جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی
جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی نصیب ہوتے ہی چودھویں شب شکوہ رخصت ہوئی قمر کی وہ شوخ چتون تھی کس ستم کی کہ جس نے چشمک کہیں نہ کم کی کسی طرف کو جو برق چمکی تو سمجھے گردش اسے نظر کی ترا ہی دنیا میں ہے فسانہ ترا ہی شیدائی ہے زمانہ ترے ہی غم میں ہوئیں روانہ نکل کے روحیں ...