شاعری

آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی

آگ لگا دی پہلے گلوں نے باغ میں وہ شادابی کی آئی خزاں گل زار میں جب گلبرگ سے گلخن تابی کی کنج لحد میں مجھ کو سلا کے پوچھتے ہیں وہ لوگوں سے نیند انہیں اب آ گئی کیوں کر کیا ہوئی جو بد خوابی کی سوچ میں ہیں کچھ پاس نہیں کس طرح عدم تک پہنچیں گے آ کے سفر درپیش ہوا ہے فکر ہے بے اسبابی ...

مزید پڑھیے

چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں

چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیں طے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیں عشق کس واسطے کرتے ہیں پری زادوں سے کس لیے جان پر آفت یہ بشر لیتے ہیں دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو اک نمکداں میں نمک پیس کے بھر لیتے ہیں خاک اڑ جاتی ہے ستھراو ادھر ہوتا ہے نیمچا کھینچ کے وہ باگ ...

مزید پڑھیے

تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیے

تری ہوس میں جو دل سے پوچھا نکل کے گھر سے کدھر کو چلیے تڑپ کے بولا جدھر وہ نکلے شتاب اسی رہ گزر کو چلیے نہ چاہئے کچھ عدم کو لے کر نکلیے ہستی سے جان دے کر سفر جو لیجے رہ خدا میں لٹا کے زاد سفر کو چلیے ازل سے اس کا ہی آسرا ہے جو دینے والا مرادوں کا ہے برائے فی الفور امید دل کو جو چومنے ...

مزید پڑھیے

سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں

سناٹے کا عالم قبر میں ہے ہے خواب عدم آرام نہیں امکان نمود صبح نہیں امید چراغ شام نہیں دل نامے کے شک لے پرزے کیا اے وائے نصیبے کا یہ لکھا پیشانی پر ان کی مہر نہیں سر نامے پہ میرا نام نہیں جاتے ہیں جو اجڑے زندہ چمن اس باغ جہاں کی وجہ یہ ہے گل زار یہ جس گلفام کا ہے اس باغ میں وہ گلفام ...

مزید پڑھیے

درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیے

درپیش اجل ہے گنج شہیداں خریدیے تربت کے واسطے چمنستاں خریدیے سودا پکارتا ہے یہ فصل بہار میں گلشن نہ مول لیجئے زنداں خریدیے بازار میں یہ کرتی ہیں غل میری بیڑیاں سوہن ہمارے کاٹنے کو یاں خریدیے رفت و گزشت بھی ہوا وحشت کا ولولہ سوزن برائے چاک گریباں خریدیے لے لیجئے مرا دل صدچاک ...

مزید پڑھیے

وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالی

وہ رنگت تو نے اے گل رو نکالی نچھاور کو گلوں نے بو نکالی مزاج بوئے سنبل کر کے موقوف صبا نے نکہت گیسو نکالی نہ تھی جانے کی اس تک راہ دل کی چھری سے چیر کے پہلو نکالی نکاسی جب نہ دیکھی یاس دل کی بہا کے آٹھ آٹھ آنسو نکالی ہماری روح اک رشک چمن نے سنگھا کے پھول کی خوشبو نکالی مرے صیاد ...

مزید پڑھیے

رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے

رنگ جن کے مٹ گئے ہیں ان میں یار آنے کو ہے دھوم ہے پژمردہ پھولوں میں بہار آنے کو ہے یار کوچے میں ترے دھونی رمانے کے لیے غمزدہ حسرت زدہ اک خاکسار آنے کو ہے رحم کرنا اب کی میری آنکھ کھلنے کی نہیں آخری غش مجھ کو اے پروردگار آنے کو ہے کوئی دم میں حشر ہوگا کچھ خبر بھی ہے تمہیں بے قراری ...

مزید پڑھیے

دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں

دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں یہ تعلق تو کوئی رشتہ نہیں لوگ کس کس طرح سے زندہ ہیں ہمیں مرنے کا بھی سلیقہ نہیں سوچیے تو ہزار پہلو ہیں دیکھیے بات اتنی سادہ نہیں خواب بھی اس طرف نہیں آتے اس مکاں میں کوئی دریچہ نہیں چلو مر کر کہیں ٹھکانے لگیں ہم کہ جن کا کوئی ٹھکانا نہیں منزلیں ...

مزید پڑھیے

منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا

منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستان گلاب لکھنا میں جب چلوں گا تو ریگزاروں میں الفتوں کے کنول کھلیں گے ہزار تم میرے راستوں میں محبتوں کے سراب لکھنا فراق موسم کی چلمنوں سے وصال لمحے چمک اٹھیں گے اداس شاموں میں کاغذ دل پہ گزرے وقتوں کے ...

مزید پڑھیے

گزرتے وقت کی کوئی نشانی ساتھ رکھتا ہوں

گزرتے وقت کی کوئی نشانی ساتھ رکھتا ہوں کہ میں ٹھہراؤ میں بھی اک روانی ساتھ رکھتا ہوں سمجھ میں خود مری آتا نہیں حالات کا چکر مکاں رکھتا نہیں ہوں لا مکانی ساتھ رکھتا ہوں گزرنا ہے مجھے کتنے غبار آلود رستوں سے سو اپنی آنکھ میں تھوڑا سا پانی ساتھ رکھتا ہوں فنا ہونا اگر لکھا گیا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4467 سے 4657