سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے
سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے ترنگ آئی تو منظر ہی بدل دیں گے نظر والے اسی پر خوش ہیں کہ اک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ابھی تنہائی کا مطلب نہیں سمجھے ہیں گھر والے ستم کے وار ہیں تو کیا قلم کے دھار بھی تو ہیں گزارہ خوب کر لیتے ہیں عزت سے ہنر والے کوئی صورت نکلتی ہی نہیں ...