شاعری

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا وہ بھی تو ملے ہم سے ہمیں اس سے ملیں کیا لشکر کو بچائیں گی یہ دو چار صفیں کیا اور ان میں بھی ہر شخص یہ کہتا ہے ہمیں کیا یہ تو سبھی کہتے ہیں کوئی فکر نہ کرنا یہ کوئی بتاتا نہیں ہم کو کہ کریں کیا گھر سے تو چلے آتے ہیں بازار کی جانب بازار میں یہ ...

مزید پڑھیے

خدا کو آزمانا چاہئے تھا

خدا کو آزمانا چاہئے تھا کسی کا دل دکھانا چاہئے تھا دکانیں شہر میں ساری نئی تھیں ہمیں سب کچھ پرانا چاہئے تھا نظریے فلسفے اپنی جگہ ہیں ہمیں شادی میں جانا چاہئے تھا تکلف روز روز اچھا نہیں ہے گلی میں بھی نہانا چاہئے تھا وہ دل میں تھی کہ گھر میں آگ تو تھی پڑوسی کو بتانا چاہئے ...

مزید پڑھیے

گھر میں بے چینی ہو تو اگلے سفر کی سوچنا

گھر میں بے چینی ہو تو اگلے سفر کی سوچنا پھر سفر ناکام ہو جائے تو گھر کی سوچنا ہجر میں امکان اتنے وصل صرف اک واقعہ وسعت صحرا میں کیا دیوار و در کی سوچنا یعنی گھر اور دشت دونوں لازم و ملزوم ہیں قاعدہ یہ ہے ادھر رہنا ادھر کی سوچنا اس طرح جینا کہ اوروں کا بھرم قائم رہے موت برحق ہے ...

مزید پڑھیے

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے پکارنے کے لیے اک خدا ضروری ہے ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہار ترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے شعور شہر کے حالات کا نہیں سب کو بیان شہر کے حالات کا ضروری ہے کچھ ایسے شعر ہیں یارو جو ہم نہیں کہتے ہر ایک بات کا اظہار کیا ضروری ہے شجاعؔ موت سے ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر اندر سے بکھرے اور ہم جل تھل ہوئے

ٹوٹ کر اندر سے بکھرے اور ہم جل تھل ہوئے تجھ سے جب بچھڑے تو اتنا روئے ہم بادل ہوئے تھے کبھی آباد جو زخموں کے پھولوں سے یہاں دیکھنا وہ شہر اس موسم میں سب جنگل ہوئے دھوپ سے محرومیوں کی تھے ہراساں لوگ سب روح کے آزار سے کچھ اور بھی پاگل ہوئے جن سے وابستہ تھی شبنمؔ زندگی کی ہر خوشی آہ ...

مزید پڑھیے

جو دل کی بارگاہ میں تجلیاں دکھا گیا

جو دل کی بارگاہ میں تجلیاں دکھا گیا مرے حواس و ہوش پر سرور بن کے چھا گیا ترے بغیر زندگی گزارنا محال تھا مگر یہ قلب ناتواں یہ بوجھ بھی اٹھا گیا جو شخص میری ذات میں بسا ہوا تھا مدتوں نہ جانے مجھ سے روٹھ کر وہ اب کہاں چلا گیا پھر آج اک ہوائے غم اداس دل کو کر گئی خیال تیری یاد کا نظر ...

مزید پڑھیے

برپا ترے وصال کا طوفان ہو چکا

برپا ترے وصال کا طوفان ہو چکا دل میں جو باغ تھا وہ بیابان ہو چکا پیدا وجود میں ہر اک امکان ہو چکا اور میں بھی سوچ سوچ کے حیران ہو چکا پہلے خیال سب کا تھا اب اپنی فکر ہے دامن کہاں رہا جو گریبان ہو چکا تم ہی نے تو یہ درد دیا ہے جناب من تم سے ہمارے درد کا درمان ہو چکا جو جشن وشن ہے ...

مزید پڑھیے

اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہے

اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہے ایسے میں آرزو بڑی ہمت کا کام ہے ہم کو بھی چھوڑتا ہوا آگے نکل گیا جذبوں کا قافلہ بھی بڑا تیز گام ہے بے آرزو بھی خوش ہیں زمانے میں بعض لوگ یاں آرزو کے ساتھ بھی جینا حرام ہے لفظوں کی جان چھوڑ دے مفہوم کو پکڑ ورنہ یہ سب معاملہ تجنیس تام ہے توبہ کے ...

مزید پڑھیے

جو قصہ تھا خود سے چھپایا ہوا

جو قصہ تھا خود سے چھپایا ہوا وہ تھا شہر بھر کو سنایا ہوا مخالف سے صلح و صفائی جو کی کئی دوستوں کا صفایا ہوا جو محفل میں پہچانتا تک نہ تھا تصور میں بیٹھا ہے آیا ہوا ہر اک زخم جائے گا میرے ہی ساتھ نمک سب نے ہے میرا کھایا ہوا نظر آ رہا ہے جو وہ آسماں یہ ہے میرے رب کا بنایا ہوا

مزید پڑھیے

دل کی بستی پہ کسی درد کا سایہ بھی نہیں

دل کی بستی پہ کسی درد کا سایہ بھی نہیں ایسا ویرانی کا موسم کبھی آیا بھی نہیں ہم کسی اور ہی عالم میں رہا کرتے ہیں اہل دنیا نے جہاں آکے ستایا بھی نہیں ہم پہ اس عالم تازہ میں گزرتی کیا ہے تم نے پوچھا بھی نہیں ہم نے بتایا بھی نہیں کب سے ہوں غرق کسی جھیل کی گہرائی میں راز ایام مگر عقل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 535 سے 4657