صدیوں کے رنگ و بو کو نہ ڈھونڈو گپھاؤں میں
صدیوں کے رنگ و بو کو نہ ڈھونڈو گپھاؤں میں آؤ کسی سے پوچھو پتہ ان کا گاؤں میں گھبرا کے بلبلے نے سمندر کی ذات سے پھیلا دیا وجود کو ساری دشاؤں میں آواز خود کو دو تو ملے کچھ جواب بھی آخر پکارتے ہو کسے تم خلاؤں میں ڈھونڈو تو دیوتاؤں کے آدرش ہیں بہت پر آدمی کا رنگ کہاں دیوتاؤں ...