شاعری

عشق میں زور عمر بھر مارا

عشق میں زور عمر بھر مارا عاقبت کوہ کن نے سر مارا نالۂ دل نے خوشنوائی میں طعنۂ صوت ہزار پر مارا زخم پنہاں دل و جگر میں نہیں نہ کھلا کیا ادھر ادھر مارا مجھ کو گھڑیالیوں نے ہجر کی رات بے‌ بجاے ہوئے گجر مارا دہنے بائیں ملک ہیں دیکھ نہ لیں اس لیے دیکھ بھال کر مارا سادگی پر مٹے ...

مزید پڑھیے

جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے

جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے ہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہے جیتے جی کیا مر گئے پر بھی وبال دوش ہے جو مری میت اٹھاتا ہے وہ دیتا کاندھا ہے تا قیامت گردش تقدیر جانے کی نہیں اپنی برگشتہ نصیبی نے وہ چرخا ناندہ ہے ہے عیاں ہر شے سے دکھلائی نہیں دیتا مگر واہ رے ڈھٹ ...

مزید پڑھیے

ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ

ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ آتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگ گر غیر ساتھ سایہ کے صورت نہ تھا تو کیوں مثل صبا چمن سے سدھارے الگ تھلگ بلبل وہ ہوں کہ فصل کے پہلے ہی باغباں لیتا ہے باغ جس کا اجارے الگ تھلگ دام بلا میں پھنستے ہیں آپ آ کے سیکڑوں وہ بت ہزار بال سنوارے الگ تھلگ اے ...

مزید پڑھیے

ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر

ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کر حرم سے بت خانے تک تو پہنچا خدا خدا کر خدا خدا کر لحد میں کیا ذکر روشنی کا سر لحد بھی جو رحم کھا کر جلا کیا جب چراغ کوئی ہوا نے ٹھنڈا کیا بجھا کر نشان برباد گان عالم جو پوچھے صحرا میں ہم نے جا کر صبا سے اڑ اڑ کے گرد بیٹھی بگولے ...

مزید پڑھیے

اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف

اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف میرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرف ناوک مجھے رقیب کو برچھی لگائیے تیر اس طرف چلے تو سناں اور کی طرف مجھ کو سنا کے غیر کے اوپر پلٹ پرو پلٹو جو گفتگو میں زباں اور کی طرف حور و پری پہ کیا ہے ہمارا سوائے یار دل اور کی طرف ہے نہ جاں اور کی طرف گھر دل ...

مزید پڑھیے

بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظ

بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظ کان پکڑوں گا جو قلقل کو سنا اے واعظ دختر رز کو جو کہتا ہے برا اے واعظ اس عفیفہ نے ترا کیا ہے کیا اے واعظ جام کوثر کی جو خواہش ہے دم بادہ کشی بزم رندان قدح نوش میں آ اے واعظ جوشش شیشہ و ساغر شکنی کا ہے بیاں منہ توڑے کوئی بدمست ترا اے واعظ جام مے ...

مزید پڑھیے

یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں

یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیں بت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیں صبح پیری ہے غافلان جہاں خواب خرگوش میں ہیں جتنے ہیں موج در موج ہے تباہی میں دم بخود ہیں حباب جتنے ہیں بوئے گل ہو کہ نکہت گل ہو خانہ برباد ہیں یہ جتنے ہیں طرفہ قاتل ہے جس کے مورد ملخ بے چھری ہیں حلال جتنے ہیں خوش نوا یہ ہے ...

مزید پڑھیے

خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے

خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے ویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہے خاکستر تن خیر ہو برباد ہوئی ہے اڑتی یہ خبر گرد پریدہ سے سنی ہے ہم خوابیٔ جاناں مری قسمت میں لکھی ہے سوتے میں زلیخا کی طرح آنکھ لگی ہے لو عشق کی وہ ہے کہ پتنگے کو جلا کر سر میں جو لگی شمع کے تلوے میں بجھی ہے مٹ ...

مزید پڑھیے

اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو

اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو اے بتو لیکن خدا لگتی کہو گر ملیں یاران رفتہ پوچھیے مر گئے پر کس طرح گزری کہو پائمالو عشق میں کیوں کر کٹی کوہ کن سے سرگزشتے اپنی کہو چشم تر پر دجلہ و جیحوں میں کیا ابر سی چھا جائے جو پھبتی کہو شمع و پروانہ جو پوچھیں سوز عشق اپنی بیتی یا مری بیتی ...

مزید پڑھیے

سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر

سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر پھرے الٹے پیروں باہر سے باہر کڑی میں نہ دے ساتھ یار دلی تک شرر چوٹ کھا کر ہو پتھر سے باہر یوں ہی کالعدم ہم میان لحد تھے مٹایا نشاں اس پہ ٹھوکر سے باہر نہ کر ہرزہ گردی جو ذی آبرو ہے نکلتا نہیں آئنہ گھر سے باہر جناں سے ہوئی مدت آدم کو نکلے وطن سے ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 813 سے 4657