شاعری

مری گہرائیاں پل بھر میں وہ نایاب کر دے گا

مری گہرائیاں پل بھر میں وہ نایاب کر دے گا مجھے وہ بازوؤں میں لے گا اور پایاب کر دے گا عجب انداز ہے اس گل بدن کے پیار کرنے کا مجھے پاتال تک لے جا کے محو خواب کر دے گا وہ جب چاہے جسے چاہے غرور آشنائی دے نظر بھر کر جسے دیکھے گا وہ سرخاب کر دے گا سنا ہے گل کی رعنائی رہے گی جوں کی توں ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا میں حقیقت پسندی کو سولی چڑھانا نہیں چاہتا در بدر ہوں تو شعر و سخن کے لیے یا شکم کے لیے ورنہ میں گھر سے باہر گلی تک بھی آنا نہیں چاہتا میں نے منت نہیں مان رکھی درختوں سے گرتا رہوں میں کسی شاخ پر کوئی تنکا سجانا نہیں چاہتا ہو گئی ہے ...

مزید پڑھیے

جینے کو ایک آدھ بہانہ کافی ہوتا ہے

جینے کو ایک آدھ بہانہ کافی ہوتا ہے سچا ہو تو ایک فسانہ کافی ہوتا ہے چاند کو میں نے جب بھی دیکھا یہ احساس ہوا اک صحرا میں اک دیوانہ کافی ہوتا ہے ہم روٹھیں تو گھر کے کمرے کم پڑ جاتے ہیں ہم چاہیں تو ایک سرہانا کافی ہوتا ہے جیتے جی یہ بات نہ مانی مر کے مان گئے سب کہتے تھے ایک ٹھکانہ ...

مزید پڑھیے

کسی خیال کی شبنم سے نم نہیں ہوتا

کسی خیال کی شبنم سے نم نہیں ہوتا عجیب درد ہے بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا میں آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن اس کا سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا تمہارے ساتھ میں چل تو رہا ہوں چلنے کو ہر اک ہجوم میں لیکن میں ضم نہیں ہوتا میں ایسے خطۂ زرخیز کا مکیں ہوں جہاں صنم تراش کو پتھر بہم نہیں ...

مزید پڑھیے

جہاں سے آئے تھے شاید وہیں چلے گئے ہیں

جہاں سے آئے تھے شاید وہیں چلے گئے ہیں وہ صاحبان بشارت کہیں چلے گئے ہیں زمیں پہ رینگتے رہنے کو ہم جو ہیں موجود جو اہل شرم تھے زیر زمیں چلے گئے ہیں بہشت ہے کہ نہیں ہے یہ تو ہی جانتا ہے ترے فقیر بہ نام یقیں چلے گئے ہیں دکھائی دیں گے کبھی وقت کے جھروکوں سے وہ لوگ اب بھی یہیں ہیں ہمیں ...

مزید پڑھیے

ہر جلوۂ حسن بے وطن ہے

ہر جلوۂ حسن بے وطن ہے شاید کہ یہ محفل سخن ہے اک وجد میں جسم و جان فن کار ہے رقص کہ روح کا بدن ہے ہر فکر مثال چہرہ روشن ہر شعر میں بوئے پیرہن ہے کافور کی شمعیں جل اٹھی ہیں ابلاغ خیال کا کفن ہے ہر ساز کی آرزو تکلم ہر ساز سکوت پیرہن ہے

مزید پڑھیے

محفل کا نور مرجع اغیار کون ہے

محفل کا نور مرجع اغیار کون ہے ہم میں ہلاک طالع بیدار کون ہے ہم اپنے سائے سے تو بھڑک کر الف ہوئے دیکھا نہیں مگر پس دیوار کون ہے ہر لمحہ کی کمر پہ ہے اک محمل سکوت لوگو بتاؤ قاتل گفتار کون ہے گھر گھر کھلے ہیں ناز سے سورج مکھی کے پھول سورج کو پھر بھی مانع دیدار کون ہے پتھر اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

آب و گیا سے بے نیاز سرد جبین کوہ پر (ردیف .. ا)

آب و گیا سے بے نیاز سرد جبین کوہ پر گرمی روئے یار کا عکس بھی رائیگاں گیا سطح پہ تازہ پھول ہیں کون سمجھ سکا یہ راز آگ کدھر کدھر لگی شعلہ کہاں کہاں گیا راز خرد ہو کچھ بھی اب راز جنوں تو یہ ہے بس آنکھ تھی بے بصر رہی تیر تھا بے کماں گیا عمر رواں کی منزلیں طول طویل مختصر آپ بھی ہم سفر ...

مزید پڑھیے

جو اترا پھر نہ ابھرا کہہ رہا ہے

جو اترا پھر نہ ابھرا کہہ رہا ہے یہ پانی مدتوں سے بہہ رہا ہے مرے اندر ہوس کے پتھروں کو کوئی دیوانہ کب سے سہہ رہا ہے تکلف کے کئی پردے تھے پھر بھی مرا تیرا سخن بے تہہ رہا ہے کسی کے اعتماد جان و دل کا محل درجہ بہ درجہ ڈھہ رہا ہے گھروندے پر بدن کے پھولنا کیا کرائے پر تو اس میں رہ رہا ...

مزید پڑھیے

دیکھیے بے بدنی کون کہے گا قاتل ہے

دیکھیے بے بدنی کون کہے گا قاتل ہے سایہ آسا جو پھرے اس کو پکڑنا مشکل ہے رگ ہر لفظ سے رستے ہوئے خوں سے گھبرا کر میں جو خاموش رہا سب نے کہا ''تو جاہل ہے'' تجربہ دل میں رہے تو کھلے آنسو بن بن کر اور کاغذ پہ چھلک جائے تو شمع محفل ہے جو بھری دنیا کی سنگین عجائب نگری میں اپنا سر آپ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 628 سے 4657