شاعری

غم کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں

غم کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں آسماں رنگ بدلتا ہی نہیں دے دیا جاتا ہے قبضہ دل پر دل تو سینے سے نکلتا ہی نہیں کہتے ہیں اونچی اڑانوں والے جو گرا پھر وہ سنبھلتا ہی نہیں ہے خوشامد ہی سے آمد لیکن وہ خوشامد سے پگھلتا ہی نہیں گاؤں بھر خوف زدہ ہے اس سے جو کبھی گھر سے نکلتا ہی نہیں کسی ...

مزید پڑھیے

یہ دل ہر اک نئی کوشش پہ یوں دھڑکتا ہے

یہ دل ہر اک نئی کوشش پہ یوں دھڑکتا ہے کہ جیسے کوئی نتیجہ نکلنے والا ہے ہمیں خبر ہے کہ ہے کون کتنے پانی میں یہ شہر سطح سمندر سے کتنا اونچا ہے سراب پیاس بجھاتا نہیں کبھی لیکن یہ بات خوب سمجھتا ہے کون پیاسا ہے تمہارے ہاتھ میں تقدیر ہے اجالوں کی چراغ کو یہ خبر کیا کہاں اندھیرا ...

مزید پڑھیے

یہ سلسلہ غموں کا نہ جانے کہاں سے ہے

یہ سلسلہ غموں کا نہ جانے کہاں سے ہے اہل زمیں کو شکوہ مگر آسماں سے ہے یادوں کی رہ گزار سے خوابوں کے شہر تک اک سلسلہ ضرور ہے لیکن کہاں سے ہے میری کتاب زیست کو ایسے نہ پھینکیے روشن کسی کا نام اسی داستاں سے ہے منزل نہ پائی میں نے مگر یہ تو کھل گیا رشتہ مرے سفر کا کسی کارواں سے ...

مزید پڑھیے

دل جسے چاہے وہی چہرہ جبیں لگتا ہے

دل جسے چاہے وہی چہرہ جبیں لگتا ہے اپنے سینے کا ہر ایک داغ حسیں لگتا ہے میں کہیں بھی ہوں مگر ہوں اسی محفل کا چراغ وہ جہاں بھی ہو مرے دل کا مکیں لگتا ہے دوسری بار نہ میں پہونچا وہاں اور نہ وہ پھر بھی میلہ ہے کہ ہر سال وہیں لگتا ہے سرحد غم کے علاقوں میں ادھر ہو کہ ادھر مجھ کو ہر دشت ...

مزید پڑھیے

متاع و مال جو لے جائے تو غنیمت ہے

متاع و مال جو لے جائے تو غنیمت ہے وہ اپنی جان بچا لائے تو غنیمت ہے پھلوں کا آئے گا موسم تو پھل بھی آئیں گے درخت دیتا رہے سائے تو غنیمت ہے کبھی تو عمر گزر جاتی ہے نہیں آتی شعور وقت پہ آ جائے تو غنیمت ہے کبھی جو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ابھرے سماعتوں سے نہ ٹکرائے تو غنیمت ہے یہ غم جو ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی رہ گزر سے خیالوں کی راہ سے

خوابوں کی رہ گزر سے خیالوں کی راہ سے تجھ تک پہنچ رہا ہوں اجالوں کی راہ سے میں جانتا ہوں راستہ غزلوں کے شہر کا آیا ہوں چل کے زہرہ جمالوں کی راہ سے میں رفتہ رفتہ کرب کی منزل تک آ گیا دل کا قرار ڈھونڈنے والوں کی راہ سے بے شکل کیفیت کے ہیں چہرے جدا جدا کچھ بات بن رہی ہے مثالوں کی راہ ...

مزید پڑھیے

نہ صرف یہ کہ زمانے کا ڈھب دکھائی دے

نہ صرف یہ کہ زمانے کا ڈھب دکھائی دے غزل تو وہ ہے کہ اندر کا سب دکھائی دے بدن کی اس کے کساوٹ ہی کیا قیامت ہے کسی لباس میں دیکھو غضب دکھائی دے میں اپنی عید منا لوں مجھے کسی سے کیا نہ جانے پھر وہ مرا چاند کب دکھائی دے میں اس کو دیکھوں کچھ ایسا کہ دیکھ بھی نہ سکوں وہ اپنے آپ میں چھپ ...

مزید پڑھیے

آوازوں کے جال بچھائے جاتے ہیں

آوازوں کے جال بچھائے جاتے ہیں کھونے والے اب کیا پائے جاتے ہیں اچھے اچھے لوگوں کی کیا پوچھتے ہو یاد کئے جاتے ہیں بھلائے جاتے ہیں ہنس ہنس کر جو پھول کھلائے تھے تم نے اس موسم میں سب مرجھائے جاتے ہیں سورج جیسے جیسے ڈھلتا جاتا ہے اس کی دیواروں تک سائے جاتے ہیں رشتوں پر اک ایسا وقت ...

مزید پڑھیے

غلط ہے سب تو یہ رسوائی کیسی

غلط ہے سب تو یہ رسوائی کیسی جو پربت بن گئی وہ رائی کیسی کبھی خالی سمندر کر کے دیکھیں نظر آتی ہے کہ گہرائی کیسی لگا ہے چاند کو یہ داغ کیسا چھپی ہے داغ میں یہ کھائی کیسی مری یہ بات سن لیں دوربینیں نہیں ہوں آنکھ تو بینائی کیسی اسی کی ذات کے ہیں سب کرشمے بزرگوں پھر یہ ہاتھا پائی ...

مزید پڑھیے

اک آس کا دیا تو دل میں جلاتے جاؤ

اک آس کا دیا تو دل میں جلاتے جاؤ کس موڑ پر ملوگے یہ تو بتاتے جاؤ اس در سے جا ملیں گے یہ جتنے راستے ہیں کانٹے ہٹاتے جاؤ کلیاں بچھاتے جاؤ پتھر میں بھی چھپا ہے نغمات کا خزانہ یہ شرط ہے کہ اس تک تم گنگناتے جاؤ جب میکدے سے لوٹو پھر کیا کسی سے چھپنا جب میکدے کو جاؤ چھپتے چھپاتے جاؤ اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 680 سے 4657