شاعری

ایک دن ذہن میں آسیب پھرے گا ایسا

ایک دن ذہن میں آسیب پھرے گا ایسا یہ سمن زار نظر آئے گا صحرا ایسا میں نے کیا رنج دیے اشک نہ لوٹائے مجھے اے مرے دل کوئی بے فیض نہ دیکھا ایسا ایک مدت سے کوئی لہر نہ اٹھی مجھ میں میری آنکھوں سے چھپا چاند کا چہرہ ایسا رات کہتی ہے ملاقات نہ ہوگی اپنی تو کوئی خواب نہ میں نیند کا ماتا ...

مزید پڑھیے

پاؤں مارا تھا پہاڑوں پہ تو پانی نکلا

پاؤں مارا تھا پہاڑوں پہ تو پانی نکلا یہ وہی جسم کا آہن ہے کہ مٹی نکلا میرے ہمراہ وہی تہمت آزادی ہے میرا ہر عہد وہی عہد اسیری نکلا ایک چہرہ تھا کہ اب یاد نہیں آتا ہے ایک لمحہ تھا وہی جان کا بیری نکلا ایک مات ایسی ہے جو ساتھ چلی آتی ہے ورنہ ہر چال سے جیتے ہوئے بازی نکلا موج کی طرح ...

مزید پڑھیے

خواب کو دن کی شکستوں کا مداوا نہ سمجھ

خواب کو دن کی شکستوں کا مداوا نہ سمجھ نیند پر تکیہ نہ کر شب کو مسیحا نہ سمجھ ہجر کے شہر میں گلزار کہاں ملتے ہیں صبح کو دشت سمجھ شام کو ویرانہ سمجھ میں کہیں اور کا ٹوٹا ہوا تارا ہوں کوئی تو مجھے اپنے ستاروں سے الجھتا نہ سمجھ مجھ پہ کھل جا کہ مرے دل میں کوئی پیچ پڑے اپنی تنہائی کے ...

مزید پڑھیے

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے وہ اندیشے تھے رنگ آنکھوں کے گہرے کر لیے ہم نے خدا کی طرح شاید قید ہیں اپنی صداقت میں اب اپنے گرد افسانوں کے پہرے کر لیے ہم نے زمانہ پیچ اندر پیچ تھا ہم لوگ وحشی تھے خیال آزار تھے لہجے اکہرے کر لیے ہم نے مگر ان سیپیوں میں پانیوں کا شور کیسا ...

مزید پڑھیے

یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے

یہ کون آیا شبستاں کے خواب پہنے ہوئے ستارے اوڑھے ہوئے ماہتاب پہنے ہوئے تمام جسم کی عریانیاں تھیں آنکھوں میں وہ میری روح میں اترا حجاب پہنے ہوئے مجھے کہیں کوئی چشمہ نظر نہیں آیا ہزار دشت پڑے تھے سراب پہنے ہوئے قدم قدم پہ تھکن ساز باز کرتی ہے سسک رہا ہوں سفر کا عذاب پہنے ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن اک رات کے راہی ہیں گزر جائیں گے اک دن یوں دل میں اٹھی لہر یوں آنکھوں میں بھرے رنگ جیسے مرے حالات سنور جائیں گے اک دن دل آج بھی جلتا ہے اسی تیز ہوا میں اے تیز ہوا دیکھ بکھر جائیں گے اک دن یوں ہے کہ تعاقب میں ہے آسائش دنیا یوں ہے کہ محبت سے مکر ...

مزید پڑھیے

میں ایک رات محبت کے سائبان میں تھا

میں ایک رات محبت کے سائبان میں تھا مرا تمام بدن روح کی کمان میں تھا دھنک جلی تھی فضا خون سے منور تھی مرے مزاج کا اک رنگ آسمان میں تھا جو سوچتا ہوں اسے دل میں پھول کھلتے ہیں وہ خوش نگاہ نہیں تھا تو کون دھیان میں تھا یہ حادثہ ہے کہ دونوں خزاں سرشت ہوئے مگر بہار کا اک عہد درمیان ...

مزید پڑھیے

میں پھر سے ہو جاؤں گا تنہا اک دن

میں پھر سے ہو جاؤں گا تنہا اک دن بین کرے گا روح کا سناٹا اک دن جن میں ابھی اک وحشی آگ کے سائے ہیں وہ آنکھیں ہو جائیں گی صحرا اک دن بیت چکا ہوگا یہ خوابوں کا موسم بند ملے گا نیند کا دروازہ اک دن مٹ جائے گا سحر تمہاری آنکھوں کا اپنے پاس بلا لے گی دنیا اک دن ڈوب رہا ہوں جھوٹ اور ...

مزید پڑھیے

وہ دکھ جو سوئے ہوئے ہیں انہیں جگا دوں گا

وہ دکھ جو سوئے ہوئے ہیں انہیں جگا دوں گا میں آنسوؤں سے ہمیشہ ترا پتا دوں گا بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا ہوا ہے تیز مگر اپنا دل نہ میلا کر میں اس ہوا میں تجھے دور تک صدا دوں گا مری صدا پہ نہ برسیں اگر تری آنکھیں تو حرف و صوت کے ...

مزید پڑھیے

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں ورنہ مری انا میں کہیں خم نہیں ملا اس سے طرح طرح کی شکایت رہی مگر میری طرف سے رنج اسے کم نہیں ملا ایک ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 925 سے 4657