شاعری

کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے

کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے دراصل سلسلہ پس پردہ کچھ اور ہے ہر دم تغیرات کی زد میں ہے کائنات دیکھیں پلک جھپک کے تو نقشہ کچھ اور ہے جو کچھ نگاہ میں ہے حقیقت میں وہ نہیں جو تیرے سامنے ہے تماشا کچھ اور ہے رکھ وادئ جنوں میں قدم پھونک پھونک کر اے بے خبر سنبھل کہ یہ رشتہ کچھ ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے

قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے زمین اب بھی کہیں آسماں کی زد میں ہے ہر ایک گام الجھتا ہوں اپنے آپ سے میں وہ تیر ہوں جو خود اپنی کماں کی زد میں ہے وہ بحر ہوں جو خود اپنے کنارے چاٹتا ہے وہ لہر ہوں کہ جو سیل رواں کی زد میں ہے میں اپنی ذات پہ اصرار کر رہا ہوں مگر یقیں کا کھیل مسلسل ...

مزید پڑھیے

دیکھے کوئی تعلق خاطر کے رنگ بھی

دیکھے کوئی تعلق خاطر کے رنگ بھی اس فتنہ خو سے پیار بھی ہے اور جنگ بھی دل ہی نہیں ہے اس کے تصور میں شاد کام اک سر خوشی میں جھومتا ہے انگ انگ بھی کچھ ربط خاص اصل کا ظاہر کے ساتھ ہے خوشبو اڑے تو اڑتا ہے پھولوں کا رنگ بھی ایسا نہیں کہ آٹھ پہر بے دلی رہے بجتے ہیں غم کدے میں کبھی جل ...

مزید پڑھیے

گھڑی گھڑی اسے روکو گھڑی گھڑی سمجھاؤ (ردیف .. ٔ)

گھڑی گھڑی اسے روکو گھڑی گھڑی سمجھاؤ مگر یہ دل ہے کہ کچھ دیکھتا ہے آؤ نہ تاؤ اب اس کے درد کو دل میں لیے تڑپتے ہو کہا تھا کس نے کہ اس خوش نظر سے آنکھ ملاؤ عجب طرح کے جھمیلے ہیں عشق میں صاحب برت سکو تو ہو معلوم آٹے دال کا بھاؤ چلو وہ اگلا سا جوش و خروش تو نہ رہا مگر یہ کیا کہ ملو اور ...

مزید پڑھیے

وجود کا انحصار گو خاک پر نہیں تھا

وجود کا انحصار گو خاک پر نہیں تھا مگر میں اپنی زمیں سے بے خبر نہیں تھا عجب طرح کا طلسم تھا اس مفارقت میں بدن لرزتا تھا اور آنکھوں میں ڈر نہیں تھا لہو سے میں نے دیے کی لو سرفراز رکھی وہاں جہاں پر ہواؤں کا بھی گزر نہیں تھا مگر بہت دیر بعد جا کر خبر ہوئی تھی وہ میرے ہم راہ تھا مرا ...

مزید پڑھیے

یہ ہستئ دل اس پہ یہ طوفان تمنا

یہ ہستئ دل اس پہ یہ طوفان تمنا اللہ رے اے جوش فراوان تمنا دنیا میں ہوں میں سوختہ سامان تمنا دل ہے مرا اک خانۂ ویران تمنا برباد ہوا آج کسی کا دل وحشی ہے خاک بسر کوچۂ ویران تمنا جز خواب نہیں صبح امید دل مایوس جز وہم نہیں مہر درخشان تمنا اک حسرت محبوس ہے سرنامۂ الفت درد دل وا ...

مزید پڑھیے

دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیا

دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیا میں نے پھولوں میں ہنسی کا تیری چرچا کر دیا اپنی وحشت اپنی بدنامی کا مجھ کو غم نہیں اس کا رونا ہے کہ میں نے تجھ کو رسوا کر دیا پھر مریض غم نہ بولا دیکھ کر ظالم تجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ کیا کہہ دیا کیا کر دیا سامنے تم آ گئے میں دل پکڑ کر رہ ...

مزید پڑھیے

جن کو ہر حالت میں خوش اور شادماں پاتا ہوں میں

جن کو ہر حالت میں خوش اور شادماں پاتا ہوں میں ان کے گلشن میں بہار بے خزاں پاتا ہوں میں صبح کی منزل کا تاروں سے پتا کیا پوچھنا ظلمت شب کارواں در کارواں پاتا ہوں میں چاند کے اس پار سورج سے ادھر تاروں سے دور رقص کرتے روز و شب لاکھوں جہاں پاتا ہوں میں

مزید پڑھیے

آغاز ہوا ہے الفت کا اب دیکھیے کیا کیا ہونا ہے

آغاز ہوا ہے الفت کا اب دیکھیے کیا کیا ہونا ہے یا ساری عمر کی راحت ہے یا ساری عمر کا رونا ہے شاید تھا بیاض شب میں کہیں اکسیر کا نسخہ بھی کوئی اے صبح یہ تیری جھولی ہے یا دنیا بھر کا سونا ہے تدبیر کے ہاتھوں سے گویا تقدیر کا پردہ اٹھتا ہے یا کچھ بھی نہیں یا سب کچھ ہے یا مٹی ہے یا سونا ...

مزید پڑھیے

مانا وہ چھپنے والا ہر دل میں چھپ جائے گا

مانا وہ چھپنے والا ہر دل میں چھپ جائے گا لیکن ڈھونڈھنے والا بھی ڈھونڈے گا اور پائے گا کیا ہوتا ہے محبت میں یہ مجھ کو معلوم نہیں جس نے آگ لگائی ہے وہی آگ بجھائے گا میں تو نام کا مالی ہوں پھولوں کا رکھوالا ہوں جس نے بیل لگائی ہے خود پروان چڑھائے گا جس نے خزاں کو بھیجا ہے اس کے پاس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4468 سے 4657