شاعری

ہم پھڑک کر توڑتے ساری قفس کی تیلیاں

ہم پھڑک کر توڑتے ساری قفس کی تیلیاں پر نہیں اے ہم صفیرو! اپنے بس کی تیلیاں بہر ایواں اور بنوا چلمن اے پردہ نشیں ہو گئی بد رنگ ہیں اگلے برس کی تیلیاں خاک میں نا جنس رہتے ہیں نہ اہل امتیاز اے فلک بنتی نہیں جاروب خس کی تیلیاں عین فصل گل میں ہی صیاد بے پروا نے آہ دس کے پر کترے تو کیں ...

مزید پڑھیے

ہو چکی باغ میں بہار افسوس

ہو چکی باغ میں بہار افسوس آہ اے بلبلو ہزار افسوس قافلہ عمر کا ہے پا بہ رکاب زیست کا کیا ہے اعتبار افسوس مری راتوں کو دیکھ سوختگی نہ کیا ایک دن بھی یار افسوس شب سے پروانے کی لگن میں شمع صبح تک روئی زار زار افسوس سخت بے تابی سے کٹی کل رات آج بھی دل ہے بے قرار افسوس خال و خط کو ...

مزید پڑھیے

ترے ہے زلف و رخ کی دید صبح و شام عاشق کا

ترے ہے زلف و رخ کی دید صبح و شام عاشق کا یہی ہے کفر عاشق کا یہی اسلام عاشق کا پیا پے قدح لبریز دے اے ساقی مستاں تہی تجھ دور میں افسوس رہوے جام عاشق کا ہر اک یاں منزل مقصود کو پہنچے ہے تجھ سے ہی مگر اک خلق میں فرقہ ہے سو ناکام عاشق کا کبھی معشوق کو مرتے نہ دیکھا در پہ عاشق کے یہی ...

مزید پڑھیے

غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہ

غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہ بحر حسن کے ہیں یہ بھنور دو کان کا بالا زلف کا حلقہ ہالۂ مہ پہنچے ہے نہ اس کو نے خط ساغر اس کو لگے ہے آئینہ تم لے کر دیکھو کان کا بالا زلف کا حلقہ آہوئے دل اور طائر جاں کے حق میں یہ دونوں پھندے ہیں ہم کو دکھا کر تم نہ چھپاؤ کان کا بالا ...

مزید پڑھیے

فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاں

فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاں خاک سیر ہو کیجے سیر زندگانی یاں اب تو منہ دکھا اپنا کاش کے تو اے پیری مل گئی تری خاطر خاک میں جوانی یاں کیا یہ پیرہن تن کا جوں حباب چمکے تھا باندھی ہے ہوا میری تو نے ناتوانی یاں وقت گریہ موزوں ہو کیوں نہ آہ کا مصرع رفتہ رفتہ اشک اپنا بن گیا ...

مزید پڑھیے

لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کا

لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کا وہ کان دھر کے سنے کیا پیام عاشق کا قصور شیخ ہے فردوس و حور کی خواہش تری گلی میں ہے پیارے مقام عاشق کا غرور حسن نہ کر جذبۂ زلیخا دیکھ کیا ہے عشق نے یوسف غلام عاشق کا ترے ہی نام کی سمرن ہے مجھ کو اور تسبیح تو ہی ہے ورد ہر اک صبح و شام عاشق کا وفور ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و باد

کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و باد قدرت حق سے ہیں بہم آتش و آب و خاک و باد اخگر غنچہ آب جو گرد چمن نسیم صبح ہیں یہ گرہ کشائے غم آتش و آب و خاک و باد حقے کو اہل معرفت کیوں کہ نہ سمجھیں ہمدم اب یہ بھی رکھے ہے بیش و کم آتش و آب و خاک و باد سوزش داغ و آبلہ گرد الم شمار دم ہجر میں ...

مزید پڑھیے

جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلوم

جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلوم جبریل ہے ہر آن میں نازل نہیں معلوم کیا پردۂ غفلت ہے کچھ اے دل نہیں معلوم رہتا ہے شب و روز وہ نازل نہیں معلوم ہر دم یہی رہتا ہے یہاں دل میں پس و پیش جینے کا بجز مرگ کچھ حاصل نہیں معلوم رخ دیکھ کے حیراں ہوں ترا جوں گل خورشید چھٹ تیرے مجھے کوئی ...

مزید پڑھیے

لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں

لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں بہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میں نہانا مت تو اے رشک پری زنہار پانی میں حباب ایسا نہ ہو شیشہ بنے اک بار پانی میں سنا اے بحر خوبی تیری اٹھکھیلی سے چلنے کی اڑائی رفتہ رفتہ موج نے رفتار پانی میں جھلک اس تیرے کفش پشت ماہی کی اگر دیکھے کرے ...

مزید پڑھیے

سرزمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا

سرزمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا اک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیا گلشن ہستی نہیں جائے شگفتن اے صبا دیکھ جو غنچہ گیا یاں کھل ٹھکانے لگ گیا آبرو رکھ لی خدا نے اس کی ہم چشموں میں آہ تیغ ابرو کا تری گھائل ٹھکانے لگ گیا فرصت یک دم پہ پھولا تھا حباب آب جو تھا جو نقش صفحۂ باطل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 792 سے 4657