آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی
آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی آئی خزاں گل زار میں جب گلبرگ سے گلخن تابی کی کنج لحد میں مجھ کو سلا کے پوچھتے ہیں وہ لوگوں سے نیند انہیں اب آ گئی کیوں کر کیا ہوئی جو بد خوابی کی سوچ میں ہیں کچھ پاس نہیں کس طرح عدم تک پہنچیں گے آ کے سفر درپیش ہوا ہے فکر ہے بے اسبابی ...