ہونٹوں پر محسوس ہوئی ہے آنکھوں سے معدوم رہی ہے
ہونٹوں پر محسوس ہوئی ہے آنکھوں سے معدوم رہی ہے پھلواری کی ''نگہت دلہن'' پھلواری میں گھوم رہی ہے اس کا آنچل اور آویزے میرا ماتھا چوم رہی ہے پھر بھی چشم بد طینت پر الفت لا معلوم رہی ہے ہر میکش کی ذہنی لغزش اس محور پر گھوم رہی ہے جیسے وہ سنبھلا بیٹھا ہے جیسے محفل جھوم رہی ہے چننا ہے ...