شاعری

آنے والا ہے کوئی مہمان کیا

آنے والا ہے کوئی مہمان کیا ہو گئے سب مرحلے آسان کیا وقت کی رفتار کیسے تھم گئی ہو گیا ہے ہر نفس بے جان کیا ٹوٹنا جڑنا تو ہے اک سلسلہ ہو رہے ہو اس قدر حیران کیا زندگی سے رشتہ اپنا توڑ کر جا رہے ہو جب تو یہ سامان کیا دھوپ کے سائے میں چپ سادھے ہوئے کر رہے ہو امن کا اعلان ...

مزید پڑھیے

نہیں کوئی خبر کرنا نہیں ہے

نہیں کوئی خبر کرنا نہیں ہے ہمیں کچھ بھی اثر کرنا نہیں ہے بہت ہی خوب صورت زندگی ہے مگر آساں بسر کرنا نہیں ہے ہوا کو راستہ گر مل بھی جائے چراغوں پر اثر کرنا نہیں ہے گھروندے ہی میں اپنے لوٹ جاؤں کہ خود کو در بدر کرنا نہیں ہے ہزاروں راستے تو منتظر ہیں تخیل میں سفر کرنا نہیں ...

مزید پڑھیے

درد دل کے طبیب ہوتے ہیں

درد دل کے طبیب ہوتے ہیں بعض دشمن عجیب ہوتے ہیں وسوسے الجھنیں تمنائیں دل کے کتنے رقیب ہوتے ہیں ہنستے ہنستے بگڑنا ہو جن کو ایسے بھی تو نصیب ہوتے ہیں موت اور زندگی کے رشتوں میں فاصلے کچھ عجیب ہوتے ہیں دن اگر کٹ بھی جاتا ہے عادلؔ شب کے سائے مہیب ہوتے ہیں

مزید پڑھیے

یہ نہیں وہ رہ گزر کچھ اور ہے

یہ نہیں وہ رہ گزر کچھ اور ہے میرے خوابوں کا نگر کچھ اور ہے رنگ تھے کل آنکھ میں کچھ اور ہی آج بھی رقص شرر کچھ اور ہے لب پہ میرے ہے تبسم کا غبار ہاں مگر زخم جگر کچھ اور ہے خود کے ہونے کا گماں ہے بھی تو کیا سامنے اپنے مگر کچھ اور ہے شب میں تھیں چاروں طرف شادابیاں حادثہ وقت سحر کچھ ...

مزید پڑھیے

بات جو تجھ سے زبانی ہو گئی

بات جو تجھ سے زبانی ہو گئی کچھ حقیقت کچھ کہانی ہو گئی بے سبب پھرتی نہیں ہے راہ میں شہر کی لڑکی سیانی ہو گئی رات پھر پاگل ہوا کے شور میں زیست میری داستانی ہو گئی روز کہتے ہیں مگر کہتے نہیں زندگی اپنی کہانی ہو گئی بات اپنے شہر کی کچھ تو کہو قاتلوں کی پاسبانی ہو گئی کس لیے بے کیف ...

مزید پڑھیے

آشنائی بزور نہیں ہوتی

آشنائی بزور نہیں ہوتی مت کرو شر و شور نہیں ہوتی دوستی جو کہ بے طمع ہو ہے زر اگر دو کرور نہیں ہوتی ایک مرتا ہوں تس پے تو مت مر گور پر اور گور نہیں ہوتی

مزید پڑھیے

کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رت

کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رت بورائے خاص و عام کہ آئی بسنت رت وہ زرد پوش جس کوں بھر آغوش میں لیا گویا کہ تب گلے سیں لگائی بسنت رت وہ زرد پوش جس کا کہ گن گاوتے ہیں ہم شوخی نیں اس کی ناچ نچائی بسنت رت غنچے نیں اس بہار میں کڈوایا اپنا دل بلبل چمن میں پھول کے گائی بسنت رت ٹیسو کے ...

مزید پڑھیے

اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا

اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا نظر کر لطف کی ہم کوں جلاؤ گے تو کیا ہوگا تمہارے لب کی سرخی لعل کی مانند اصلی ہے اگر تم پان اے پیارے نہ کھاؤ گے تو کیا ہوگا محبت سیں کہتا ہوں طور بد نامی کا بہتر نہیں اگر خندوں کی صحبت میں نہ جاؤ گے تو کیا ہوگا تمہارے شوق میں ہوں جاں ...

مزید پڑھیے

اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ

اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ کھول آپس کے بیچ کلے شیخ تیر سا قد کمان کر اپنا کھینچ فاقوں کے بیچ چلے شیخ چھوڑ تسبیح ہزار دانوں کی ہاتھ میں اپنے ایک دل لے شیخ بھونک مت غیر پر نہ کر حملہ مرد ہے نفس پر تو پل لے شیخ خال خوباں سیں تجھ کوں کیا نسبت بس ہیں بکرے کے تجھ کو تلے شیخ اس سے ...

مزید پڑھیے

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہار رسمسا پھولوں بسا آیا انکھوں میں نیند ہے شیر عاشق آج کے دن کیوں رقیباں پے نہ ہوں یار پایا ہے بغل میں خانۂ خورشید ہے غم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہے حضرت رمضاں گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4500 سے 4657