موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے
موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سے میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا آئنہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے کتنی گم سم مرے آنگن سے صبا گزری ہے اک شرر بھی نہ اڑا روح کی خاکستر سے پیار کی جوت سے گھر گھر ہے چراغاں ورنہ ایک بھی شمع نہ روشن ہو ہوا ...