شاعری

ہونٹوں پر محسوس ہوئی ہے آنکھوں سے معدوم رہی ہے

ہونٹوں پر محسوس ہوئی ہے آنکھوں سے معدوم رہی ہے پھلواری کی ''نگہت دلہن'' پھلواری میں گھوم رہی ہے اس کا آنچل اور آویزے میرا ماتھا چوم رہی ہے پھر بھی چشم بد طینت پر الفت لا معلوم رہی ہے ہر میکش کی ذہنی لغزش اس محور پر گھوم رہی ہے جیسے وہ سنبھلا بیٹھا ہے جیسے محفل جھوم رہی ہے چننا ہے ...

مزید پڑھیے

ضبط ناوک غم سے بات بن تو سکتی ہے

ضبط ناوک غم سے بات بن تو سکتی ہے آدمی کی انگلی میں پھانس بھی کھٹکتی ہے کیا کسی نوازش کی پول کھول دی میں نے آنکھ جھینپتی کیوں ہے کیوں زباں بہکتی ہے ہم قفس نصیبوں سے گلستاں کا کیا رشتہ جس طرح کوئی ڈالی ٹوٹ کر لٹکتی ہے ساتھیو تھکے ماندے ہارتے ہو ہمت کیوں دور سے کوئی منزل دن میں کب ...

مزید پڑھیے

ستمگر کو میں چارہ گر کہہ رہا ہوں

ستمگر کو میں چارہ گر کہہ رہا ہوں غلط کہہ رہا ہوں مگر کہہ رہا ہوں بتوں میں اسے جلوہ گر کہہ رہا ہوں بڑی بات ہے مختصر کہہ رہا ہوں مجھے آج کانٹوں کے منہ چومنے دو بہاروں کا رخ دیکھ کر کہہ رہا ہوں یہ ماتھے پہ شکنیں یہ دانتوں میں آنچل تو افسانۂ معتبر کہہ رہا ہوں اسی وقت آتی ہیں چہرے ...

مزید پڑھیے

میسر جن کی نظروں کو ترے گیسو کے سائے ہیں

میسر جن کی نظروں کو ترے گیسو کے سائے ہیں غزل کے خوش نما اسلوب ان کے ہاتھ آئے ہیں یگانے اور بیگانے تعصب نے بنائے ہیں وگرنہ سنبل و گل ایک ہی گلشن کے جائے ہیں حقیقت ناگوار خاطر نازک نہ بن پائی کچھ اس تکنیک سے ہم نے انہیں قصے سنائے ہیں تو وہ انداز جیسے میرا گھر پڑتا ہو رستے میں پئے ...

مزید پڑھیے

اٹھ گئی اس کی نظر میں جو مقابل سے اٹھا

اٹھ گئی اس کی نظر میں جو مقابل سے اٹھا ورنہ اٹھنے کے لیے غیر بھی محفل سے اٹھا بیٹھ کر لطف نہ تو سایۂ باطل سے اٹھا چل کے آرام اٹھانا ہے تو منزل سے اٹھا آ کے محفل میں تری کون مرے دل سے اٹھا کوئی اٹھا بھی مری طرح تو مشکل سے اٹھا ساتھ آتا ہے تو لہروں کے تھپیڑے مت گن موج سے لطف اٹھانا ...

مزید پڑھیے

انتظار تھا ہم کو خوش نما بہاروں کا

انتظار تھا ہم کو خوش نما بہاروں کا یہ قصور کیا کم ہے ہم قصور واروں کا آفتاب چہرہ تھا جن شراب خواروں کا داغ داغ حلیہ ہے ان کا سیاہ کاروں کا سعیٔ انفرادی بھی نقش چھوڑ جاتی ہے بجھ گیا ہے منزل تک نقش رہ گزاروں کا ایک روز کھو دے گا اعتماد ذاتی بھی آسرا تکا جس نے دوسرے سہاروں کا جس ...

مزید پڑھیے

اپنے جی میں جو ٹھان لیں گے آپ

اپنے جی میں جو ٹھان لیں گے آپ یا ہمارا بیان لیں گے آپ جستجو قاعدے کی ہو ورنہ در بدر خاک چھان لیں گے آپ عہد حاضر کے باد آئے گا وہ زمانہ کہ جان لیں گے آپ یوں تو غصہ حرام ہے لیکن روز جب امتحان لیں گے آپ آپ کو مہرباں سمجھتے ہیں اور کیا ناک کان لیں گے آپ صاف کہئے کہ چاہتے کیا ہیں کیا ...

مزید پڑھیے

کیا کریں گلشن پہ جوبن زیر دام آیا تو کیا

کیا کریں گلشن پہ جوبن زیر دام آیا تو کیا کیا توقع انقلاب نو نظام آیا تو کیا اب یہ تاثیر محبت پر قصیدہ کیا ضرور جذبۂ بے تابیٔ دل تھا جو کام آیا تو کیا آنکھ سے دل کی طرف دوڑے وہ مے پیتے ہیں ہم ہم وہ میکش ہیں کہ ساقی لے کے جام آیا تو کیا ضعف اپنا توڑنے دیتا ہے زنجیریں کہیں ہم میں دم ...

مزید پڑھیے

راستے منزلوں کے بنی زندگی

راستے منزلوں کے بنی زندگی تو کبھی راستے میں ملی زندگی ریت سی مٹھیوں سے پھسلتی رہی قطرہ قطرہ پگھلتی رہی زندگی اس زمانہ کو پیغام دے جائے گی چاہے اچھی ہو یا پھر بری زندگی میری رہبر بھی ہے میری ہم راز بھی دے رہی ہے نصیحت تبھی زندگی ہر طرف ڈھیر لاشوں کے دکھنے لگے حادثوں میں بنی ...

مزید پڑھیے

انہیں اب کوئی آئنا دیجئے

انہیں اب کوئی آئنا دیجئے ذرا اصلی صورت دکھا دیجئے بٹھائے ہیں پہرے بہت آپ نے زباں پہ بھی تالا لگا دیجئے وچاروں سے ہی وہ تو بیمار ہیں کوئی سوچ کی اب دوا دیجئے سزا ہی سہی کچھ تو دے جائیے وفاؤں کا اب تو صلہ دیجئے جو انساں سے انساں کو واقف کرے ہمیں کوئی ایسا خدا دیجئے محبت ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 844 سے 4657