شاعری

دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا

دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا رشتوں کے ٹوٹے شیشے کو پھر جوڑ کیوں دیا دہلیز پر جلا کے سر شام اک چراغ دروازہ تم نے گھر کا کھلا چھوڑ کیوں دیا گلدان میں سجے ہوئے نقلی گلاب پر اک بد حواس تتلی نے دم توڑ کیوں دیا طوفاں سے لڑ رہا تھا وہ ساحل کے واسطے ساحل ملا تو ناؤ کا رخ موڑ کیوں ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ لرزتے رہے آنسو کی طرح ہم

پلکوں پہ لرزتے رہے آنسو کی طرح ہم گھر میں ترے مہکا کئے خوشبو کی طرح ہم سورج کے لئے چھوڑا تھا اس نے ہمیں پھر بھی راتوں کو ستاتے رہے جگنو کی طرح ہم آتے رہے جاتے رہے کشتی کے مسافر پیروں سے لپٹتے رہے بالو کی طرح ہم ریکھا ہے کھنچی اور نہ ہے سیتا کوئی گھر میں اس شہر میں کیوں پھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے

کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے تمام شہر میں جگنو چمک رہے ہوں گے چھپا کے رکھے ہیں کپڑوں کے بیچ میں اس نے مرے خطوط یقیناً مہک رہے ہوں گے کھلی ہے دھوپ کئی دن کے بعد آنگن میں پھر الگنی پہ دوپٹے لٹک رہے ہوں گے وہ چھت پہ بال سکھانے کو آ گئی ہوگی نہ جانے اب کہاں بادل بھٹک رہے ہوں ...

مزید پڑھیے

زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی

زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی موت نے چھو کر جو دیکھا ایک مٹھی خاک تھی جاگتی آنکھوں کے سپنے دل نشیں تو تھے مگر میرے ہر اک خواب کی تعبیر ہیبت ناک تھی آج کانٹے بھی چھپائے ہیں لبادوں میں بدن اک زمانے میں تو فصل گل بھی دامن چاک تھی تھا ہمیں بھی ہر قدم پہ ناک کٹ جانے کا ڈر ان ...

مزید پڑھیے

سنگ مجنوں پہ لڑکپن میں اٹھایا کیوں تھا

سنگ مجنوں پہ لڑکپن میں اٹھایا کیوں تھا یاد غالب کی طرح سر مجھے آیا کیوں تھا بات اب یہ نہیں کیوں چھوڑا تھا اس نے مجھ کو بات تو یہ ہے کہ وہ لوٹ کے آیا کیوں تھا کتنے معصوم صفت لوگ تھے سمجھے ہی نہیں اس نے پر توڑ کے تتلی کو اڑایا کیوں تھا جس کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے پتھر کل تک اس نے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا زہر اب پی رہا تھا مگر لب کشا نہ تھا کانٹوں سے جسم چھلنی ہے میرا اسی لئے پھولوں سے پیار کرنے کا کچھ تجربہ نہ تھا لاکھوں تماش بین ہیں اور ہم صلیب پر اک وقت وہ تھا کوئی ہمیں دیکھتا نہ تھا کیا جانے اس کی آنکھ میں کیوں اشک آ گئے چہرے پہ میرے کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

پیار میں اس نے تو دانستہ مجھے کھویا تھا

پیار میں اس نے تو دانستہ مجھے کھویا تھا جانے کیوں پھر وہ اکیلے میں بہت رویا تھا اس کو بھی نیند نہیں آئی بچھڑ کر مجھ سے آخری بار وہ بانہوں میں مری سویا تھا میرے اشکوں میں رہا وہ بھی برابر کا شریک میں نے یہ بوجھ اکیلے ہی نہیں ڈھویا تھا رات بھر تجھ کو سناتا رہا میرا قصہ رات بھر ...

مزید پڑھیے

بادشاہوں کی طرح اور نہ وزیروں کی طرح

بادشاہوں کی طرح اور نہ وزیروں کی طرح ہم تو درویش تھے آئے یہاں پیروں کی طرح راج محلوں میں کہاں ڈھونڈھ رہے ہو ہم کو ہم تو اجمیر میں رہتے ہیں فقیروں کی طرح ہم بھی اس ملک کی تقدیر کا اک حصہ ہیں ہم نہ مٹ پائیں گے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جانفشانی سے بہت ہم نے جڑے ہیں آنسو مادر ہند ترے ...

مزید پڑھیے

تیری نظر کے سامنے یہ دل نہیں رہا

تیری نظر کے سامنے یہ دل نہیں رہا آئینہ آئنہ کے مقابل نہیں رہا اچھا ہوا کہ وقت سے پہلے بچھڑ گیا بربادیوں میں تو مری شامل نہیں رہا مجھ کو سمجھ رہا تھا جو ماضی کی اک کتاب وہ بھی نئے نصاب میں شامل نہیں رہا لوٹ آئیں پھر سے کشتیاں طوفاں سے ہار کر ویراں بہت دنوں مرا ساحل نہیں ...

مزید پڑھیے

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے یہ شاخ مجھ کو مری غم شناس لگتی ہے کسی کتاب کے اندر دبی ہوئی تتلی اسی کتاب کا اک اقتباس لگتی ہے وہ موت ہی ہے جو دیتی ہے سو طرح کے لباس یہ زندگی ہے کہ جو بے لباس لگتی ہے تھی قہقہوں کی تمنا تو آ گئے آنسو خوشی کی آرزو غم کی اساس لگتی ہے اٹھا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 668 سے 4657