شاعری

آنا اسی کا بزم سے جانا اسی کا ہے

آنا اسی کا بزم سے جانا اسی کا ہے کس کو پتہ نہیں کہ زمانا اسی کا ہے اے مطلع ملال ہمارے لیے بھی کچھ تاروں بھری یہ رات خزانا اسی کا ہے اس گھر میں کوئی چیز کسی اور کی نہیں یہ پھول یہ چراغ فسانا اسی کا ہے اک عہد کر لیا تھا کبھی بھول چوک میں سانسوں کا یہ وبال بہانا اسی کا ہے اب اس گلی ...

مزید پڑھیے

کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے

کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے عجیب شخص تھا جس کے عذاب ڈھوتے رہے کوئی تو بات تھی ایسی کہ اس تماشے پر ہنسی بھی آئی مگر منہ چھپا کے روتے رہے ہمی کو شوق تھا دنیا کے دیکھنے کا بہت ہم اپنی آنکھوں میں خود سوئیاں چبھوتے رہے بس اپنے آپ کو پانے کی جستجو تھی کہ ہم خراب ہوتے رہے اور خود ...

مزید پڑھیے

سورج دھیرے دھیرے پگھلا پھر تاروں میں ڈھلنے لگا

سورج دھیرے دھیرے پگھلا پھر تاروں میں ڈھلنے لگا میرے اندر کا سناٹا جاگ کے آنکھیں ملنے لگا شام نے برف پہن رکھی تھی روشنیاں بھی ٹھنڈی تھیں میں اس ٹھنڈک سے گھبرا کر اپنی آگ میں جلنے لگا سارا موسم بدل چکا تھا پھول بھی تھے اور آگ بھی تھی رات نے جب یہ سوانگ رچایا چاند بھی روپ بدلنے ...

مزید پڑھیے

ہر نقش نوا لوٹ کے جانے کے لیے تھا

ہر نقش نوا لوٹ کے جانے کے لیے تھا جو بھول چکا ہوں وہ بھلانے کے لیے تھا کچھ بھید زمانے کے بھی مجھ پر نہ کھلے تھے کچھ میں بھی ریاکار زمانے کے لیے تھا کچھ میں نے بھی بے وجہ ہنسی اس کی اڑائی کچھ وہ بھی مری جان جلانے کے لیے تھا کچھ لوگ جزیروں پہ کھڑے تھے سو کھڑے ہیں سیلاب سفینوں کو ...

مزید پڑھیے

پرچھائیوں کی بات نہ کر رنگ حال دیکھ

پرچھائیوں کی بات نہ کر رنگ حال دیکھ آنکھوں سے اب ہوا‌ و ہوس کا مآل دیکھ دو شیر جس کے قہر کی جنگل میں دھوم تھی میری نشست گاہ میں اب اس کی کھال دیکھ خوشبو کی طرح گونج اٹھا حرف آگہی اے دل ذرا حصار نفس کا زوال دیکھ تجھ سے قریب آئے تو اپنی خبر نہ تھی دوری کا یہ عذاب برنگ وصال ...

مزید پڑھیے

تیرگی چاند کو انعام وفا دیتی ہے

تیرگی چاند کو انعام وفا دیتی ہے رات بھر ڈوبتے سورج کو صدا دیتی ہے میں نے چاہا تھا کہ لفظوں میں چھپا لوں خود کو خامشی لفظ کی دیوار گرا دیتی ہے کوئی سایہ تو ملا دھوپ کے زندانی کو میری وحشت تری چاہت کو دعا دیتی ہے کتنی صدیوں کے دریچے میں ہے بس ایک وجود زندگی سانس کو تلوار بنا دیتی ...

مزید پڑھیے

روز و شب کی گتھیاں آنکھوں کو سلجھانے نہ دے

روز و شب کی گتھیاں آنکھوں کو سلجھانے نہ دے اور جانے کے لیے اٹھوں تو وہ جانے نہ دے سرمئی گہرا خلا بے جان لمحوں کا غبار میں نہ کہتا تھا گل منظر کو مرجھانے نہ دے یا دل وحشی پہ یوں احساس کی یورش نہ ہو یا بھری آبادیوں کو ایسے ویرانے نہ دے آرزو کے قہر سے سانسوں کی کشتی کو بچا بادبانوں ...

مزید پڑھیے

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں ہم لوگ کسی اور زمانے کے نہیں ہیں اک دور کنارا ہے وہیں جا کے رکیں گے جتنے بھی یہاں گھر ہیں ٹھکانے کے نہیں ہیں یوں جاگتے رہنا ہے تو آنکھوں میں ہماری جو خواب چھپے ہیں نظر آنے کے نہیں ہیں دل ہے تو یہ دولت کبھی معدوم نہ ہوگی یہ درد کسی اور خزانے ...

مزید پڑھیے

کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں

کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں نہ جانے کون ہے جس کی نگہبانی میں رہتے ہیں زمیں سے آسماں تک اپنے ہونے کا تماشا ہے یہ سارے سلسلے اک لمحۂ فانی میں رہتے ہیں سویرا ہوتے ہوتے روز آ جاتے ہیں ساحل پر سفینے رات بھر دریا کی طغیانی میں رہتے ہیں پتا آنکھیں کو ملتا ہے یہیں سب ...

مزید پڑھیے

کیوں پریشان ہوا جاتا ہے دل کیا جانے

کیوں پریشان ہوا جاتا ہے دل کیا جانے کیسا پاگل ہے کہ پانی کو بھی صحرا جانے میں وہ آوارہ کہ بادل بھی خفا ہیں مجھ سے تو زمانے کو بھی ٹھہرا ہوا لمحہ جانے دھوپ کی گرد فضاؤں میں دلوں میں تابوت ہر نفس خود کو بس اک آگ کا دریا جانے اوس کی بوند بھی اب سنگ صفت لگتی ہے پھول کے باغ کو دل آگ کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 650 سے 4657