شاعری

تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلے

تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلے یہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلے اس کی زباں میں اتنا اثر ہے کہ نصف شب وہ روشنی کی بات کرے اور دیا جلے تم چاہتے ہو تم سے بچھڑ کے بھی خوش رہوں یعنی ہوا بھی چلتی رہے اور دیا جلے کیا مجھ سے بھی عزیز ہے تم کو دیے کی لو پھر تو میرا مزار بنے اور دیا جلے سورج ...

مزید پڑھیے

جانے والے سے رابطہ رہ جائے

جانے والے سے رابطہ رہ جائے گھر کی دیوار پر دیا رہ جائے اک نظر جو بھی دیکھ لے تجھ کو وہ ترے خواب دیکھتا رہ جائے اتنی گرہیں لگی ہیں اس دل پر کوئی کھولے تو کھولتا رہ جائے کوئی کمرے میں آگ تاپتا ہو کوئی بارش میں بھیگتا رہ جائے نیند ایسی کہ رات کم پڑ جائے خواب ایسا کہ منہ کھلا رہ ...

مزید پڑھیے

پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا

پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا میں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گا اگر خدا نے بنانے کا اختیار دیا علم بناؤں گا برچھی نہیں بناؤں گا فریب دے کے ترا جسم جیت لوں لیکن میں پیڑ کاٹ کے کشتی نہیں بناؤں گا گلی سے کوئی بھی گزرے تو چونک اٹھتا ہوں نئے مکان میں کھڑکی نہیں بناؤں گا میں ...

مزید پڑھیے

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے ورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مرے تعاقب میں ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے میری آنکھوں پہ دو مقدس ہاتھ یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھا پیڑ سے خامشی ملی ہے مجھے میں اسے کب ...

مزید پڑھیے

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے ہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہے اے قیس تیرے دشت کو اتنی دعائیں دیں کچھ بھی نہیں ہے میری دعاؤں میں ریت ہے صحرا سے ہو کے باغ میں آیا ہوں سیر کو ہاتھوں میں پھول ہیں مرے پاؤں میں ریت ہے مدت سے میری آنکھ میں اک خواب ہے مقیم پانی میں پیڑ پیڑ کی ...

مزید پڑھیے

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گا مری قریب کے جنگل سے بات ہو گئی ہے بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھا تری جدائی ہی وجہ نشاط ہو گئی ہے بدن میں ایک طرف دن طلوع میں نے کیا بدن کے دوسرے حصے میں رات ہو ...

مزید پڑھیے

شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا

شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا خاموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش میں گزری ہے دستک ہوگی اور دروازہ کھولوں گا تنہائی میں خود سے باتیں کرنی ہیں میرے منہ میں جو آئے گا بولوں گا رات بہت ہے تم چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے میں دن میں بھی سو لوں گا تم کو دل کی بات ...

مزید پڑھیے

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں دل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیں سرخ لبوں سے سبز دعائیں پھوٹی ہیں پیلے پھولوں تم کو نیلی آنکھیں دیکھیں سال ہونے کو آیا ہے وہ کب لوٹے گا آؤ کھیت کی سیر کو نکلیں کونجیں دیکھیں تھوڑی دیر میں جنگل ہم کو عاق کرے گا برگد دیکھیں یا برگد کی ...

مزید پڑھیے

جب کسی ایک کو رہا کیا جائے

جب کسی ایک کو رہا کیا جائے سب اسیروں سے مشورہ کیا جائے رہ لیا جائے اپنے ہونے پر اپنے مرنے پہ حوصلہ کیا جائے عشق کرنے میں کیا برائی ہے ہاں کیا جائے بارہا کیا جائے میرا اک یار سندھ کے اس پار ناخداؤں سے رابطہ کیا جائے میری نقلیں اتارنے لگا ہے آئینے کا بتاؤ کیا کیا جائے خامشی سے ...

مزید پڑھیے

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے اور پھر میں بادل پہ سایہ کرتا تھا بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا بنت صحرا روٹھا کرتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 467 سے 4657