عشق کے شہر کی کچھ آب و ہوا اور ہی ہے
عشق کے شہر کی کچھ آب و ہوا اور ہی ہے اس کے صحرا کو جو دیکھا تو فضا اور ہی ہے تجھ سے کچھ کام نہیں دور ہو آگے سے نسیم وا کرے غنچۂ دل کو وہ صبا اور ہی ہے نبض پر میری عبث ہاتھ تو رکھتا ہے طبیب یہ مرض اور ہے اور اس کی دوا اور ہی ہے گل تو گلشن میں ہزاروں نظر آئے لیکن اس کے چہرے کو جو دیکھا ...