شاعری

کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ

کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھ دیدۂ حق بیں سے رنگ عالم تصویر دیکھ اس قدر کھنچنا نہیں اچھا بت بے پیر دیکھ پیار کی نظروں سے سوئے عاشق دلگیر دیکھ غیر نے مجھ پر ستم ڈھائے ہیں ڈھالے آج تو رہ نہ جائے کوئی بھی ترکش میں باقی تیر دیکھ کام بن بن کر بگڑ جاتے ہیں لاکھوں رات دن کس قدر ہے ...

مزید پڑھیے

شب فراق جو دل میں خیال یار رہا

شب فراق جو دل میں خیال یار رہا پس فنا بھی تصور میں انتظار رہا اڑا رہے ہیں مری خاک کو وہ ٹھوکر سے الٰہی مجھ سے تو اچھا مرا غبار رہا نظر ملاتے ہی ہاتھوں سے دل چلا میرا کسی کو دیکھ کے دل پر نہ اختیار رہا کسی کی نرگس مستانہ پھر گئی جب سے نہ وہ سرور نہ آنکھوں میں وہ خمار رہا شب فراق ...

مزید پڑھیے

وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں

وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں بڑے مغرور ہوتے جا رہے ہیں بسے ہیں جب سے وہ میری نظر میں سراپا نور ہوتے جا رہے ہیں جو پھوٹے آبلے دل کی خلش سے وہ اب ناسور ہوتے جا رہے ہیں بہت مشکل ہے منزل تک رسائی وہ کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں کہاں پہلی سی راہ و رسم الفت نئے دستور ہوتے جا رہے ...

مزید پڑھیے

باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا

باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کا مطلب یہ ہے کہ ذکر نہ آئے وصال کا کیا ذکر ان سے کیجیے دل کے ملال کا ہے خامشی جواب مرے ہر سوال کا تا عمر پھر نہ طالب جلوہ ہوئے کلیم دیکھا جو ایک بار کرشمہ جمال کا رخ پر پڑی ہوئی ہے نقاب شعاع حسن موقع نظر کو خاک ملے دیکھ بھال کا ہم نا مراد عشق ...

مزید پڑھیے

زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے

زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہے سانپ کے منہ میں مجھے میری قضا لائی ہے آج مے خانے پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے ایک دنیا ہے کہ پینے کو امڈ آئی ہے زلف شب رنگ کا ہے عکس یہ پیمانے میں یا پری کوئی یہ شیشے میں اتر آئی ہے تو بتا ناوک جاناں تری کیا ہے نیت خنجر یار نے تو سر کی قسم کھائی ...

مزید پڑھیے

وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتے

وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتے صراحی رقص میں گردش میں پیمانے نہیں آتے شریک درد بن کر اپنے بیگانے نہیں آتے مئے عشرت جو پیتے ہیں وہ غم کھانے نہیں آتے لپٹ کر شمع کی لو سے لگی دل کی بجھاتے ہیں پرائی آگ میں جلنے کو پروانے نہیں آتے اڑاتے ہی پھریں گے عمر بھر وہ خاک صحرا کی تری ...

مزید پڑھیے

قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا جو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا برہم ہوا تھامنا مشکل دل مضطر کو شام غم ہوا یاد آتے ہی کسی کی حشر کا عالم ہوا کیا بتائیں کس طرح گزری شب وعدہ مری منتظر آنکھیں رہیں دل کا عجب عالم ہوا دیکھتے رہتے ہیں اس میں سارے عالم کا ظہور آئینہ دل کا ہمارے رشک جام ...

مزید پڑھیے

کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں

کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیں ناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیں اہل دل راہ عدم سے بھی گزر جاتے ہیں نام لیوا ترے بے خوف و خطر جاتے ہیں سفر زیست ہوا ختم نہ سوچا لیکن ہم کو جانا ہے کہاں اور کدھر جاتے ہیں نگہ لطف میں ہے عقدہ کشائی مضمر کام بگڑے ہوئے بندوں کے سنور جاتے ہیں قابل ...

مزید پڑھیے

وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں

وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں کہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میں تصور بہاروں میں ڈوبا ہوا ہے چمن کا مزہ مل رہا ہے قفس میں گلوں میں یہ سرگوشیاں کس لیے ہیں ابھی اور رہنا پڑے گا قفس میں نہ جینا ہے جینا نہ مرنا ہے مرنا نرالی ہیں سب سے محبت کی رسمیں نہ دیکھی کبھی ہم نے گلشن کی صورت ترستے ...

مزید پڑھیے

تری نگاہ نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

تری نگاہ نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہنسا کے پاس بلایا رلا کے چھوڑ دیا حسین جلووں میں گم ہو گئی نظر میری یہ کیا کیا کہ جو پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا جنوں میں اب مجھے اپنی خبر نہ غیروں کی یہ غم نے کون سی منزل پہ لا کے چھوڑ دیا جو معرفت کے گلابی نشے سے ہو بھر پور وہ جام تو نے نظر سے پلا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 561 سے 4657