شاعری

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت طائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت گو ظل ہما مت ہو رہے سر پہ ہمارے تا حشر تیرا سایۂ دیوار سلامت اطوار ترے باعث آفات جہاں ہیں آثار ترے ہیں گے سب آثار قیامت صیاد نہ اب بے پر و بالوں کو تو اب چھوڑ پھر حسرت گل دے گی ہمیں سخت اذیت اسباب جہاں کی تو دلا ...

مزید پڑھیے

یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ

یار سے اب کے گر ملوں تاباںؔ تو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباںؔ یا بھرے اب کے اس سے دل میرا عشق کا نام پھر نہ لوں تاباںؔ مجھ سے بیمار ہے مرا ظالم یہ ستم کس طرح سہوں تاباںؔ آج آیا ہے یار گھر میرے یہ خوشی کس سے میں کہوں تاباںؔ میں تو بیزار اس سے ہوں لیکن دل کے ہاتھوں سے کیا کروں ...

مزید پڑھیے

ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویں

ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویں اور خاک اپنے سر پر من مانتی اڑاویں شور جنوں ہے ہم کو اور فصل گل بھی آئی اب چاک کر گریباں کیوں کر نہ بن میں جاویں بے درد لوگ سب ہیں ہمدرد ایک بھی نہیں یارو ہم اپنے دکھ کو جا کس کے تئیں سناویں یہ آرزو ہماری مدت سے ہے کہ جا کر قاتل کی تیغ کے تئیں ...

مزید پڑھیے

داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوں

داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوں رشک سے شمع کو جلاتا ہوں وہ مرا شوخ ہے نپٹ چنچل بھاگ جاتا ہے جب بلاتا ہوں اس پری رو کو دیکھتا ہوں جب ہو کے دیوانہ سدھ بھلاتا ہوں مجھ کو دیتا ہے گالیاں اٹھ کر نیند سے جب اسے جگاتا ہوں جب مجھے گھیرتا ہے غم تاباںؔ ساغر مے کو بھر پلاتا ہوں

مزید پڑھیے

تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیں

تیری آنکھیں بڑی سی پیاری ہیں ان کے پھر دیکھنے کی واری ہیں گالیاں تیں جو دے گیا تھا مجھے مجھ کو اب تک وہ یادگاری ہیں آتش عشق میں جو جل نہ مریں عشق کے فن میں وہ اناری ہیں رات جاگا ہے پی شراب کہیں تیری آنکھیں نپٹ خماری ہیں تم سے کہتا ہے جان سچ تاباںؔ جھوٹی باتیں سبھی تمہاری ہیں

مزید پڑھیے

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح ساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرح یار کے پاؤں پہ سر رکھ جی کو اپنے دیجئے اس سے بہتر اور نہیں ہوتی ہے مر جانے کی طرح کب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شراب جاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح مست آتا ہے پئے مے آج وہ قاتل ...

مزید پڑھیے

یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بس

یاں تلک کے ہے ترے ہجر میں فریاد کہ بس نہ ہوا تو بھی کبھی ہائے یہ ارشاد کہ بس ایک بلبل بھی چمن میں نہ رہی اب کی فصل ظلم ایسا ہی کیا تو نے اے صیاد کہ بس بے ستوں کھود کے سر پھوڑ دیا جی اپنا کام ایسا ہی ہوا تجھ سے اے فرہاد کہ بس دل کی حسرت نہ رہی دل میں مرے کچھ باقی ایک ہی تیغ لگا ایسی ...

مزید پڑھیے

عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے

عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے مردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیح فانی ہے جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے آدمی کو چپ رہنا موت کی نشانی ہے جو کہ تیرا عاشق ہے اس کا اے گل رعنا رنگ زعفرانی ہے اشک ارغوانی ہے آہ کی نہیں طاقت تاب نہیں ہے نالے کی ہجر میں ترے ظالم کیا ہی ناتوانی ہے چار دن ...

مزید پڑھیے

سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں

سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں کیا بلبلوں نے دیکھو دھومیں مچائیاں ہیں بیمار ہو زمیں سے اٹھتے نہیں عصا بن نرگس کو تم نے شاید آنکھیں دکھائیاں ہیں دیکھ اس کو آئنہ بھی حیران ہو گیا ہے چہرے پہ جان تیرے ایسی صفائیاں ہیں خورشید اس کو کہئے تو جان ہے وہ پیلا گر مہ کہوں ترا منہ تو ...

مزید پڑھیے

نہیں تم مانتے میرا کہا جی

نہیں تم مانتے میرا کہا جی کبھی تو ہم بھی سمجھیں گے بھلا جی اچنبھا ہے مجھے بلبل کہ گل بن قفس میں کس طرح تیرا لگا جی تمہارے خط کے آنے کی خبر سن میاں صاحب نپٹ میرا کڑھا جی زکوٰۃ حسن دے میں بے نوا ہوں یہی ہے تم سے اب میری صدا جی کسی کے جی کے تئیں لیتا ہے دشمن مرا تو لے گیا ہے آشنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 475 سے 4657