شاعری

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے اس قید سے چھٹنے کی تمنا بھی عجب ہے اس عرصۂ محشر میں خموشی بھی صدا ہے ٹوٹی ہوئی قبروں میں بڑا شور و شعب ہے سورج کو یہ ضد اس کی اک بوند نہ رہ جائے ہونٹوں کو فقط پیاس بجھانے کی طلب ہے چہرے پہ تھکن سانس کی زنجیر پریشاں آنکھوں میں مگر اب بھی وہی غیظ و ...

مزید پڑھیے

شہر جاں میں اضطراب سوز فن دیکھے گا کون

شہر جاں میں اضطراب سوز فن دیکھے گا کون میرے اندر ایک قلزم موجزن دیکھے گا کون مضمحل سوچوں کے اس جھلسے ہوئے ماحول میں تیرا حسن قامت سرو سمن دیکھے گا کون رات نے آنکھوں میں بھر دیں اس قدر تاریکیاں صبح تو ہوگی مگر پہلی کرن دیکھے گا کون اپنی اپنی آگ میں آنکھیں جھلس کر رہ گئیں تیرے ...

مزید پڑھیے

لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے

لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے ہمیں تو یہ تماشے سب کے سب اچھے نہیں لگتے اجالے میں ہمیں سورج بہت اچھا نہیں لگتا ستارے بھی سر دامان شب اچھے نہیں لگتے تو یہ ہوتا ہے ہم گھر سے نکلنا چھوڑ دیتے ہیں کبھی اپنی گلی کے لوگ جب اچھے نہیں لگتے یہ کہہ دینا کہ ان سے کچھ گلہ شکوہ نہیں ...

مزید پڑھیے

بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے

بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے دکھائی دیتا ہے پتھر کے آر پار مجھے مرا خدا ہے تو مجھ میں اتار دے مجھ کو کہ ایک عمر سے اپنا ہے انتظار مجھے میں لفظ لفظ بکھرتا رہا فضاؤں میں مری صدا سے وہ کرتا رہا شکار مجھے جو ڈھال دیتے ہیں پرچھائیوں کو پتھر میں اب ایسے سخت دلوں میں نہ کر شمار ...

مزید پڑھیے

بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ

بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ ڈوبتی آنکھوں سے اپنے شہر کا منظر نہ دیکھ کیا پتہ زنجیر میں ڈھل جائے بستر کی شکن یہ سفر کا وقت ہے اب جانب بستر نہ دیکھ خاک و خوں میراث تیری خاک و خوں تیرا نصیب اس زیاں خانے میں اپنے پاؤں کا چکر نہ دیکھ تو نے جو پرچھائیاں چھوڑیں وہ صحرا بن ...

مزید پڑھیے

شام آئی صحن جاں میں خوف کا بستر لگا

شام آئی صحن جاں میں خوف کا بستر لگا مجھ کو اپنی روح کی ویرانیوں سے ڈر لگا ایک لمحے کی شرارت تھی کہ ہر لمحہ مجھے آپ اپنی سمت سے آتا ہوا پتھر لگا دھند سی پھیلی ہوئی تھی آسماں پر دور تک موجۂ ریگ رواں مجھ کو ترا پیکر لگا خانۂ دل کو سجانا بھی ہے اک شوق فضول کون جھانکے گا یہاں یہ آئینے ...

مزید پڑھیے

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو

بے سمت یہ سفر ہے ذرا دیکھ کر چلو انجان رہ گزر ہے ذرا دیکھ کر چلو گزرا ادھر سے جو بھی وہ پتھر میں ڈھل گیا جادو کا یہ نگر ہے ذرا دیکھ کر چلو پتھر پگھل رہے ہیں تمازت سے دھوپ کی یہ دشت بے شجر ہے ذرا دیکھ کر چلو کرنے لگے ہیں رقص بگولے ہواؤں میں طوفان تیز تر ہے ذرا دیکھ کر چلو دامن ...

مزید پڑھیے

مہتابوں کا تو شہزادہ میرے ساتھ اندھیرے ہیں

مہتابوں کا تو شہزادہ میرے ساتھ اندھیرے ہیں شہر و شبستاں تیرے ہیں صحرا و بیاباں میرے ہیں میرے اجڑے دل میں ادھورے ارمانوں کے ڈیرے ہیں جاگتی آنکھوں میں جیسے ٹوٹے سپنوں کے گھیرے ہیں بے مفہومی دھندلے پیکر بکھرے بکھرے خواب و خیال اپنی باہوں کے حلقے میں جیسے مجھ کو گھیرے ہیں دھوپ ...

مزید پڑھیے

سچ بولنے کے جرم میں نیزے پہ سر رہا

سچ بولنے کے جرم میں نیزے پہ سر رہا قاتل بہ عز و جاہ بھی نا معتبر رہا کیا بارش بلا تھی کہ سب کچھ بہا گئی اچھا ہوا ملنگ بے دیوار و در رہا یا رب خطا معاف کہاں ڈھونڈھتا تجھے میں اپنی ہی تلاش میں شام و سحر رہا آزاد ہو چکا تھا قفس سے تو کیا ہوا اڑتا کہاں پرند جو بے بال و پر رہا چاروں ...

مزید پڑھیے

سلسلے پیار کے کچھ اور گھٹیں گے شاید

سلسلے پیار کے کچھ اور گھٹیں گے شاید فاصلے دل کے ابھی اور بڑھیں گے شاید اپنی ہی لاش اٹھائے ہوئے کوچہ کوچہ اپنے کاندھے پہ لئے لوگ پھریں گے شاید بارش سنگ ہمارے ہی سروں پر ہوگی اور پھر سر بھی ہمارے ہی کٹیں گے شاید اس زمیں پر ہے یہ صدیوں کی نشانی لیکن اس کے آثار مگر اب کے مٹیں گے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 651 سے 4657