شاعری

مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئے

مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئے بلبلوں کی پاس خاطر گل فشانی کیجئے عشق نے از بس دیا ہے زرد رنگی کا رواج ارغوانی آنسوؤں کوں زعفرانی کیجئے مے کش غم کوں شب مہتاب ہے موئے سفید موسم پیری میں سامان جوانی کیجئے ہجر کی راتوں میں لازم ہے بیان زلف یار نیند تو جاتی رہی ہے قصہ خوانی ...

مزید پڑھیے

اپنا جمال مجھ کوں دکھایا رسول آج

اپنا جمال مجھ کوں دکھایا رسول آج عاجز کی التماس کوں کرنا قبول آج اے مہرباں طبیب شتابی علاج کر تیرے برہ کے درد سیں ہے دل میں سول آج مرہم ترے وصال کا لازم ہے اے صنم دل میں لگی ہے ہجر کی برچھی کی ہول آج گل رو بغیر خانۂ بلبل خراب ہے مرجھا رہا ہے صحن گلستاں میں پھول آج بے فکر ہوں ...

مزید پڑھیے

عمل سیں مے پرستوں کے تجھے کیا کام اے واعظ

عمل سیں مے پرستوں کے تجھے کیا کام اے واعظ شراب شوق کا تو نے پیا نیں جام اے واعظ لگے گا سنگ خجلت شیشۂ ناموس پر تیرے عبث ہم بے گناہوں کوں نہ کر بد نام اے واعظ نہیں ہے امتیاز نیک و بد چشم حقیقت میں مجھے یکساں ہوا ہے کفر اور اسلام اے واعظ نیاز بے خودی بہتر نماز خود نمائی سیں نہ کر ...

مزید پڑھیے

یار کو بے حجاب دیکھا ہوں

یار کو بے حجاب دیکھا ہوں میں سمجھتا ہوں خواب دیکھا ہوں یہ عجب ہے کہ دن کوں تاریکی رات کوں آفتاب دیکھا ہوں نسخۂ حسن میں ترے قد کوں مصرع انتخاب دیکھا ہوں کس ستی اب امید لطف رکھوں تجھ نگہ سیں عتاب دیکھا ہوں اب ہوا سب سیں فارغ التحصیل بے خودی کی کتاب دیکھا ہوں لشکر عشق جب سیں آیا ...

مزید پڑھیے

صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم

صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم کہ اصل ہستی نابود ہے عدم کا عدم اسی جہان میں گویا مجھے بہشت ملی اگر رکھو گے مرے پر یہی کرم کا کرم ابھی تو تم نے کئے تھے ہماری جاں بخشی پھر ایک دم میں وہی نیمچا علم کا علم وو گل بدن کا عجب ہے مزاج رنگا رنگ فجر کوں لطف تو پھر شام کوں ستم کا ستم نہ رکھ ...

مزید پڑھیے

تیرے ابرو کی عجب بیت ہے حالی اے شوخ

تیرے ابرو کی عجب بیت ہے حالی اے شوخ جس میں ہے مطلب دیوان ہلالی اے شوخ گوہر اشک کوں ہے حلقہ بگوشی کا خیال گر لگے ہات ترے کان کی بالی اے شوخ روح فرہاد بھی خوش ہو کے مٹھائی بانٹے گر سنے تجھ لب شیریں ستی گالی اے شوخ جب سیں دیکھی ہے خط سبز میں تیرے لب سرخ تب سیں سبزے میں چھپی پان کی ...

مزید پڑھیے

خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانے

خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانے اس طرح کے بت عیار کوں کوئی کیا جانے لے گئیں ہات سیں دل اس کی جھکی ہوئی آنکھیں حیلۂ مردم بیمار کوں کوئی کیا جانے میں نہ بوجھا تھا تری زلف گرہ دار کے پیچ سچ کہ کیفیت مکار کوں کوئی کیا جانے شرح بے تابیٔ دل نیں ہے قلم کی طاقت تپش شوق کے ...

مزید پڑھیے

ہے جنبش مژگاں میں تری تیر کی آواز

ہے جنبش مژگاں میں تری تیر کی آواز اس تیر میں ہے صید کی تکبیر کی آواز مشتاق ہوں تجھ لب کی فصاحت کا ولیکن 'رانجھا' کے نصیبوں میں کہاں ہیر کی آواز تو خسرو خوباں ہے کہ لے ہند سیں تا روم پہنچی ہے ترے حسن جہانگیر کی آواز حیرت کے مقامات میں قانون نوا نہیں ہے ساز خموشی لب تصویر کی ...

مزید پڑھیے

فدا کر جان اگر جانی یہی ہے

فدا کر جان اگر جانی یہی ہے ارے دل وقت بے جانی یہی ہے یہی قبر زلیخا سیں ہے آواز اگر ہے یوسف ثانی یہی ہے نہیں بجھتی ہے پیاس آنسو سیں لیکن کریں کیا اب تو یاں پانی یہی ہے کسی عاشق کے مرنے کا نہیں ترس مگر یاں کی مسلمانی یہی ہے برہ کا جان کندن ہے نپٹ سخت شتاب آ مشکل آسانی یہی ہے پرو ...

مزید پڑھیے

خاک ہوں اعتبار کی سوگند

خاک ہوں اعتبار کی سوگند مضطرب ہوں قرار کی سوگند مثل آئینہ پاک بازی میں صاف دل ہوں غبار کی سوگند حوض کوثر سیں پیاس بجھتی نہیں اوس لب آب دار کی سوگند معتبر نہیں جمال ظاہر کا گردش روزگار کی سوگند زندگی اے سراجؔ ماتم ہے مجھ کوں شمع مزار کی سوگند

مزید پڑھیے
صفحہ 514 سے 4657