شاعری

اس عرصۂ محشر سے گزر کیوں نہیں جاتے

اس عرصۂ محشر سے گزر کیوں نہیں جاتے جینے کی تمنا ہے تو مر کیوں نہیں جاتے اے شہر خرابات کے آشفتہ مزاجوں جب ٹوٹ چکے ہو تو بکھر کیوں نہیں جاتے اس درد کی شدت بھی نمو خیز بہت ہے جو زخم ہیں سینے میں وہ بھر کیوں نہیں جاتے ہم معتکف دشت اذیت تو نہیں ہیں پیروں سے مسافت کے بھنور کیوں نہیں ...

مزید پڑھیے

خوشیاں مت دے مجھ کو درد و کیف کی دولت دے سائیں

خوشیاں مت دے مجھ کو درد و کیف کی دولت دے سائیں مجھ کو میرے دل کے اک اک زخم کی اجرت دے سائیں میری انا کی شہ رگ پر خود میری انا کا خنجر ہے میرے لہو کے ہر قطرے کو پھر سے حدت دے سائیں اسم ذات کا راز ہے جو خود میرے اوپر فاش تو کر میرے دل کے آئینے کو پھر سے حیرت دے سائیں توڑ دے وہ دیوار ...

مزید پڑھیے

مقتل میں چمکتی ہوئی تلوار تھے ہم لوگ

مقتل میں چمکتی ہوئی تلوار تھے ہم لوگ جاں نذر گزاری پہ بھی تیار تھے ہم لوگ ہم اہل شرف لوگ تھے اس شہر میں لیکن رسوا بھی سر کوچہ و بازار تھے ہم لوگ کام آتے نہ تھے ہم کو بس اک کار جنوں کے دنیا کی نگاہوں میں تو بے کار تھے ہم لوگ اس نسبت حق میں یہ شرف کم تو نہیں ہے زندیق بھی کافر بھی گنہ ...

مزید پڑھیے

جو اس چمن میں یہ گل سرو و یاسمن کے ہیں

جو اس چمن میں یہ گل سرو و یاسمن کے ہیں یہ جتنے رنگ ہیں سب تیرے پیرہن کے ہیں یہ سب کرشمۂ عرض ہنر اسی کے ہیں گلوں میں نقش ترے ہی لب و دہن کے ہیں طبیعتوں میں عجب رنگ اجنبیت ہے یہ شاہ پارے تو سب تیرے ارض فن کے ہیں ہوس میں عشق میں تہذیب تربیت کا ہے فرق وگرنہ دونوں اسی مکتب بدن کے ...

مزید پڑھیے

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا جو زخم بھی ملا ہے اسی تیر سے ملا تجھ کو خبر بھی ہے مرے انکار کا جواب تیغ و سنان و خنجر و شمشیر سے ملا گم ہو گیا تھا میں اسی دشت وجود میں میں اپنے اسم ذات کی تسخیر سے ملا اے رمز آگہی میں تجھے خود پہ وا کروں وحشت کو میرے پاؤں کی زنجیر سے ملا ملنے ...

مزید پڑھیے

ابتدا سے میں انتہا کا ہوں

ابتدا سے میں انتہا کا ہوں میں ہوں مغرور اور بلا کا ہوں تو بھی ہے اک چراغ مہلت شب میں بھی جھونکا کسی ہوا کا ہوں پھینک مجھ پر کمند ناز اپنی آج میں ہم سفر صبا کا ہوں جس میں ملبوس چاند رہتا ہے میں بھی تکمہ اسی قبا کا ہوں مجھ کو اپنا سمجھ رہی ہے تو میں کسی اور بے وفا کا ہوں اس میں ...

مزید پڑھیے

سب ہیں مصروف کسی کو یہاں فرصت نہیں ہے

سب ہیں مصروف کسی کو یہاں فرصت نہیں ہے سب ضرورت ہے مگر کار ضرورت نہیں ہے تجھ سے دشنام طرازوں کی حمایت کے لئے اب مرے پاس کوئی حرف سہولت نہیں ہے روز اک حشر بپا کرتے تھے جس کی خاطر ہم یہ سنتے ہیں کہ وہ فتنۂ قامت نہیں ہے عکس رم سازیٔ وحشت سے اسے ہے نسبت اب تو آئینوں کو پہلی سی وہ حیرت ...

مزید پڑھیے

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینۂ خواب

پھر آج درد سے روشن ہوا ہے سینۂ خواب سجا ہوا ہے مرے زخم سے مدینۂ خواب خزاں کی فصل میں جو رزق وحشت شب تھا لٹا رہا ہوں سر شب وہی خزینۂ خواب مسافران شب غم تمہاری خیر تو ہے تڑخ کے ٹوٹ گیا کیوں مرا نگینۂ خواب حقیقتوں کے بھنور سے کوئی نکالے پھر رواں کرے مری جانب کوئی سفینۂ ...

مزید پڑھیے

چشم خوش آب کی تمثیل میں رہنے والے

چشم خوش آب کی تمثیل میں رہنے والے ہم پرندے ہیں اسی جھیل میں رہنے والے ہم کو راس آتی نہیں کوچۂ جاناں کی ہوا ہم ہیں الفاظ کی تحویل میں رہنے والے کتنے آشوب گزیدہ سے نظر آتے ہیں عسرت خانۂ تکمیل میں رہنے والے اپنے الفاظ سے تجسیم کروں گا تجھ کو مجھ پہ وا ہو میری تخیل میں رہنے ...

مزید پڑھیے

ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوئے تارے پروتی ہے

ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوئے تارے پروتی ہے یہ تنہائی عجب لڑکی ہے سناٹے میں روتی ہے محبت میں لگا رہتا ہے اندیشہ جدائی کا کسی کے روٹھ جانے سے کمی محسوس ہوتی ہے خموشی کی قبا پہنے ہے محو گفتگو کوئی برہنہ جسم تنہائی مرے پہلو میں سوتی ہے یہ آنکھیں روز اپنے آنسوؤں کے سرخ ریشم سے نیا کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 735 سے 4657