اس عرصۂ محشر سے گزر کیوں نہیں جاتے
اس عرصۂ محشر سے گزر کیوں نہیں جاتے جینے کی تمنا ہے تو مر کیوں نہیں جاتے اے شہر خرابات کے آشفتہ مزاجوں جب ٹوٹ چکے ہو تو بکھر کیوں نہیں جاتے اس درد کی شدت بھی نمو خیز بہت ہے جو زخم ہیں سینے میں وہ بھر کیوں نہیں جاتے ہم معتکف دشت اذیت تو نہیں ہیں پیروں سے مسافت کے بھنور کیوں نہیں ...