شاعری

آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئے

آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئے نیند آ گئی تو غم کے نظارے چلے گئے دل تھا کسی کی یاد میں مصروف اور ہم شیشے میں زندگی کو اتارے چلے گئے اللہ رے بے خودی کہ ہم ان کے ہی رو بہ رو بے اختیار انہی کو پکارے چلے گئے مشکل تھا کچھ تو عیش کی بازی کا جیتنا کچھ جیتنے کے خوف سے ہارے چلے ...

مزید پڑھیے

کسی کو جب نگاہوں کے مقابل دیکھ لیتا ہوں

کسی کو جب نگاہوں کے مقابل دیکھ لیتا ہوں تو پہلے سر جھکا کے حالت دل دیکھ لیتا ہوں مآل جستجوئے ذوق کامل دیکھ لیتا ہوں اٹھاتے ہی قدم آثار منزل دیکھ لیتا ہوں میں تجھ سے اور لطف خاص کا طالب معاذ اللہ ستمگر اس بہانے سے ترا دل دیکھ لیتا ہوں جو موجیں خاص کر چشم و چراغ دام طوفاں ہیں میں ...

مزید پڑھیے

وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گے

وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گے مرا افسانہ دہرایا کریں گے ستم اپنے جو یاد آیا کریں گے تو دل ہی دل میں پچھتایا کریں گے غرور حسن کو باطل سمجھ کر سراپا عشق بن جایا کریں گے نہ ہوگی تاب ضبط غم جب ان کو یقیناً اشک بھر لایا کریں گے قیامت ہوں گی نازک دل کی آہیں ہر اک ذرے کو تڑپایا کریں ...

مزید پڑھیے

زندگی ان کی چاہ میں گزری

زندگی ان کی چاہ میں گزری مستقل درد و آہ میں گزری رحمتوں سے نباہ میں گزری عمر ساری گناہ میں گزری ہائے وہ زندگی کی اک ساعت جو تری بارگاہ میں گزری سب کی نظروں میں سر بلند رہے جب تک ان کی نگاہ میں گزری میں وہ اک رہرو محبت ہوں جس کی منزل بھی راہ میں گزری اک خوشی ہم نے دل میں چاہی ...

مزید پڑھیے

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا ان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گا سر کو کبھی قدم پہ جھکایا نہ جائے گا ان کے نقوش پا کو مٹایا نہ جائے گا بے وجہ انتظار دکھانے سے فائدہ کہہ دیجئے کہ سامنے آیا نہ جائے گا آنکھوں میں اشک قلب پریشاں نظر اداس اس طرح ان کو چھوڑ کے جایا نہ جائے گا وہ خود ...

مزید پڑھیے

نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے

نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے انہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہے مری شام الم صبح مسرت ہوتی جاتی ہے کہ ہر لحظہ ترے ملنے کی صورت ہوتی جاتی ہے نگاہیں مضطرب اترا ہوا چہرہ زباں ساکت جو تھی اپنی وہی اب ان کی حالت ہوتی جاتی ہے نہ کیوں ہوں اس ادا پر عشق کی خودداریاں ...

مزید پڑھیے

ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھے

ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھے مشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھے کوشش تو بہت کی ہم نے مگر پایا نہ غم ہستی سے مفر ویرانئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے ہستی کے تلاطم میں پنہاں تھے عیش و طرب کے دھارے بھی افسوس ہمی سے بھول ہوئی اشکوں پہ قناعت کر ...

مزید پڑھیے

ان سے امید رو نمائی ہے

ان سے امید رو نمائی ہے کیا نگاہوں کی موت آئی ہے حسن مصروف خود نمائی ہے عشق کا دور ابتدائی ہے دل نے غم سے شکست کھائی ہے عمر رفتہ تری دہائی ہے دل کی بربادیوں پہ نازاں ہوں فتح پا کر شکست کھائی ہے میرے معبد نہیں ہیں دیر و حرم احتیاطاً جبیں جھکائی ہے وہ ہوا دے رہے ہیں دامن کی ہائے ...

مزید پڑھیے

نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتا

نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتا وہ کیا گئے کہ بہاروں میں جی نہیں لگتا شب فراق کو اے چاند آ کے چمکا دے نظر اداس ہے تاروں میں جی نہیں لگتا غم حیات کے مارے تو ہم بھی ہیں لیکن غم حیات کے ماروں میں جی نہیں لگتا نہ پوچھ مجھ سے ترے غم میں کیا گزرتی ہے یہی کہوں گا ہزاروں میں جی نہیں ...

مزید پڑھیے

دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے

دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے تو نہیں ہے تری تصویر تو ہے ہم سفر چھوڑ گئے مجھ کو تو کیا ساتھ میرے مری تقدیر تو ہے قید سے چھوٹ کے بھی کیا پایا آج بھی پاؤں میں زنجیر تو ہے کیا مجال ان کی نہ دیں خط کا جواب بات کچھ باعث تاخیر تو ہے پرسش حال کو وہ آ ہی گئے کچھ بھی ہو عشق میں تاثیر تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 695 سے 4657