شاعری

فن کے شجر پر پھل جو لگے ہیں

فن کے شجر پر پھل جو لگے ہیں ان میں زیادہ تر کچے ہیں کیسا یہ کل جگ آیا ہے لوگ پڑوسی سے ڈرتے ہیں جھوٹ ہے سب آئے تھے فسادی یہ تو کرشمے وردی کے ہیں کتنے دانشور ہو بھیا جاننے والے جان رہے ہیں چیخ کے لہجہ بول رہا ہے شعر شہودؔ آفاقی کے ہیں

مزید پڑھیے

آداب زندگی سے بہت دور ہو گیا

آداب زندگی سے بہت دور ہو گیا شہرت ذرا ملی تو وہ مغرور ہو گیا اب رقص خاک و خوں پہ کوئی بولتا نہیں جیسے یہ میرے ملک کا دستور ہو گیا دشمن سے سرحدوں کو بچانا تھا جس کا کام اپنوں کو قتل کرنے پہ مامور ہو گیا گمنام تھا لباس شرافت کی وجہ سے دستار مکر باندھی تو مشہور ہو گیا سورج بھی ...

مزید پڑھیے

برسات کا ادھر ہے دماغ آسمان پر

برسات کا ادھر ہے دماغ آسمان پر چھپر ادھر نہیں ہے ہمارے مکان پر مسجد میں اس کو دیکھ کے حیران رہ گیا تنقید کر رہا تھا جو کل تک اذان پر کاغذ کے بال و پر پہ بھروسہ نہ کیجیئے جانا اگر ہے آپ کو اونچی اڑان پر اب تک رمق حیات کی پیدا نہ ہو سکی کیا میں لہو چھڑکتا رہا ہوں چٹان پر دو چار ...

مزید پڑھیے

ساحل پہ یہ ٹوٹے ہوئے تختے جو پڑے ہیں

ساحل پہ یہ ٹوٹے ہوئے تختے جو پڑے ہیں ٹکرائے ہیں طوفاں سے تلاطم سے لڑے ہیں دل اپنا جلاؤ شب ظلمت کے حریفو کیا غم ہے چراغوں کے اگر قحط پڑے ہیں چڑھنے دو ابھی اور ذرا وقت کا سورج ہو جائیں گے چھوٹے یہی سائے جو بڑے ہیں منزل سے پلٹ آئے ہیں ہم اہل محبت جو سنگ ہدایت تھے وہ رستے میں کھڑے ...

مزید پڑھیے

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا وہ یوں گیا کہ باد صبا یاد آ گئی احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا شاید وہ مل ...

مزید پڑھیے

تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں

تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں میرے جسم کے سارے علاقے جل تھل ہو جائیں ہونٹ ندی سیلاب کا مجھ پہ دروازہ کھولے ہم کو میسر ایسے بھی اک دو پل ہو جائیں دشمن دھند ہے کب سے میری آنکھوں کے درپئے ہجر کی لمبی کالی راتیں کاجل ہو جائیں عمر کا لمبا حصہ کر کے دانائی کے نام ہم بھی اب یہ ...

مزید پڑھیے

بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کو

بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کو آوارہ ہیں اور دشت کا سودا نہیں ہم کو غیروں کی محبت پہ یقیں آنے لگا ہے یاروں سے اگرچہ کوئی شکوہ نہیں ہم کو نیرنگیئ دل ہے کہ تغافل کا کرشمہ کیا بات ہے جو تیری تمنا نہیں ہم کو یا تیرے علاوہ بھی کسی شے کی طلب ہے یا اپنی محبت پہ بھروسا نہیں ہم ...

مزید پڑھیے

امید سے کم چشم خریدار میں آئے

امید سے کم چشم خریدار میں آئے ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے سچ خود سے بھی یہ لوگ نہیں بولنے والے اے اہل جنوں تم یہاں بے کار میں آئے یہ آگ ہوس کی ہے جھلس دے گی اسے بھی سورج سے کہو سایۂ دیوار میں آئے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے تنہائی ہماری کیا سوچ کے ہم وادئ انکار میں آئے

مزید پڑھیے

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو بڑی بھول ہوئی جو چھیڑ دیا کئی سازوں کو کوئی نیا مکین نہیں آیا تو حیرت کیا کبھی تم نے کھلا چھوڑا ہی نہیں دروازوں کو کبھی پار بھی کر پائیں گی سکوت کے صحرا کو درپیش ہے کتنا اور سفر آوازوں کو مجھے کچھ لوگوں کی رسوائی منظور نہیں نہیں عام کیا جو ...

مزید پڑھیے

یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والی

یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والی فرصت عشق میسر کہاں پہلے والی کوئی دریا ہو کہیں جو مجھے سیراب کرے ایک حسرت ہے جو پوری نہیں ہونے والی وقت کوشش کرے میں چاہوں مگر یاد تری دھندلی ہو سکتی ہے دل سے نہیں مٹنے والی اب مرے خوابوں کی باری ہے یہی لگتا ہے نیند تو چھن چکی کب کی مرے حصے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 715 سے 4657