شاعری

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں سرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں دن ڈھلے یوں تری آواز بلاتی ہے ہمیں یاد تیری کبھی دستک کبھی سرگوشی سے رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں ہر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ہے اب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ...

مزید پڑھیے

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے دل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہے گلشن میں اس طرح سے کب آئی تھی فصل گل ہر پھول اپنی شاخ سے ٹوٹا ہوا سا ہے چل چل کے تھک گیا ہے کہ منزل نہیں کوئی کیوں وقت ایک موڑ پہ ٹھہرا ہوا سا ہے کیا حادثہ ہوا ہے جہاں میں کہ آج پھر چہرہ ہر ایک شخص کا اترا ہوا سا ...

مزید پڑھیے

تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو

تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو کب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کو میرے حصے کی زمیں بنجر تھی میں واقف نہ تھا بے سبب الزام میں دیتا رہا برسات کو کیسی بستی تھی جہاں پر کوئی بھی ایسا نہ تھا منکشف میں جس پہ کرتا اپنے دل کی بات کو ساری دنیا کے مسائل یوں مجھے درپیش ...

مزید پڑھیے

دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئے

دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئے بس ایک بار میرا کہا مان لیجئے اس انجمن میں آپ کو آنا ہے بار بار دیوار و در کو غور سے پہچان لیجئے مانا کہ دوستوں کو نہیں دوستی کا پاس لیکن یہ کیا کہ غیر کا احسان لیجئے کہئے تو آسماں کو زمیں پر اتار لائیں مشکل نہیں ہے کچھ بھی اگر ٹھان لیجئے

مزید پڑھیے

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو میں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو ہر ایک نقش تمنا کا ہو گیا دھندلا ہر ایک زخم مرے دل کا بھر گیا یارو بھٹک رہی تھی جو کشتی وہ غرق آب ہوئی چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا یارو وہ کون تھا وہ کہاں کا تھا کیا ہوا تھا اسے سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو میں ...

مزید پڑھیے

طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہوا

طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہوا وہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہوا سناؤں کیسے کہ سورج کی زد میں ہیں سب لوگ جو حال رات کو پرچھائیوں کے گھر کا ہوا صدا کے سائے میں سناٹوں کو پناہ ملی عجب کہ شہر میں چرچا نہ اس خبر کا ہوا خلا کی دھند ہی آنکھوں پہ مہربان رہی حریف کوئی افق کب مری نظر کا ...

مزید پڑھیے

تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھا

تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھا میں ورنہ یوں ہجر سے کب گھبرانے والا تھا جان بوجھ کر سمجھ کر میں نے بھلا دیا ہر وہ قصہ جو دل کو بہلانے والا تھا مجھ کو ندامت بس اس پر ہے لوگ بہت خوش ہیں اس لمحے کو کھو کر جو پچھتانے والا تھا یہ تو خیر ہوئی دریا نے رخ تبدیل کیا میرا شہر بھی اس ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو اس شمع فروزاں ...

مزید پڑھیے

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیار شب سے سر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے مجھ کو اپنا نہ کہا اس کا گلا تجھ سے نہیں اس کا شکوہ ہے کہ بیگانہ سمجھتی کیوں ہے تجھ سے مل کر بھی نہ تنہائی مٹے گی میری دل میں رہ رہ کے یہی ...

مزید پڑھیے

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا یہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا یہاں سے گزرے ہیں گزریں گے ہم سے اہل وفا یہ راستہ نہیں پرچھائیوں کے چلنے کا کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائے یہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس کے ہاتھوں سے تو پھر کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 717 سے 4657