شاعری

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگ ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمار جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے لیلیٰ کا ...

مزید پڑھیے

وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا

وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا پر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کے اور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا کچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافر دم اس لیے میں سورۂ یوسف نہیں کرتا پڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواں جب تک کہ وہ مضموں میں تصرف ...

مزید پڑھیے

آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے

آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے جان کشتی قضا سے لڑتی ہے شعلہ بھڑکے نہ کیوں کہ محفل میں شمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے قسمت اس بت سے جا لڑی اپنی دیکھو احمق خدا سے لڑتی ہے شور قلقل یہ کیوں ہے دختر رز کیا کسی پارسا سے لڑتی ہے نہیں مژگاں کی دو صفیں گویا اک بلا اک بلا سے لڑتی ہے نگۂ ناز اس کی ...

مزید پڑھیے

اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے

اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے لیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہے آنا ہے ان کا آنا قیامت کا دیکھیے کب آئیں لیکن آنے کی ان کے خبر تو ہے ہے سر شہید عشق کا زیب سنان یار صد شکر بارے نخل وفا بارور تو ہے مانند شمع گریہ ہے کیا شغل طرفہ تر ہو جاتی رات اس میں بلا سے بسر تو ہے ہے درد دل ...

مزید پڑھیے

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی رہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی مجنوں و کوہ کن کے سنتے تھے یار قصے جب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی شکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سے شکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی کچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے گا دیتا نہیں مجھے تو اے بے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا ہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر جو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے کیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے دختر رز نکل کے مینا سے کرتی کیا کیا زباں درازی ہے خط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میں حسن کی یہ ادا طرازی ہے ہندوئے چشم طاق ابرو میں کیا بنا آن کر نمازی ہے نذر دیں نفس کش کو دنیا دار واہ کیا تیری بے نیازی ہے بت طناز ہم سے ہو ...

مزید پڑھیے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم پہلے جب تک نہ دو ...

مزید پڑھیے

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سے جتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے ترے بیمار غم کے ہیں جو غم خوار برستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاں صف عشاق ہے برہم ابھی سے اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرے نہیں پر اپنے دم میں ...

مزید پڑھیے

اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے

اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے وہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہے ناساز ہے جو ہم سے اسی سے یہ ساز ہے کیا خوب دل ہے واہ ہمیں جس پہ ناز ہے پہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیب سچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے اس بت پہ گر خدا بھی ہو عاشق تو آئے رشک ہرچند جانتا ہوں کہ وہ پاکباز ہے مداح خال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 592 سے 4657