وہ حسن کو جلوہ گر کریں گے
وہ حسن کو جلوہ گر کریں گے آرائش بام و در کریں گے ہر گوشے میں ہوگی خود نمائی ہر ذرے کو رہ گزر کریں گے ہنس ہنس کے کریں گے چارہ سازی سامان دل و نظر کریں گے ہم بھی سر راہ منتظر ہیں دیکھیں کب ادھر نظر کریں گے افسانۂ غم طویل ہے دوست اس بات کو مختصر کریں گے ہے شام فراق سخت تاریک اس شام ...