کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے
کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے دراصل سلسلہ پس پردہ کچھ اور ہے ہر دم تغیرات کی زد میں ہے کائنات دیکھیں پلک جھپک کے تو نقشہ کچھ اور ہے جو کچھ نگاہ میں ہے حقیقت میں وہ نہیں جو تیرے سامنے ہے تماشا کچھ اور ہے رکھ وادئ جنوں میں قدم پھونک پھونک کر اے بے خبر سنبھل کہ یہ رشتہ کچھ ...