شاعری

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے برق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے ...

مزید پڑھیے

بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں

بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیں تو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں شب وصال کے روز فراق میں کیا کیا نصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں قمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتا وہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ...

مزید پڑھیے

باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے

باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے دل پر خوں کا وہاں ہاتھ پتا لگتا ہے کیا تڑپنا دل بسمل کا بھلا لگتا ہے کہ جب اچھلے ہے ترے سینے سے جا لگتا ہے دل کہاں سیر تماشے پہ مرا لگتا ہے جی کے لگ جانے سے جینا بھی برا لگتا ہے جو حوادث سے زمانے کے گرا پھر نہ اٹھا نخل آندھی کا کہیں اکھڑا ہوا لگتا ...

مزید پڑھیے

قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں

قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں چشم پر آب سے آئینے وضو کرتے ہیں کرتے اظہار ہیں در پردہ عداوت اپنی وہ مرے آگے جو تعریف عدو کرتے ہیں دل کا یہ حال ہے پھٹ جائے ہے سو جائے سے اور اگر اک جائے سے ہم اس کو رفو کرتے ہیں توڑیں اک نالے سے اس کاسۂ گردوں کو مگر نوش ہم اس میں کبھو دل کا لہو ...

مزید پڑھیے

بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی

بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی وہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہی سنگ پر سنگ ہر اک کوچہ میں کھائے تو سہی پر بلا سے ترے دیوانے کھائے تو سہی گو جنازے پہ نہیں قبر پہ آئے وہ مری شکوہ کیا کیجے غنیمت ہے کہ آئے تو سہی کیونکہ دیوار پہ چڑھ جاؤں کوئی کہتا ہے پاؤں کاٹوں گا انگوٹھا وہ ...

مزید پڑھیے

لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے

لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے تم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلے بیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے دیوانہ آ کے اور بھی دل کو بنا چلے اک دم تو ٹھہرو اور بھی کیا آئے کیا چلے ہم لطف سیر باغ جہاں خاک اڑا چلے شوق وصال دل میں لیے یار کا چلے غیروں کے ...

مزید پڑھیے

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ ورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرار تیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ کھائے ہے اس مزے سے غم عشق میرا دل جیسے گرسنہ مارے ہے حلوائے تر پہ ہاتھ خط دے کے چاہتا تھا زبانی بھی کچھ کہے رکھا مگر کسی نے دل ...

مزید پڑھیے

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے

کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے اور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے عشق کے داغ کو دل مہر نبوت سمجھا ڈر ہے کافر کہیں دعوائے نبوت نہ کرے ہے جراحت کا مری سودۂ الماس علاج فائدہ اس کو کبھی سنگ جراحت نہ کرے ہر قدم پر مرے اشکوں سے رواں ہے دریا کیا کرے جادہ اگر ترک رفاقت نہ کرے آج ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا

ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا میں جو شہید ہوں لب خندان یار کا کیا کیا چراغ ہنستا ہے میرے مزار کا ہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کا پردہ نہ درمیاں ہو جو دل کے غبار کا اس روئے تابناک پہ ہر قطرۂ عرق گویا کہ اک ستارہ ہے صبح بہار کا ہے عین وصل میں بھی ...

مزید پڑھیے

دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا

دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا سن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا بل بے گداز عشق کہ خوں ہو کے دل کے ساتھ سینے سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا ہے موج بحر عشق وہ طوفاں کہ الحفیظ بیچارہ مشت خاک تھا انسان بہہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 590 سے 4657