آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہوا
آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہوا جامہ گلے میں رات کے پھولوں بسا ہوا کم مت گنو یہ بخت سیاہوں کا رنگ زرد سونا وہی جو ہووے کسوٹی کسا ہوا انداز سیں زیادہ نپٹ ناز خوش نہیں جو خال حد سے زیادہ بڑھا سو مسا ہوا قامت کا سب جگت منیں بالا ہوا ہے نام قد اس قدر بلند تمہارا رسا ہوا زاہد کے قد ...