شاعری

خوش نما پل کی گرفتاری کریں

خوش نما پل کی گرفتاری کریں آ کہ مل کر یہ سمجھ داری کریں ایک چھتری میں بچیں ہم دھوپ سے جو پہل دل میں ہے وہ ساری کریں آپ ہم دونوں پریشاں ہو لیے آئیے پھر سے وفاداری کریں جو جگا دے خوب صورت خواب سے ایسے سورج سے بھی کیا یاری کریں لان میں سب فیشنیبل پلانٹس ہیں ایک دو پھولوں کی بھی ...

مزید پڑھیے

اپنی نظروں میں ہارنا کب تک

اپنی نظروں میں ہارنا کب تک اس کو اکثر پکارنا کب تک اب تو کھل جانی چاہئے آنکھیں رات کو دن پکارنا کب تک فون کر ہی لیا تمہیں آخر شام بے کل گزارنا کب تک حوصلہ دیجے ہمتیں دیجے ڈوبتے کو ابھارنا کب تک اب جو کیجے وہ سب سہی کیجئے غلطیوں کو سدھارنا کب تک

مزید پڑھیے

اپنی مرضی کا رخ میں اپناؤں

اپنی مرضی کا رخ میں اپناؤں کاش میں بھی ہوا سی ہو جاؤں مان لینا کے تم خیال میں ہو جب بھی میں پھول جیسا مسکاؤں کیا کہا تم پہ میں یقیں کر لوں یعنی اک بار پھر بکھر جاؤں خواہشیں تو ہزار کر لوں میں کاش پوری بھی کوئی کر پاؤں چاند بھی جا رہا ہے اب سونے میں بھی اب تھوڑی دیر سو جاؤں

مزید پڑھیے

تمنائیں ٹھکانہ چاہتی ہیں

تمنائیں ٹھکانہ چاہتی ہیں ترے پہلو میں آنا چاہتی ہیں ذرا نزدیک آ کر بیٹھیے گا یہ آنکھیں آب و دانہ چاہتی ہیں بدن کے رنگ رخصت ہو رہے ہیں مگر سانسیں نبھانا چاہتی ہیں ہمیں پڑھنے کی چاہت اور کچھ ہے کتابیں کچھ پڑھانا چاہتی ہیں یہ دل وشواس کرنا چاہتا ہے نگاہیں سچ بتانا چاہتی ہیں

مزید پڑھیے

کبھی کبھی مجھے اتنا بھی تو نبھایا کر

کبھی کبھی مجھے اتنا بھی تو نبھایا کر کہ اپنے آپ کو کچھ دیر بھول جایا کر نہ چھت پہ چاند ٹکے گا نہ رات ٹھہرے گی ہر ایک خواب کو آنکھوں میں مت سجایا کر میں چاہتی ہوں کہ ہر روپ میں تجھے دیکھوں کبھی کبھی مری باتوں سے تنگ آیا کر تری پسند کی غزلیں میں لکھ تو دوں لیکن یہ شرط ہے کہ انہیں ...

مزید پڑھیے

پھول سب کے لیے مہکتے ہیں

پھول سب کے لیے مہکتے ہیں لوگ لیکن کہاں سمجھتے ہیں زندگی جی رہے ہیں ہم لیکن زندگی کے لیے ترستے ہیں وقت کا ایک نام اور بھی ہے لوگ مرہم بھی اس کو کہتے ہیں روز ملتے نہیں ہیں ہم خود سے روز خود سے مگر بچھڑتے ہیں پھول جیسے جو کھل نہیں پاتے پھول جیسے وہی بکھرتے ہیں وقت میں خاصیت ہے ...

مزید پڑھیے

اس کو میرا ملال ہے اب بھی

اس کو میرا ملال ہے اب بھی چلیے کچھ تو خیال ہے اب بھی روز یادوں کی تہہ بناتا ہے اس کا جینا محال ہے اب بھی تم نے اتر بدل دئے ہر بار میرا وہ ہی سوال ہے اب بھی جس نے دشمن سمجھ لیا ہے ہمیں اس سے ملنا وصال ہے اب بھی دفن ہو کر بھی سانس باقی ہے کوئی رشتہ بحال ہے اب بھی

مزید پڑھیے

ایک اک قطرہ جوڑ کر رکھا

ایک اک قطرہ جوڑ کر رکھا خون سارا نچوڑ کر رکھا رنگ تو اور بھی تھے جیون میں کیوں اداسی کو اوڑھ کر رکھا کیونکہ آئینہ سچ بتا دے گا اس لیے اس کو توڑ کر رکھا جو بھی لمحے تمہارے ساتھ کٹے میں نے ان سب کو جوڑ کر رکھا وہ ورق جس میں تیرا نام آیا میں نے ان سب کو موڑ کر رکھا خود پہ جب بھی کیا ...

مزید پڑھیے

شاید تجھ سے ملنے کی گنجائش ہے

شاید تجھ سے ملنے کی گنجائش ہے سناٹا ہے خاموشی ہے بارش ہے میری آنکھیں خواب ترے ہی دیکھیں گی ان میں بیگانے خوابوں کی بندش ہے اب جا کر کے دل کو یہ احساس ہوا تیرا پیار بھی پیار نہیں اک سازش ہے تجھ کو دیکھ کے ایسا کیوں محسوس ہوا خوش ہے تو یا خوش ہونے کی کوشش ہے رشتوں کی قبروں پر مٹی ...

مزید پڑھیے

رنج اتنے ملے زمانے سے

رنج اتنے ملے زمانے سے لب چٹختے ہیں مسکرانے سے دھندلی دھندلی سی پڑ گئی یادیں زخم بھی ہو گئے پرانے سے مت بناؤ یہ کانچ کے رشتے ٹوٹ جائیں گے آزمانے سے تیرگی شب کی کم نہیں ہوگی گھر کے اندر دیے جلانے سے عقل نے دل کو کر دیا ہشیار بچ گئے ہم فریب کھانے سے ہو ہی جائیں گے ہم رہا اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 500 سے 4657