شاعری

وہ حسن کو جلوہ گر کریں گے

وہ حسن کو جلوہ گر کریں گے آرائش بام و در کریں گے ہر گوشے میں ہوگی خود نمائی ہر ذرے کو رہ گزر کریں گے ہنس ہنس کے کریں گے چارہ سازی سامان دل و نظر کریں گے ہم بھی سر راہ منتظر ہیں دیکھیں کب ادھر نظر کریں گے افسانۂ غم طویل ہے دوست اس بات کو مختصر کریں گے ہے شام فراق سخت تاریک اس شام ...

مزید پڑھیے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ فسردہ میکدے والے اداس مے خانہ مرے ندیم تری چشم التفات کی خیر بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے یہ ...

مزید پڑھیے

حسن مجبور جفا ہے شاید

حسن مجبور جفا ہے شاید یہ بھی اک طرز ادا ہے شاید ایک غم ناک سی آتی ہے صدا کوئی دل ٹوٹ رہا ہے شاید خود فراموش ہوا جاتا ہوں تو مجھے بھول گیا ہے شاید ان حسیں چاند ستاروں میں کہیں تیرا نقش کف پا ہے شاید ایک دنیا سے ہوئے بیگانے تجھ سے ملنے کا صلا ہے شاید ہر گھڑی اشک فشاں ہیں ...

مزید پڑھیے

افسانہ ہائے درد سناتے چلے گئے

افسانہ ہائے درد سناتے چلے گئے خود روئے دوسروں کو رلاتے چلے گئے بھرتے رہے الم میں فسون طرب کا رنگ ان تلخیوں میں زہر ملاتے چلے گئے اپنے نیاز شوق پہ تھا زندگی کو ناز ہم زندگی کے ناز اٹھاتے چلے گئے ہر اپنی داستاں کو کہا داستان غیر یوں بھی کسی کا راز چھپاتے چلے گئے میں جتنا ان کی ...

مزید پڑھیے

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں الٰہی کیا مری رخصت کا وقت آ پہنچا یہ چارہ ساز مرے کیوں اداس بیٹھے ہیں الٰہی کیوں تن مردہ میں جاں نہیں آتی وہ بے نقاب ہیں تربت کے پاس ...

مزید پڑھیے

نظروں سے غبار چھٹ گئے ہیں

نظروں سے غبار چھٹ گئے ہیں چہروں سے نقاب الٹ گئے ہیں فرقت کے طویل راستے تھے یادوں سے تری سمٹ گئے ہیں جس رہ پہ پڑے ہیں تیرے سائے اس راہ سے ہم لپٹ گئے ہیں دن کیسے کٹھن تھے زندگی کے کیا جانیے کیسے کٹ گئے ہیں تقسیم ہوئے تھے کچھ نصیبے کیا کہیے کہاں پہ بٹ گئے ہیں ابھرے تھے بھنور سے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا

آنکھیں کھلی تھیں سب کی کوئی دیکھتا نہ تھا اپنے سوا کسی کا کوئی آشنا نہ تھا یوں کھو گیا تھا حسن ہجوم نگاہ میں اہل نظر کو اپنی نظر کا پتا نہ تھا دھندلا گئے تھے نقش محبت کچھ اس طرح پہچانتی تھی آنکھ تو دل مانتا نہ تھا تم پاس تھے تمہیں تو ہوئی ہوگی کچھ خبر اتنا تو اپنا شیشۂ دل بے صدا ...

مزید پڑھیے

کاوش بیش و کم کی بات نہ کر

کاوش بیش و کم کی بات نہ کر چھوڑ دام و درم کی بات نہ کر دیکھ کیا کر رہے ہیں اہل زمیں آسماں کے ستم کی بات نہ کر اپنی آہ و فغاں کے سوز کو دیکھ ساز کے زیر و بم کی بات نہ کر یوں بھی طوفان غم ہزاروں ہیں عشق کی چشم نم کی بات نہ کر سخت الجھی ہیں زیست کی راہیں زلف کے پیچ و خم کی بات نہ کر آج ...

مزید پڑھیے

جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے

جب بھی دو آنسو نکل کر رہ گئے درد کے عنواں بدل کر رہ گئے کتنی فریادیں لبوں پر رک گئیں کتنے اشک آہوں میں ڈھل کر رہ گئے رخ بدل جاتا مری تقدیر کا آپ ہی تیور بدل کر رہ گئے کھل کے رونے کی تمنا تھی ہمیں ایک دو آنسو نکل کر رہ گئے زندگی بھر ساتھ دینا تھا جنہیں دو قدم ہم راہ چل کر رہ ...

مزید پڑھیے

غم نصیبوں کو کسی نے تو پکارا ہوگا

غم نصیبوں کو کسی نے تو پکارا ہوگا اس بھری بزم میں کوئی تو ہمارا ہوگا آج کس یاد سے چمکی تری چشم پر نم جانے یہ کس کے مقدر کا ستارا ہوگا جانے اب حسن لٹائے گا کہاں دولت درد جانے اب کس کو غم عشق کا یارا ہوگا ترے چھپنے سے چھپیں گی نہ ہماری یادیں تو جہاں ہوگا وہیں ذکر ہمارا ہوگا یوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 485 سے 4657