شاعری

کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگا

کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگا خدا جانے ترے آغاز کا انجام کیا ہوگا گرفتاران گیسو پر نہیں کچھ منحصر ناصح پھنسا ہے جو تعلق میں اسے آرام کیا ہوگا عبث ہے زاہدوں کو مے کشی میں عذر ناداری گرو رکھ لیں اسی کو جامۂ احرام کیا ہوگا وہی رہ رہ کے گھبرانا وہی نا کار گر آہیں سوا اس بات ...

مزید پڑھیے

میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتا

میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتا بندگی کہتے ہیں کس شے کو خدائی کرتا ذرے ذرے کو ترے کوچے میں تھا مجھ سے غبار میں جو کرتا بھی تو کس کس سے صفائی کرتا معتکف جو ترے کوچے کے تھے اٹھتے نہ کبھی کعبہ خود آ کے اگر ناصیہ سائی کرتا سوچ ناحق ہے اسیران قفس کے دل کو کیا پڑی تھی جو کوئی فکر ...

مزید پڑھیے

کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا

کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا مرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا ہائے وہ خود رفتگی الجھے ہوئے سب سر کے بال وہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا جس طرف جائے نظر اپنا ہی جلوہ تھا عیاں جسم میں ہم تھے کہ وحشی آئینہ خانے میں تھا بوریا تھا کچھ شبینہ مے تھی یا ...

مزید پڑھیے

ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے

ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے ہماری روح بے بوجھی ہوئی اب تک پہیلی ہے بڑھاپا ہو تو ہو اس ربط میں کیوں کر خلل آئے مری یاس و تمنا بچپنے سے ساتھ کھیلی ہے اجل بھی ٹل گئی دیکھی گئی حالت نہ آنکھوں سے شب غم میں مصیبت سی مصیبت ہم نے جھیلی ہے عدم کا تھا سفر جب اور کچھ توشہ نہ ہاتھ ...

مزید پڑھیے

اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام

اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام بندوں کے کام آ کہ یہی ہے خدا کا کام کس جا تھا قصد شوق نے پہنچا دیا کدھر کہتے نہ تھے ٹھگوں سے نہ لے رہ نما کا کام کہتا ہے دل سنا مجھے گیسو کی داستاں آج اس نے سر پہ ڈال دیا ہے بلا کا کام تاثیر کو نہ آہ سے پوچھوں تو کیا کروں کیوں خود اٹھا لیا دل بے ...

مزید پڑھیے

تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیا

تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیا بیچ میں چونکا تو تھا پھر سو گیا لطف تو یہ ہے کہ آپ اپنا نہیں جو ہوا تیرا وہ تیرا ہو گیا کاٹے کھاتی ہے مجھے ویرانگی کون اس مدفن پہ آ کر رو گیا بحر ہستی کے عمق کو کیا بتاؤں ڈوب کر میں شادؔ اس میں کھو گیا

مزید پڑھیے

یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے

یہ دلجمعی جئے جب تک جئے جینا اسی کا ہے پئے جو سیر ہو کے رات دن پینا اسی کا ہے نگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے تصور اس رخ صافی کا رکھ مد نظر ناداں لگائے منہ جو آئینے کو آئینہ اسی کا ہے یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر ...

مزید پڑھیے

جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں

جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں ستم دیکھو کہ وہ بھی چھوٹتے پہچان لیتے ہیں بہ قدر حوصلہ صحرائے وحشت چھان لیتے ہیں مسافر ہیں سفر کے واسطے سامان لیتے ہیں خدا چاہے تو اب کے قتل گہہ میں مشکل آساں ہو ترے بیمار ناحق موت کا احسان لیتے ہیں کہیں مرقد پہ جاتے ہیں کہیں گھر تک ...

مزید پڑھیے

ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے ترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانے ہجر میں اپنا اور ہے عالم ابر بہاراں دیدۂ پر نم ضد کہ ہمیں وہ آپ بلائیں اف ری جوانی ہائے زمانے اپنی ادا سے آپ جھجکنا اپنی ہوا سے آپ کھٹکنا چال میں لغزش منہ پہ حیائیں اف ری جوانی ہائے ...

مزید پڑھیے

کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا

کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا جو یہ کہتے ہیں ٹٹولے کوئی ایماں ان کا جستجو کے لیے نکلے گا جو خواہاں ان کا گھر بتا دے گا کوئی مرد مسلماں ان کا تو نے دیدار کا جن جن سے کیا ہے وعدہ ہائے رے ان کی خوشی ہائے رے ارماں ان کا اپنے مٹنے کا سبب میں بھی بتا دوں اے شوق کاش چھو جائے مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 807 سے 4657