیں رہے بے چہرگی کا دکھ بھی بہت ہے مگر یہ رنج ہم تیری اک نگاہ کے قابل نہیں رہے عمر رواں ...

مزید پڑھیے

دل مانگے ہے موسم پھر امیدوں کا

دل مانگے ہے موسم پھر امیدوں کا چار طرف سنگیت رچا ہو جھرنوں کا ہم نے بھی تکلیف اٹھائی ہے آخر آپ برا کیوں مانیں سچی باتوں کا جانے اب کیوں دل کا پنچھی ہے گم سم جب پیڑوں پر شور مچا ہے چڑیوں کا رات گئے تک راہ وہ میری دیکھے گا مجھ پر ہے اک خوف سا طاری راہوں کا میرے ماتھے پر کچھ لمحے ...

مزید پڑھیے

کب اس سے قبل نظر میں گل ملال کھلا

کب اس سے قبل نظر میں گل ملال کھلا کسی کی یاد میں لیکن یہ اب کے سال کھلا عجیب آب و ہوا تھی عجیب تھی مٹی سو دل کے گوشے میں اک پھول بے مثال کھلا میں چھو کے دیکھ رہی تھی کہ سبزۂ رخ پر گلاب سرخ کی صورت ترا جمال کھلا میں دم بخود ہی رہی اور شیشۂ جاں پر مثال ریزۂ خورشید اک وصال کھلا سفر ...

مزید پڑھیے

شجر عشق ہمیں دار کے مانند بھی ہے

شجر عشق ہمیں دار کے مانند بھی ہے دل کسی شاخ طرب ناک سے پیوند بھی ہے دل ناداں سے نہیں اہل جہاں سے پوچھو کوئی میثاق محبت پہ رضامند بھی ہے درگزر بام وفا سے کہ جنوں خیز ہوا یہ چراغ ایک شب وعدہ کا پابند بھی ہے رات تنہائی تعاقب میں مسلسل کوئی چاپ اور جب علم ہو آگے یہ گلی بند بھی ...

مزید پڑھیے

وہ غم قبول ہے جو تری چشم سے ملے

وہ غم قبول ہے جو تری چشم سے ملے ہم کو ہنر تمام اسی زخم سے ملے روشن ہے ساری زندگی اس دل کی آگ سے اور دل کو آنچ اک سخن گرم سے ملے جب رنگ و نور و نغمہ نہیں اختیار میں اک اعتبار شوق ہی اس بزم سے ملے دل کو لپیٹ لیتا ہے اک ریشمیں خیال جب بھی نگاہ اس نگہ نرم سے ملے اس دل کے سارے خواب محبت ...

مزید پڑھیے

آسیب صفت یہ مری تنہائی عجب ہے

آسیب صفت یہ مری تنہائی عجب ہے ہر سمت تری یاد کی شہنائی عجب ہے اک بچھڑے شناسا سے ملاقات کے با وصف بکھرے ہوئے لمحوں کی شکیبائی عجب ہے اب سلسلۂ رنج و محن ٹوٹ بھی جائے اس بار تو کچھ طرز پذیرائی عجب ہے اب مجھ پہ کھلا اپنے در و بام کا افسوں یوں ہے کہ مرے گھر کی یہ تنہائی عجب ہے سورج ...

مزید پڑھیے

زہر غم کام کر گیا شاید

زہر غم کام کر گیا شاید کوئی جاں سے گزر گیا شاید دل عجب حالت قرار میں ہے زخم امید بھر گیا شاید چاند اک ساتھ ساتھ چلتا تھا رات کے پار اتر گیا شاید میری منزل پکارتی تھی مجھے لوٹ کر وہ بھی گھر گیا شاید اب جو ہم راہ کوئی چاپ نہیں آخری ہم سفر گیا شاید موت کیوں اس قدر عزیز ہوئی زیست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 962 سے 4657