شاعری

اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے

اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے اب مرے پاس خزانہ ہے لٹانے کے لیے ایسی دفعہ نہ لگا جس میں ضمانت مل جائے میرے کردار کو چن اپنے نشانے کے لیے کن زمینوں پہ اتارو گے اب امداد کا قہر کون سا شہر اجاڑو گے بسانے کے لیے میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے ...

مزید پڑھیے

خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کرو

خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کرو جنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو کسی کی وعدہ خلافی کا ذکر خوب نہیں مرے رفیق ستاروں کی کوئی بات کرو زمانہ ساز زمانے کی بات رہنے دو خلوص دوست کے ماروں کی کوئی بات کرو گھٹا کی اوٹ سے چھپ کر جو دیکھتے تھے ہمیں انہیں شریر ستاروں کی کوئی بات ...

مزید پڑھیے

غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا

غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا آگ جب دل میں سلگتی تھی دھواں کیوں نہ ہوا سیل غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے جوش گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا کہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں ہر حسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہوا دشت بھی اس کے مکیں شہر بھی اس میں آباد تو جہاں آن ...

مزید پڑھیے

گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کو

گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کو ٹوٹ جاتے ہیں سہانے خواب آدھی رات کو بھاگتے سایوں کی چیخیں ٹوٹتے تاروں کا شور میں ہوں اور اک محشر بے خواب آدھی رات کو شام ہی سے بزم انجم نشۂ غفلت میں تھی چاند نے بھی پی لیا زہراب آدھی رات کو اک شکستہ خواب کی کڑیاں ملانے آئے ہیں دیر سے بچھڑے ہوئے ...

مزید پڑھیے

آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی

آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی پستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھی آخر کو تھک کے بیٹھ گئی اک مقام پر کچھ دور میرے ساتھ چلی رہ گزار بھی دل کیوں دھڑکنے لگتا ہے ابھرے جو کوئی چاپ اب تو نہیں کسی کا مجھے انتظار بھی جب بھی سکوت شام میں آیا ترا خیال کچھ دیر کو ٹھہر سا گیا آبشار بھی کچھ ...

مزید پڑھیے

مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیا

مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیا وہ پاس آ تو رہا تھا مگر ٹھہر بھی گیا یہ دیکھنا تھا بچانے بھی کوئی آتا ہے اگر میں ڈوب رہا تھا تو خود ابھر بھی گیا اے راستے کے درختو سمیٹ لو سایہ تمہارے جال سے بچ کر کوئی گزر بھی گیا کسی طرح سے تمہاری جبیں چمک تو گئی یہ اور بات سیاہی میں ہاتھ بھر ...

مزید پڑھیے

اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتے

اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتے ہم بھی سفر جاں کا ارادہ نہیں رکھتے پینا ہو تو اک جرعۂ زہراب بہت ہے ہم تشنہ دہن تہمت بادہ نہیں رکھتے اشکوں سے چراغاں ہے شب زیست سو وہ بھی کوتاہی مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے یہ گرد رہ شوق ہی جم جائے بدن پر رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے ہر گام ...

مزید پڑھیے

بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا

بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا وہ پاس آ رہا تھا کہ میں دور ہٹ گیا پھر درمیان عقل و جنوں جنگ چھڑ گئی پھر مجمع خواص گروہوں میں بٹ گیا کیا اب بھی تیری خاطر نازک پہ بار ہوں پتھر نہیں کہ میں ترے رستے سے ہٹ گیا یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر یا اتنا نرم دل کہ رگ گل سے کٹ گیا وہ لمحۂ ...

مزید پڑھیے

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی کیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو کتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست رہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ ...

مزید پڑھیے

خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا

خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا آمد صبح شب اندام پہ رونا آیا دل کا مفہوم اشاروں سے اجاگر نہ ہوا بے کسئ گلۂ خام پہ رونا آیا کبھی الفت سی جھلکتی ہے کبھی نفرت سی اے تعلق ترے ابہام پہ رونا آیا مری خوشیاں کبھی جس نام سے وابستہ تھیں جانے کیوں آج اسی نام پہ رونا آیا لے کے ابھرے گی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 722 سے 4657