شاعری

یاس ہے حسرت ہے غم ہے اور شب دیجور ہے

یاس ہے حسرت ہے غم ہے اور شب دیجور ہے اتنے ساتھی ہیں مگر تنہا دل رنجور ہے تیرا جانا تھا کہ غم خانے پہ وحشت چھا گئی میں یہ سمجھا تھا مرے گھر سے بیاباں دور ہے شب کی خاموشی میں ہے تیرا تصور تیری یاد ہائے کیا سامان تسکین دل رنجور ہے

مزید پڑھیے

پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہے

پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہے کوئی دھیمے سروں میں گا رہا ہے کہوں کیا حال ناکام محبت تمناؤں سے جی بہلا رہا ہے کوئی شب کی خموشی میں ہے گریاں تصور میں کوئی سمجھا رہا ہے تصور کی یہ مقصد آفرینی میں سمجھا کوئی سچ مچ آ رہا ہے جو رستہ خلد میں نکلا ہے جا کر وہ دوزخ سے نکل کر جا رہا ہے

مزید پڑھیے

رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے

رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سے پھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سے لاکھ ارمانوں کے اجڑے ہوئے گھر ہیں دل میں یہ وہ بستی ہے کہ آباد ہے ویرانوں سے لالہ زاروں میں جب آتی ہیں بہاریں ساقی آگ لگ جاتی ہے ظالم ترے پیمانوں سے اب کوئی دیر میں الفت کا طلب گار نہیں اٹھ گئی رسم وفا ...

مزید پڑھیے

جو ملتے وہ تو اتنا پوچھتا میں

جو ملتے وہ تو اتنا پوچھتا میں کہ تم ہو بے وفا یا بے وفا میں یہ حالت ہو گئی مرتے ہی میرے کبھی دنیا ہی میں گویا نہ تھا میں خدا جانے وہ سمجھے یا نہ سمجھے اشاروں میں بہت کچھ کہہ گیا میں مسافر بن کے آخر یہ کھلا راز ہوں منزل میں سفر میں رہنما میں سر منزل ہمارا قافلہ ہے کہاں اللہ جانے ...

مزید پڑھیے

اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی

اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی ضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کی ہوئے رخصت جہاں سے صبح ہوتے کہانی ہجر میں یوں مختصر کی تڑپ اٹھے لحد میں سونے والے زمیں کی سمت یوں تم نے نظر کی سحر کو موت کی مانگی دعائیں دعا مقبول ہوتی ہے سحر کی یہ بجلی ہے کہ اے ابر شب ہجر ہے دھجی ایک دامان سحر کی

مزید پڑھیے

عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوں

عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوں بے زباں شامل ہوئے جاتے ہیں مہمانوں میں کیوں ہو گئے دیوانے رخصت بستیوں کی سمت کیا چھا گئیں ویرانیاں سی پھر بیابانوں میں کیوں دل کی اس بے رونقی کا ذکر جانے دیجئے ہو رہی ہیں بستیاں تبدیل ویرانوں میں کیوں ہے رقابت جزو لازم مہر و الفت کا ...

مزید پڑھیے

اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہا

اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہا کیونکر جیوں کہ زیست کا ساماں نہیں رہا گردوں کی سمت دیکھ کے رخصت ہوا مریض جب کوئی اس کے حال کا پرساں نہیں رہا تاروں نے کر دیا تری وحشت کا راز فاش اے رات تیرا حسن بھی پنہاں نہیں رہا مجھ پر تو تیری آنکھ نے پھر کر غضب کیا میں لطف گیر گردش دوراں ...

مزید پڑھیے

اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی

اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی ضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کی ہوئے رخصت جہاں سے صبح ہوتے کہانی ہجر کی یوں مختصر کی تڑپ اٹھے لحد کے سونے والے زمیں کی سمت کیوں تم نے نظر کی سحر دیکھیں یہ حسرت لے گئے ہم بتائیں کیا تمہیں کیوں کر سحر کی

مزید پڑھیے

فرضی دعویدار ہے

فرضی دعویدار ہے اپنی جو بھی یاری ہے میرے وعدے پر مت جا یہ بالکل سرکاری ہے وقت کو کوسو کے اس کی رگ رگ میں مکاری ہے اور بھلا کیا ہے جینا مرنے کی تیاری ہے اک بس تو ہی ہے تیرا باقی دنیا داری ہے اور تو کیا کرتے تنہا خود سے ہی جھک ماری ہے تم کو پڑھ کر بھول گیا دل بھی کیسا کاری ہے دل ...

مزید پڑھیے

عجب معمول ہے آوارگی کا

عجب معمول ہے آوارگی کا گریباں جھانکتی ہے ہر گلی کا نہ جانے کس طرح کیسے خدا نے بھروسہ کر لیا تھا آدمی کا ابھی اس وقت ہے جو کچھ ہے ورنہ کوئی لمحہ نہیں موجودگی کا مجھے تم سے بچھڑنے کے عوض میں وسیلہ مل گیا ہے شاعری کا زمیں ہے رقص میں سورج کی جانب چھپا کر جسم آدھا تیرگی کا میں اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4469 سے 4657