شاعری

عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو

عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو یہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو نہ سمجھو دشت شفاخانۂ جنوں ہے یہ جو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو سمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہو اگر سمجھ بھی نہ ہو کور بے عصا سمجھو پڑے ...

مزید پڑھیے

نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا

نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا اے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتا دیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتا آسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا لاکھ دیتا فلک آزار گوارہ تھے مگر ایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا دے دعا وادیٔ پر خار جنوں کو ہر گام داد یہ تیری ہے اے آبلہ پائی دیتا روش ...

مزید پڑھیے

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے موت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہے یہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے کشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وش بید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سوا ہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے ہو ...

مزید پڑھیے

دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں

دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں شمع ہے اک سوزن گم گشتہ اس کاشانہ میں میں ہوں وہ خشت کہن مدت سے اس ویرانے میں برسوں مسجد میں رہا برسوں رہا مے خانہ میں میں وہ کیفی ہوں کہ پانی ہو تو بن جائے شراب جوش کیفیت سے میری خاک کے پیمانہ میں برق خرمن سوز دانائی ہے نافہمی تری ورنہ کیا ...

مزید پڑھیے

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشید ہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے وہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردش کہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتل کہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ...

مزید پڑھیے

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا ہے اور علم و ...

مزید پڑھیے

وقت پیری شباب کی باتیں

وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں in old age talk of youth now seems to be just like the stuff of dreams پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو دل خانہ خراب کی باتیں Lo! there again it takes me see! my ruined heart's advice to me واعظا چھوڑ ذکر نعمت خلد کہہ شراب و کباب کی باتیں on heaven's virtues don't opine O preacher talk of food and wine مہ جبیں یاد ہیں ...

مزید پڑھیے

خوب روکا شکایتوں سے مجھے

خوب روکا شکایتوں سے مجھے تو نے مارا عنایتوں سے مجھے واجب القتل اس نے ٹھہرایا آیتوں سے روایتوں سے مجھے کہتے کیا کیا ہیں دیکھ تو اغیار یار تیری حمایتوں سے مجھے کیا غضب ہے کہ دوست تو سمجھے دشمنوں کی رعایتوں سے مجھے دم گریہ کمی نہ کر اے چشم شوق کم ہے کفایتوں سے مجھے کمیٔ گریہ نے ...

مزید پڑھیے

مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے

مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے would be a joy if you were there face to face with me then flowers would, in springtime, seek you longingly مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے if the joys of death in love, paramours narrate Jesus and Khizr too will for death eagerly wait غرض تھی کیا ترے تیروں کو ...

مزید پڑھیے

جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے

جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے آراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے زلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کام دل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے ہو قید تفکر سے کب آزاد سخن ور منظور قفس مرغ خوش الحاں کے لیے ہے اپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمن ہر نے میں بھری آگ نیستاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 591 سے 4657