آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئے
آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئے نیند آ گئی تو غم کے نظارے چلے گئے دل تھا کسی کی یاد میں مصروف اور ہم شیشے میں زندگی کو اتارے چلے گئے اللہ رے بے خودی کہ ہم ان کے ہی رو بہ رو بے اختیار انہی کو پکارے چلے گئے مشکل تھا کچھ تو عیش کی بازی کا جیتنا کچھ جیتنے کے خوف سے ہارے چلے ...