شاعری

میں وہی دشت ہمیشہ کا ترسنے والا

میں وہی دشت ہمیشہ کا ترسنے والا تو مگر کون سا بادل ہے برسنے والا سنگ بن جانے کے آداب سکھائے میں نے دل عجب غنچۂ نورس تھا بکسنے والا حسن وہ ٹوٹتا نشہ کہ محبت مانگے خون روتا ہے مرے حال پہ ہنسنے والا رنج یہ ہے کہ ہنر مند بہت ہیں ہم بھی ورنہ وہ شعلۂ عصیاں تھا جھلسنے والا وہ خدا ہے ...

مزید پڑھیے

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے تو اپنے گہن میں ہے تو میں اپنے گہن میں دو چاند ہیں اک ابر میں گہ بھی نہیں سکتے ہم جسم ہیں اور دونوں کی بنیادیں امر ہیں اب کیسے بچھڑ جائیں کہ ڈھہ بھی نہیں سکتے دریا ہوں کسی روز معاون کی طرح مل یہ کیا کہ ہم اک ...

مزید پڑھیے

حملہ آور کوئی عقب سے ہے

حملہ آور کوئی عقب سے ہے یہ تعاقب میں کون کب سے ہے شہر میں خواب کا رواج نہیں نیند کی ساز باز سب سے ہے لوگ لمحوں میں زندہ رہتے ہیں وقت اکیلا اسی سبب سے ہے ہم خیالوں کے مشربوں کا زوال خوف سے جبر سے طلب سے ہے شعلہ باروں کے خاندان سے ہوں روح میں روشنی نسب سے ہے

مزید پڑھیے

درد پرانا آنسو مانگے آنسو کہاں سے لاؤں

درد پرانا آنسو مانگے آنسو کہاں سے لاؤں روح میں ایسی کونپل پھوٹی میں کمہلاتا جاؤں میرے اندر بیٹھا کوئی میری ہنسی اڑائے ایک پلک کو اندر جاؤں باہر بھاگا آؤں سارے موتی جھوٹے نکلے سارے جادو ٹوٹے میری خالی آنکھو بولو اب کیا خواب دکھاؤں میرا کیسے کام چلے جب نام سے کرن نہ پھوٹے اب ...

مزید پڑھیے

باد نسیاں ہے مرا نام بتا دو کوئی

باد نسیاں ہے مرا نام بتا دو کوئی ڈھونڈ کر لاؤ مجھے میرا پتا دو کوئی حادثہ ہے کہ ستاروں سے مجھے وحشت ہے مجھ کو اس دشت کے آداب سکھا دو کوئی وہ اندھیرا ہے کہ تنہائی سے ہول آتا ہے سارے بچھڑے ہوئے لوگوں کو صدا دو کوئی ایک مدت سے چراغوں کی طرح جلتی ہیں ان ترستی ہوئی آنکھوں کو بجھا دو ...

مزید پڑھیے

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں ہزار حلقۂ زنجیر بام و در میں رہا ترے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی ترے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا یہ آگ ساتھ نہ ہوتی تو راکھ ہو جاتے عجیب رنگ ترے نام سے ہنر میں ...

مزید پڑھیے

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے

وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے مری یادوں میں اک بھولا ہوا چہرا بھی رہتا ہے جب اس کی سرد مہری دیکھتا ہوں بجھنے لگتا ہوں مجھے اپنی اداکاری کا اندازہ بھی رہتا ہے میں ان سے بھی ملا کرتا ہوں جن سے دل نہیں ملتا مگر خود سے بچھڑ جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے جو ممکن ہو تو ...

مزید پڑھیے

رات اپنے خواب کی قیمت کا اندازہ ہوا

رات اپنے خواب کی قیمت کا اندازہ ہوا یہ ستارہ نیند کی تہذیب سے پیدا ہوا ذہن کی زرخیز مٹی سے نئے چہرے اگے جو مری یادوں میں زندہ ہے سراسیمہ ہوا میری آنکھوں میں انوکھے جرم کی تجویز تھی صرف دیکھا تھا اسے اس کا بدن میلا ہوا وہ کوئی خوش بو ہے میری سانس میں بہتی ہوئی میں کوئی آنسو ہوں ...

مزید پڑھیے

رات نادیدہ بلاؤں کے اثر میں ہم تھے

رات نادیدہ بلاؤں کے اثر میں ہم تھے خوف سے سہمے ہوئے سوگ نگر میں ہم تھے پاؤں سے لپٹی ہوئی چیزوں کی زنجیریں تھیں اور مجرم کی طرح اپنے ہی گھر میں ہم تھے وہ کسی رات ادھر سے بھی گزر جائے گا خواب میں راہ گزر راہ گزر میں ہم تھے ایک لمحے کے جزیرے میں قیام ایسا تھا جیسے انجانے زمانوں کے ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کے تذکرے ہیں بہت

زندہ رہنے کے تذکرے ہیں بہت مرنے والوں میں جی اٹھے ہیں بہت ان کی آنکھوں میں خوں اتر آیا قیدیوں پر ستم ہوئے ہیں بہت اس کے وارث نظر نہیں آئے شاید اس لاش کے پتے ہیں بہت جاگتے ہیں تو پاؤں میں زنجیر ورنہ ہم نیند میں چلے ہیں بہت جن کے سائے میں رات گزری ہے ان ستاروں نے دکھ دیے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 924 سے 4657