عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو
عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو یہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو نہ سمجھو دشت شفاخانۂ جنوں ہے یہ جو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو سمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہو اگر سمجھ بھی نہ ہو کور بے عصا سمجھو پڑے ...