شب فراق جو دل میں خیال یار رہا

شب فراق جو دل میں خیال یار رہا
پس فنا بھی تصور میں انتظار رہا


اڑا رہے ہیں مری خاک کو وہ ٹھوکر سے
الٰہی مجھ سے تو اچھا مرا غبار رہا


نظر ملاتے ہی ہاتھوں سے دل چلا میرا
کسی کو دیکھ کے دل پر نہ اختیار رہا


کسی کی نرگس مستانہ پھر گئی جب سے
نہ وہ سرور نہ آنکھوں میں وہ خمار رہا


شب فراق کی تنہائی میں تھا کون انیس
خیال یار ہی اک اپنا غم گسار رہا


وفا نہیں تو نہیں مورد جفا ہی سہی
ہزار شکر کہ میں داخل شمار رہا


یہ ڈورے ڈالے ہیں کس چشم مست نے اے نازؔ
کہ حشر تک مری آنکھوں میں اک خمار رہا