شاعری

آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا

آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا خوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہوا روح نے پیرہن جسم بدل بھی ڈالا یہ الگ بات کسی بزم میں چرچا نہ ہوا رات کو دن سے ملانے کی ہوس تھی ہم کو کام اچھا نہ تھا انجام بھی اچھا نہ ہوا وقت کی ڈور کو تھامے رہے مضبوطی سے اور جب چھوٹی تو افسوس بھی اس کا نہ ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں

تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیں زندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیں مرکز دیدہ و دل تیرا تصور تھا کبھی آج اس بات پہ کتنی ہنسی آتی ہے ہمیں پھر کہیں خواب و حقیقت کا تصادم ہوگا پھر کوئی منزل بے نام بلاتی ہے ہمیں دل میں وہ درد نہ آنکھوں میں وہ طغیانی ہے جانے کس سمت یہ دنیا ...

مزید پڑھیے

بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے

بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے عمر بھر مجھ کو یہی تشنہ لبی دیکھنا ہے رنج دل کو ہے کہ جی بھر کے نہیں دیکھا تجھے خوف اس کا تھا جو آئندہ کبھی دیکھنا ہے شب کی تاریکی در خواب ہمیشہ کو بند چند دن بعد تو دنیا میں یہی دیکھنا ہے خون کے قطروں نے طوفان اٹھا رکھا ہے اب رگ و پے میں ...

مزید پڑھیے

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے آندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کے آغاز کیوں کیا تھا سفر ان خلاؤں کا پچھتا رہے ہو سبز زمینوں کو چھوڑ کے اک بوند زہر کے لیے پھیلا رہے ہو ہاتھ دیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کے کچھ بھی نہیں جو خواب کی صورت دکھائی دے کوئی نہیں جو ہم کو جگائے ...

مزید پڑھیے

ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیں

ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیں تیرے علاوہ یاد ہمیں سب آتے ہیں جاگتی آنکھوں سے بھی دیکھو دنیا کو خوابوں کا کیا ہے وہ ہر شب آتے ہیں جذب کرے کیوں ریت ہماری اشکوں کو تیرا دامن تر کرنے اب آتے ہیں اب وہ سفر کی تاب نہیں باقی ورنہ ہم کو بلاوے دشت سے جب تب آتے ہیں کاغذ کی کشتی میں دریا ...

مزید پڑھیے

بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی

بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی اک مدت سے ہجر کی لمبی رات نہیں آئی آتی تھی جو روز گلی کے سونے نکڑ تک آج ہوا کیا وہ پرچھائیں سات نہیں آئی مجھ کو تعاقب میں لے آئی اک انجان جگہ خوشبو تو خوشبو تھی میرے ہات نہیں آئی اس دنیا سے ان کا رشتہ آدھا ادھورا ہے جن لوگوں تک خوابوں کی سوغات ...

مزید پڑھیے

دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہو

دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہو خواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہو کیا ہوا اہل جنوں کو کہ دعا مانگتے ہیں شہر میں شور نہ ہو دشت میں ویرانی نہ ہو ڈھونڈتے ڈھونڈتے سب تھک گئے لیکن نہ ملا اک افق ایسا کہ جو دھند کا زندانی نہ ہو غم کی دولت بڑی مشکل سے ملا کرتی ہے سونپ دو ہم کو ...

مزید پڑھیے

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا چہروں کے سمندر سے گزرتے رہے پھر بھی اک عکس کو آئینہ ترستا ہے ہمارا ان لوگوں سے کیا کہیے کہ کیا بیت رہی ہے احوال مگر تو تو سمجھتا ہے ہمارا ہر موڑ پہ پڑتا ہے ہمیں واسطہ اس سے دنیا سے الگ کہنے کو رستہ ہے ہمارا

مزید پڑھیے

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا برہنہ جسم بگولوں کا قتل ہوتا رہا خیال بھی نہیں آیا کسی کو رونے کا صلہ کوئی نہیں پرچھائیوں کی پوجا کا مآل کچھ نہیں خوابوں کی فصل بونے کا بچھڑ کے تجھ سے مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ میری آنکھیں ہیں پتھر کی جسم سونے ...

مزید پڑھیے

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے کل یوں تھا کہ یہ قید زمانی سے تھے بیزار فرصت جنہیں اب سیر مکانی سے نہیں ہے چاہا تو یقیں آئے نہ سچائی پہ اس کی خائف کوئی گل عہد خزانی سے نہیں ہے دہراتا نہیں میں بھی گئے لوگوں کی باتیں اس دور کو نسبت بھی کہانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 716 سے 4657