ایک دن ذہن میں آسیب پھرے گا ایسا
ایک دن ذہن میں آسیب پھرے گا ایسا یہ سمن زار نظر آئے گا صحرا ایسا میں نے کیا رنج دیے اشک نہ لوٹائے مجھے اے مرے دل کوئی بے فیض نہ دیکھا ایسا ایک مدت سے کوئی لہر نہ اٹھی مجھ میں میری آنکھوں سے چھپا چاند کا چہرہ ایسا رات کہتی ہے ملاقات نہ ہوگی اپنی تو کوئی خواب نہ میں نیند کا ماتا ...