شاعری

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے ترنگ آئی تو منظر ہی بدل دیں گے نظر والے اسی پر خوش ہیں کہ اک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ابھی تنہائی کا مطلب نہیں سمجھے ہیں گھر والے ستم کے وار ہیں تو کیا قلم کے دھار بھی تو ہیں گزارہ خوب کر لیتے ہیں عزت سے ہنر والے کوئی صورت نکلتی ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

میرا دل ہاتھوں میں لو تو کیا تمہارا جائے گا

میرا دل ہاتھوں میں لو تو کیا تمہارا جائے گا اور میرا ہی سمرقند و بخارا جائے گا تشنگی کا ایک اک پہلو ابھارا جائے گا وصل کی شب کو بھی فرقت میں گزارا جائے گا کل یہ منصوبہ بنایا ہم نے پی لینے کے بعد آسمانوں کو زمینوں پر اتارا جائے گا درد جائے گا تو کچھ کچھ جائے گا پر دیکھنا چین جب ...

مزید پڑھیے

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی اور اس کے ساتھ گرمئ جذبات بھی گئی اس نے مری کتاب کا دیباچہ پڑھ لیا اب تو کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی میں آسماں پہ جا کے بھی تارے نہ لا سکا تم بھی گئے اداس مری بات بھی گئی ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہوا عرفان ذات بھی نہ ہوا رات بھی گئی ملنے ...

مزید پڑھیے

پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے

پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے دیکھو شب فراق ہے اور رو نہیں رہے ایسی بھی رو رہے ہیں انہیں جو نہیں رہے پہلے سے معجزے تو کہیں ہو نہیں رہے یارو دکھاؤ پھر کوئی ایسا ہنر کہ بس غیروں کی کوئی فکر ہی ہم کو نہیں رہے اشعار سے عیاں ہیں تو اشعار مت پڑھو ہم دل کے داغ تم کو دکھا تو نہیں ...

مزید پڑھیے

پار اترنے کے لیے تو خیر بالکل چاہئے

پار اترنے کے لیے تو خیر بالکل چاہئے بیچ دریا ڈوبنا بھی ہو تو اک پل چاہئے فکر تو اپنی بہت ہے بس تغزل چاہئے نالۂ بلبل کو گویا خندۂ گل چاہئے شخصیت میں اپنی وہ پہلی سی گہرائی نہیں پھر تری جانب سے تھوڑا سا تغافل چاہئے جن کو قدرت ہے تخیل پر انہیں دکھتا نہیں جن کی آنکھیں ٹھیک ہیں ان ...

مزید پڑھیے

تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے گا

تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے گا تصور میں ابھی وہ پاس آ کر بیٹھ جائے گا در و دیوار پر اتنا پڑا ہے سارے دن پانی اگر کل دھوپ بھی نکلے گی تو گھر بیٹھ جائے گا اڑے گا خود تو لائے گا خبر سات آسمانوں کی اڑایا تو پرندہ چھت کے اوپر بیٹھ جائے گا نہ منزل کو پتا ہوگا نہ رستوں کو خبر ...

مزید پڑھیے

اب تیرے لیے ہیں نہ زمانے کے لیے ہیں

اب تیرے لیے ہیں نہ زمانے کے لیے ہیں ہم گوشۂ تنہائی سجانے کے لیے ہیں مطلب مری تحریر کا الفاظ سے مت پوچھ الفاظ تو مفہوم چھپانے کے لیے ہیں ہاں تیرے تغافل سے پریشان ہیں ہم بھی یہ طنز کے تیور تو دکھانے کے لیے ہیں تم سامنے ہو پھر بھی چلے آئے زباں پر وہ گیت جو تنہائی میں گانے کے لیے ...

مزید پڑھیے

گرچہ بادل پانی برساتا ہوا گھر گھر پھرا

گرچہ بادل پانی برساتا ہوا گھر گھر پھرا پھر بھی بارش کی دعا کرتا رہا اک سر پھرا ایک امی کو ملی اپنے ہی دل میں کائنات اور میں عالم تلاش ذات میں در در پھرا ہم زمانے سے پھرے یہ تو بجا ہے صاحبو اس کو تو لاؤ جو ہم سے آشنا ہو کر پھرا اس کی خوش فہمی نے کل بس مار ہی ڈالا ہمیں تجھ کو دیکھا ...

مزید پڑھیے

ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے

ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے ادھر پیروں میں سر رکھا ہوا ہے کم از کم اس سراب آرزو نے مری آنکھوں کو تر رکھا ہوا ہے سمجھتے کیا ہو ہم کو شہر والو بیاباں میں بھی گھر رکھا ہوا ہے ہم اچھا مال تو بالکل نہیں ہیں ہمیں کیوں باندھ کر رکھا ہوا ہے مرے حالات کو بس یوں سمجھ لو پرندے پر شجر رکھا ...

مزید پڑھیے

لوگوں نے ہم کو شہر کا قاضی بنا دیا

لوگوں نے ہم کو شہر کا قاضی بنا دیا اس حادثے نے ہم کو نمازی بنا دیا تم کو کہا جو چاند تو تم دور ہو گئے تشبیہ کو بھی تم نے مجازی بنا دیا ایک اور دن کی شام کسی طرح ہو گئی کچھ دے دلا کے حال کو ماضی بنا دیا بغض معاویہ میں سبھی ایک ہو گئے اس اتحاد نے مجھے نازی بنا دیا خالی علامتوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 533 سے 4657