شاعری

چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے

چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے دل میں بیتابی رکھی ہے اک دو دن سے جینے والو ہم نے کافی جی رکھی ہے دل کے شجر نے کس محنت سے اک اک شاخ ہری رکھی ہے وصل ہوا پر دل میں تمنا جیسی تھی ویسی رکھی ہے غیر کی کیا رکھے گا یہ درباں ظالم نے کس کی رکھی ہے ہوس میں کچھ بھی کر سکتے ہو عشق میں پابندی رکھی ...

مزید پڑھیے

دوسری باتوں میں ہم کو ہو گیا گھاٹا بہت

دوسری باتوں میں ہم کو ہو گیا گھاٹا بہت ورنہ فکر شعر کو دو وقت کا آٹا بہت کائنات اور ذات میں کچھ چل رہی ہے آج کل جب سے اندر شور ہے باہر ہے سناٹا بہت آرزو کا شور برپا ہجر کی راتوں میں تھا وصل کی شب تو ہوا جاتا ہے سناٹا بہت ہم سے تو اک شعر سن کر فلسفی چپ ہو گیا لیکن اس نے بے زباں نقاد ...

مزید پڑھیے

یہاں وہاں کی بلندی میں شان تھوڑی ہے

یہاں وہاں کی بلندی میں شان تھوڑی ہے پہاڑ کچھ بھی سہی آسمان تھوڑی ہے مرے وجود سے کم تیری جان تھوڑی ہے فساد تیرے مرے درمیان تھوڑی ہے ملے بنا کوئی رت ہم سے جا نہیں سکتی ہمارے سر پہ کوئی سائبان تھوڑی ہے یہ واقعہ ہے کہ دشمن سے مل گئے ہیں دوست مرا بیان برائے بیان تھوڑی ہے کرم ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

جو تم سے پہلے آئے تھے ان کی کارستانی دیکھو

جو تم سے پہلے آئے تھے ان کی کارستانی دیکھو گاؤں سے نکلے ہو تو اب شہروں کی ویرانی دیکھو سوتے میں مرنے کا موقع مل جاتا ہے سب لوگوں کو پھر بھی زندہ اٹھ جاتے ہیں لوگوں کی نادانی دیکھو روکو گے تو پھٹ جاؤں گا یارو تم بس اتنا کرنا کچھ مت کہنا مجھ سے جب میری آنکھوں میں پانی دیکھو ساتوں ...

مزید پڑھیے

رکھتے ہیں اپنے خوابوں کو اب تک عزیز ہم

رکھتے ہیں اپنے خوابوں کو اب تک عزیز ہم حالانکہ اس میں ہو گئے دل کے مریض ہم اس کے بیان سے ہوئے ہر دل عزیز ہم غم کو سمجھ رہے تھے چھپانے کی چیز ہم یہ کائنات تو کسے ملتی ہے چھوڑیئے اپنی ہی ذات سے نہ ہوئے مستفیض ہم چارہ گری کی بات کسی اور سے کرو اب ہو گئے ہیں یارو پرانے مریض ہم

مزید پڑھیے

دشت کو جا تو رہے ہو سوچ لو کیسا لگے گا

دشت کو جا تو رہے ہو سوچ لو کیسا لگے گا سب ادھر ہی جا رہے ہیں دشت میں میلہ لگے گا تیر بن کر خیر سے ہر دل پہ جب سیدھا لگے گا شعر میرا دشمنوں کو بھی بہت اچھا لگے گا خیر حشر آرزو پر تو تمہارا بس نہیں ہے آرزو تو کر لو یارو آرزو میں کیا لگے گا فصل گل جو کر رہی ہے سامنے ہے دیکھ لیجے میں ...

مزید پڑھیے

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو

اس طرح پہنچے گا کیسے پایۂ تکمیل کو آخری کہتا ہے کیوں تابوت کی ہر کیل کو خود ضرورت مند ہے روتا ہے خود ترسیل کو چاہیے پیغامبر اپنے لیے جبریل کو کب سے سوتا ہے کرو بیدار میکائیل کو ورنہ کافی کام مل جائے گا عزرائیل کو تو نے گو کوئی کسر چھوڑی نہیں رب کریم کام یہ کرنا پڑے گا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

حالات نہ بدلیں تو اسی بات پہ رونا

حالات نہ بدلیں تو اسی بات پہ رونا بدلیں تو بدلتے ہوئے حالات پہ رونا پڑ جائے گا تم کو بھی غم ذات پہ رونا جس بات پہ ہنستے ہو اسی بات پہ رونا اظہار میں قوت ہے تو مل جائے گا موضوع سوکھا نہیں پڑتا ہے تو برسات پہ رونا اس شہر میں سب ٹھیک ہے کیا سوچ رہے ہو رونا ہے تو اپنے ہی خیالات پہ ...

مزید پڑھیے

دوست کا گھر اور دشمن کا پتہ معلوم ہے

دوست کا گھر اور دشمن کا پتہ معلوم ہے زندگی ہم کو ترا یہ سلسلہ معلوم ہے زندگی جا ہم بھی کوئے آرزو تک آ گئے اس کے آگے ہم کو سارا راستہ معلوم ہے کیا منجم سے کریں ہم اپنے مستقبل کی بات حال کے بارے میں ہم کو کون سا معلوم ہے یا تو جو نافہم ہیں وہ بولتے ہیں ان دنوں یا جنہیں خاموش رہنے کی ...

مزید پڑھیے

دن کے پاس کہاں جو ہم راتوں میں مال بناتے ہیں

دن کے پاس کہاں جو ہم راتوں میں مال بناتے ہیں بد حالوں کو خواب ہی شب بھر کو خوش حال بناتے ہیں اس کو تصور تک لانے میں آپ ہی کھو جاتے ہیں ہم خود ہی پھنس جاتے ہیں ہم اور خود ہی جال بناتے ہیں ادب کے بازاروں میں ان شعروں کی قیمت کیا معلوم ہم تو خالی کاری گر ہیں ہم تو مال بناتے ہیں ماہ و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 534 سے 4657