کیا ستاتے ہو رہو بندہ نواز
کیا ستاتے ہو رہو بندہ نواز کہ نہیں خوب یہ خو بندہ نواز بے سبب بے وجہ و بے تقصیر اس قدر غصہ نہ ہو بندہ نواز ظلم ناحق نہ کرو کوئی دن جیو اور جیونے دو بندہ نواز مے کشو بیچ نہ بیٹھو ہرگز خون میرا نہ پیو بندہ نواز عطر کو مل کے نہ آؤ ہم پاس ذبح کرتی ہے یہ بو بندہ نواز کب تلک اپنی کہے ...