شاعری

وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو

وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو دل میں رہتا ہے کہاں ڈھونڈنے جاؤں اس کو آج پھر پہلی ملاقات سے آغاز کروں آج پھر دور سے ہی دیکھ کے آؤں اس کو قید کر لوں اسے آنکھوں کے نہاں خانے میں چاہتا ہوں کہ کسی سے نہ ملاؤں اس کو اسے دنیا کی نگاہوں سے کروں میں محفوظ وہ وہاں ہو کہ جہاں دیکھ نہ ...

مزید پڑھیے

تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے

تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے عجب نہیں کہ کسی دن یہ پیاس بھی نہ رہے ہر ایک سمت خلا ہی خلا نظر آئیں خرابۂ دل ویراں میں یاس بھی نہ رہے غم فراق کی تلخی وہ دشت ہے کہ جہاں کوئی قریب تو کیا آس پاس بھی نہ رہے ترا خیال ہی پر تول کر اڑا لے جائے کوئی امید شریک حواس بھی نہ رہے تمام رنگ ...

مزید پڑھیے

میں اکیلا ہوں یہاں میرے سوا کوئی نہیں

میں اکیلا ہوں یہاں میرے سوا کوئی نہیں چل رہا ہوں اور میرا نقش پا کوئی نہیں ذہن کے تاریک گوشوں سے اٹھی تھی اک صدا میں نے پوچھا کون ہے اس نے کہا کوئی نہیں دیکھ کر ہر ایک شے کا فیصلہ کرتے ہیں لوگ آنکھ کی پتلی میں کیا ہے دیکھتا کوئی نہیں کس کو پہچانوں کہ ہر پہچان مشکل ہو گئی خود نما ...

مزید پڑھیے

جان مقدر میں تھی جان سے پیارا نہ تھا

جان مقدر میں تھی جان سے پیارا نہ تھا میرے لیے صبح تھی صبح کا تارا نہ تھا بحر شب و روز میں بہہ گئے تنکے سے ہم موج بلا خیز تھی اور کنارا نہ تھا جان کے دشمن تھے سب لوگ ترے شہر کے عمر کٹی جس جگہ پل بھی گزارا نہ تھا سرد رہی عمر بھر انجمن آرزو خار و خس شوق میں کوئی شرارہ نہ تھا کس کے ...

مزید پڑھیے

یہ کس غم سے عقیدت ہو گئی ہے

یہ کس غم سے عقیدت ہو گئی ہے غم دنیا سے فرصت ہو گئی ہے ہم اپنے حال پر خود رو دیے ہیں کبھی ایسی بھی حالت ہو گئی ہے اگر دو دل کہیں بھی مل گئے ہیں زمانے کو شکایت ہو گئی ہے کہاں میں اور کہاں آلام ہستی مگر جینا تو عادت ہو گئی ہے ذرا سا غم ہوا اور رو دیے ہم بڑی نازک طبیعت ہو گئی ہے خبر ...

مزید پڑھیے

حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے

حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے وہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے یوں تو ہر چیز سلامت ہے مری دنیا میں اک تعلق ہے کہ جو ٹوٹا ہوا لگتا ہے اے مرے جذب دروں مجھ میں کشش ہے اتنی جو خطا ہوتا ہے وہ تیر بھی آ لگتا ...

مزید پڑھیے

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا ...

مزید پڑھیے

جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی

جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی اب دل کو کسی کروٹ آرام نہیں ملتا اک عمر کا رونا ہے دو دن کی شناسائی اب وسعت عالم بھی کم ہے مری وحشت کو کیا مجھ کو ڈرائے گی اس دشت کی پہنائی جی میں ہے کہ اس در سے اب ہم نہیں اٹھیں گے جس در پہ نہ جانے کی سو بار قسم ...

مزید پڑھیے

یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے

یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے جتنی امیدیں ہیں وابستہ ہیں تنہا تجھ سے ہم نے پہلی ہی نظر میں تجھے پہچان لیا مدتوں میں نہ ہوئے لوگ شناسا تجھ سے شب تاریک فروزاں تری خوشبو سے ہوئی صبح کا رنگ ہوا اور بھی گہرا تجھ سے بے تعلق بھی ہیں ہر رنگ ہر انداز سے ہم وہ تعلق بھی ہے قائم ...

مزید پڑھیے

اس بھرے شہر میں آرام میں کیسے پاؤں

اس بھرے شہر میں آرام میں کیسے پاؤں جاگتے چیختے رنگوں کو کہاں لے جاؤں پیرہن چست ہوا سست کھڑی دیواریں اسے چاہوں اسے روکوں کہ جدا ہو جاؤں حسن بازار کی زینت ہے مگر ہے تو سہی گھر سے نکلا ہوں تو اس چوک سے بھی ہو آؤں لڑکیاں کون سے گوشے میں زیادہ ہوں گی نہ کروں بات مگر پیڑ تو گنتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 713 سے 4657