اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے
اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے اب مرے پاس خزانہ ہے لٹانے کے لیے ایسی دفعہ نہ لگا جس میں ضمانت مل جائے میرے کردار کو چن اپنے نشانے کے لیے کن زمینوں پہ اتارو گے اب امداد کا قہر کون سا شہر اجاڑو گے بسانے کے لیے میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے ...