شاعری

سارے بھولے بسروں کی یاد آتی ہے

سارے بھولے بسروں کی یاد آتی ہے ایک غزل سب زخم ہرے کر جاتی ہے پا لینے کی خواہش سے محتاط رہو محرومی کی بیماری لگ جاتی ہے غم کے پیچھے مارے مارے پھرنا کیا یہ دولت تو گھر بیٹھے آ جاتی ہے دن کے سب ہنگامے رکھنا ذہنوں میں رات بہت سناٹے لے کر آتی ہے دامن تو بھر جاتے ہیں عیاری ...

مزید پڑھیے

تھوڑا سا ماحول بنانا ہوتا ہے

تھوڑا سا ماحول بنانا ہوتا ہے ورنہ کسی کے ساتھ زمانہ ہوتا ہے سچا شعر سنانے والے ختم ہوئے اب تو خالی کھیل دکھانا ہوتا ہے آنسو پہلی شرط ہے اس سمجھوتے کی غم تو سانسوں کا جرمانہ ہوتا ہے لال قلعے کی دیواروں پر لکھوا دو دل سب سے محفوظ ٹھکانا ہوتا ہے دنیا میں بھر مار ہے نقلی لوگوں ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی دار سے زندہ نہیں اترتا ہے

کوئی بھی دار سے زندہ نہیں اترتا ہے مگر جنون ہمارا نہیں اترتا ہے تباہ کر دیا احباب کو سیاست نے مگر مکان سے جھنڈا نہیں اترتا ہے میں اپنے دل کے اجڑنے کی بات کس سے کہوں کوئی مزاج پہ پورا نہیں اترتا ہے کبھی قمیض کے آدھے بٹن لگاتے تھے اور اب بدن سے لبادہ نہیں اترتا ہے مصالحت کے بہت ...

مزید پڑھیے

اب بند جو اس ابر گہربار کو لگ جائے

اب بند جو اس ابر گہربار کو لگ جائے کچھ دھوپ ہمارے در و دیوار کو لگ جائے پلکوں پہ سجائے رہو امید کے جگنو کیا جانیے کس کی دعا بیمار کو لگ جائے سولی پہ بھی اس بات کی کوشش ہے ہماری ایثار ہمارا ترے معیار کو لگ جائے حق گوئی سے میری ہی پریشان ہے دنیا کیا ہو یہ وبا اور جو دو چار کو لگ ...

مزید پڑھیے

رشتوں کی دلدل سے کیسے نکلیں گے

رشتوں کی دلدل سے کیسے نکلیں گے ہر سازش کے پیچھے اپنے نکلیں گے چاند ستارے گود میں آ کر بیٹھ گئے سوچا یہ تھا پہلی بس سے نکلیں گے سب امیدوں کے پیچھے مایوسی ہے توڑو یہ بادام بھی کڑوے نکلیں گے میں نے رشتے طاق پہ رکھ کر پوچھ لیا اک چھت پر کتنے پرنالے نکلیں گے جانے کب یہ دوڑ تھمے گی ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں پاؤں میں اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم دل جدھر ٹھیک ...

مزید پڑھیے

الفاظ نرم ہو گئے لہجے بدل گئے

الفاظ نرم ہو گئے لہجے بدل گئے لگتا ہے ظالموں کے ارادے بدل گئے یہ فائدہ ضرور ہوا احتجاج سے جو ڈھو رہے تھے ہم کو وہ کاندھے بدل گئے اب خوشبوؤں کے نام پتے ڈھونڈتے پھرو محفل میں لڑکیوں کے دوپٹے بدل گئے یہ سرکشی کہاں ہے ہمارے خمیر میں لگتا ہے اسپتال میں بچے بدل گئے کچھ لوگ ہیں جو ...

مزید پڑھیے

کھانے کو تو زہر بھی کھایا جا سکتا ہے

کھانے کو تو زہر بھی کھایا جا سکتا ہے لیکن اس کو پھر سمجھایا جا سکتا ہے اس دنیا میں ہم جیسے بھی رہ سکتے ہیں اس دلدل پر پاؤں جمایا جا سکتا ہے سب سے پہلے دل کے خالی پن کو بھرنا پیسہ ساری عمر کمایا جا سکتا ہے میں نے کیسے کیسے صدمے جھیل لیے ہیں اس کا مطلب زہر پچایا جا سکتا ہے اتنا ...

مزید پڑھیے

اسی دنیا کے اسی دور کے ہیں

اسی دنیا کے اسی دور کے ہیں ہم تو دلی میں بھی بجنور کے ہیں آپ انعام کسی اور کو دیں ہم نمک خوار کسی اور کے ہیں سرسری طور سے مت لو ہم کو ہم ذرا فکر ذرا غور کے ہیں کچھ طریقے بھی پرانے ہیں مرے کچھ مسائل بھی نئے دور کے ہیں کوئی امید نہ رکھنا ہم سے اب تو ہم یوں بھی کسی اور کے ہیں

مزید پڑھیے

فراز عشق تیری انتہا نہیں ہوئے ہم

فراز عشق تیری انتہا نہیں ہوئے ہم کسی پے قرض تھے لیکن ادا نہیں ہوئے ہم تیری گلی کے سوا اور کیا ٹھکانا ہے یہیں ملیں گے اگر لاپتہ نہیں ہم تمہارے بعد بڑا فرق آ گیا ہم میں تمہارے بعد کسی پر خفا نہیں ہوئے ہم تعلقات میں شرطیں کبھی نہیں رکھیں کبھی کسی کے لئے مسئلہ نہیں ہوئے ہم ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 721 سے 4657