شاعری

آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوا

آئی بہار شورش طفلاں کو کیا ہوا اہل جنوں کدھر گئے یاراں کو کیا ہوا غنچے لہو میں تر نظر آتے ہیں تہہ بہ تہہ اس رشک گل کو دیکھ گلستاں کو کیا ہوا یاقوت لب ترا ہوا کیوں خط سے جرم وار ظالم یہ رشک لعل بدخشاں کو کیا ہوا اس جامہ زیب غنچہ دہن کو چمن میں دیکھ حیراں ہوں میں کہ گل کے گریباں کو ...

مزید پڑھیے

رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑ

رویا نہ ہوں جہاں میں گریباں کو اپنے پھاڑ ایسا نہ کوئی دشت ہے ظالم نہ کوئی اجاڑ آتا ہے محتسب پئے تعزیر مے کشو پگڑی کو اس کی پھینک دو داڑھی کو لو اکھاڑ ثابت تھا جب تلک یہ گریباں خفا تھا میں کرتے ہی چاک کھل گئے چھاتی کے سب کواڑ میرے غبار نے تو ترے دل میں کی ہے جا گو میری مشت خاک سے ...

مزید پڑھیے

آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں

آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں تو اٹھاوے ناز سے ظالم لگا ٹھوکر جبیں اپنے گھر میں تو بہت پٹکا پہ کچھ حاصل نہیں اب کے جی میں ہے تری چوکھٹ پہ روؤں دھر جبیں جیسی پیشانی تری ہے اے مرے خورشید رو چاند کی ہے روشنی میں اس سے کب بہتر جبیں شیخ آ جلوہ خدا کا میکدے میں ہے مرے کیوں ...

مزید پڑھیے

قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے

قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے تصور بھی چمن کا ہم کو بس ہے بجائے رخنۂ دیوار گلشن ہمیں صیاد اب چاک قفس ہے فغاں کرتا ہی رہتا ہے یہ دن رات الٰہی دل ہے میرا یا جرس ہے کٹیں گے عمر کے دن کب کے بے یار مجھے اک اک گھڑی سو سو برس ہے ہماری داد کے تئیں کون پہنچے نہ کوئی مونس نہ کوئی فریاد رس ...

مزید پڑھیے

ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیں

ان ظالموں کو جور سوا کام ہی نہیں گویا کہ ان کے ظلم کا انجام ہی نہیں غم وصل میں ہے ہجر کا ہجراں میں وصل کا ہرگز کسی طرح مجھے آرام ہی نہیں کیا کیا خرابیاں میں ترے واسطے سہیں تس پر بھی چاہنے کا مرے نام ہی نہیں اب ہم دنوں کو اپنے نہ روئیں تو کیا کریں کرنے تھے جن میں عیش وے ایام ہی ...

مزید پڑھیے

تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے

تو بھلی بات سے ہی میری خفا ہوتا ہے آہ کیا چاہنا ایسا ہی برا ہوتا ہے تیرے ابرو سے مرا دل نہ چھٹے گا ہرگز گوشت ناخن سے بھلا کوئی جدا ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں تجھے خوب طرح اے عیار تیرے اس مکر کے اخلاص سے کیا ہوتا ہے ہے کف خاک مری بسکہ تب عشق سے گرم پانو واں جس کا پڑے آبلہ پا ہوتا ...

مزید پڑھیے

غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آج

غیر کے ہاتھ میں اس شوخ کا دامان ہے آج میں ہوں اور ہاتھ مرا اور یہ گریبان ہے آج لٹپٹی چال کھلے بال خماری انکھیاں میں تصدق ہوں مری جان یہ کیا آن ہے آج کب تلک رہیے ترے ہجر میں پابند لباس کیجیے ترک تعلق ہی یہ ارمان ہے آج آئنے کو تری صورت سے نہ ہو کیوں کر حیرت در و دیوار تجھے دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے

مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے کہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہے نہیں ہونے کا چنگا گر سلیمانی لگے مرہم ہمارے دل پہ کاری زخم اس ناوک پلک کا ہے کئی باری بنا ہو جس کی پھر کہتے ہیں ٹوٹے گا یہ حرمت جس کی ہو اے شیخ کیا تیرا وہ مکا ہے ہر اک دل کے تئیں لے کر وہ چنچل بھاگ ...

مزید پڑھیے

غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں

غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں چاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیں وصل ہو وصل الٰہی کہ مجھے تاب نہیں دور ہوں دور مرے ہجر کے ایام کہیں لگ رہی ہیں ترے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے تج کو دیکھا تھا مگر ان نے لب بام کہیں عاشقوں کے بھی لڑانے کی تجھے کیا ڈھب ہے چشم بازی ہے کہیں بوسہ ...

مزید پڑھیے

دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبح

دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبح کیا کہوں میں کیا قیامت مجھ پہ تب لاتی ہے صبح شمع جب مجلس سے مہروؤں کی لیتی ہے اٹھا کیا کہوں کیا کیا سنیں اس وقت دکھلاتی ہے صبح جس کا گورا رنگ ہو وہ رات کو کھلتا ہے خوب روشنائی شمع کی پھیکی نظر آتی ہے صبح پاس تو سوتا ہے چنچل پر گلے لگتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 476 سے 4657