شاعری

شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو دن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو قبلہ نہ سرکشی کرو حسن پہ اپنے اس قدر تم سے بہت ہیں کج کلاہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو خانہ خراب عشق نے کھو کے مری حیا و شرم مجھ کو کیا ذلیل آہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو تو نے جو کچھ کہ کی جفا تا دم قتل ...

مزید پڑھیے

ایک ہی جام کو پلا ساقی

ایک ہی جام کو پلا ساقی عدل اور ہوش لے گیا ساقی ابر ہے مجھ کو مے پلا ساقی اس ہوا میں نہ جی کڑھا ساقی لب دریا پہ چاندنی دیکھوں ہو اگر مجھ سے آشنا ساقی صبح آیا شراب میں مخمور نیند سے اٹھ کے مسمسا ساقی سب کے تئیں تو نے مے پلائی ہے میں ترستا ہی رہ گیا ساقی قہر ہے مے اگر نہ دے اس ...

مزید پڑھیے

مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے

مجھے عیش و عشرت کی قدرت نہیں ہے کروں ترک دنیا تو ہمت نہیں ہے کبھی غم سے مجھ کو فراغت نہیں ہے کبھی آہ و نالہ سے فرصت نہیں ہے صفوں کی صفیں عاشقوں کی الٹ دیں قیامت ہے یہ کوئی قامت نہیں ہے برستا ہے مینہ میں ترستا ہوں مے کو غضب ہے یہ باران رحمت نہیں ہے مرے سر پہ ظالم نہ لایا ہو جس ...

مزید پڑھیے

نہ مرے پاس عزت رمضاں

نہ مرے پاس عزت رمضاں نہ کبھو کی عبادت رمضاں دشمن عیش کا میں دشمن ہوں گو کہ تھے فرض حرمت رمضاں مجھ کو مسجد سے کام نہیں الا سننے جاتا ہوں رخصت رمضاں شیخ روتا ہے اپنی روزی کو کہ نہ از بہر فرقت رمضاں کچھ نہ حاصل ہوا کسی کے تئیں غیر فاقہ بدولت رمضاں زاہد خشک کے تئیں دیکھے یاد آتی ...

مزید پڑھیے

کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا

کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا ہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپنا ہوا بھی عشق کی لگنے نہ دیتا میں اسے ہرگز اگر اس دل پہ ہوتا ہائے کچھ بھی اختیار اپنا یہ دونو لازم و ملزوم ہیں گویا کہ آپس میں نہ یار اپنا کبھو ہوتے سنانے روزگار اپنا ہوا ہوں خاک اس کے غم میں تو بھی ...

مزید پڑھیے

ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں

ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں باراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوں زاہد ہو اور تقویٰ عابد ہو اور مصلیٰ مالا ہو اور برہمن صہبا ہو اور ہم ہوں مجنوں ہیں ہم ہمیں تو اس شہر سے ہے وحشت شہری ہوں اور بستی صحرا ہو اور ہم ہوں یارب کوئی مخالف ہووے نہ گرد میرے خلوت ہو اور شب ہو ...

مزید پڑھیے

تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحب

تمہارے ہجر میں رہتا ہے ہم کو غم میاں صاحب خدا جانے جئیں گے یا مریں گے ہم میاں صاحب اگر بوسہ نہ دینا تھا کہا ہوتا نہیں دیتا تم اتنی بات سے ہوتے ہو کیا برہم میاں صاحب خطا کچھ ہم نے کی یا غیر ہے شاید تمہیں مانع سبب کیا ہے کہ تم آتے ہو اب کچھ کم میاں صاحب اگر تو شہرۂ آفاق ہے تو تیرے ...

مزید پڑھیے

کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہے

کسی کا کام دل اس چرخ سے ہوا بھی ہے کوئی زمانہ میں آرام سے رہا بھی ہے کسی میں مہر و محبت کہیں وفا بھی ہے کوئی کسی کا زمانہ میں آشنا بھی ہے کوئی فلک کا ستم مجھ سے بچ رہا بھی ہے جنا نصیب کوئی مجھ سا دوسرا بھی ہے برا نہ مانیو میں پوچھتا ہوں اے ظالم کہ بے کسوں کے ستائے سے کچھ بھلا بھی ...

مزید پڑھیے

خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں

خوب رو جو ایک کا محبوب نہیں ایسے ہرجائی سے ملنا خوب نہیں چولی نیچی مت پہن اے جامہ زیب اس میں چھب تختی کا کچھ اسلوب نہیں میں تو طالب دل سے ہوں گا دین کا دولت دنیا مجھے مطلوب نہیں صبر کب تک ہجر میں تیرے کروں میں ترا عاشق ہوں کوئی ایوب نہیں یار کی تاباںؔ زنخداں کو نہ چاہ دیکھ کہتا ...

مزید پڑھیے

مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں

مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں کرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاں میرا ہی خانماں نہیں ویراں ہوا کوئی بہتوں کی کی ہیں عشق نے خانہ خرابیاں خوان فلک پہ نعمت الوان ہے کہاں خالی ہے مہر و ماہ کی دونوں رکابیاں ہرگز خم فلک میں نہیں ہے شراب عشق غنچوں کی خون دل سے بھری ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 477 سے 4657