شاعری

جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی

جوانی آئی مراد پر جب امنگ جاتی رہی بشر کی نصیب ہوتے ہی چودھویں شب شکوہ رخصت ہوئی قمر کی وہ شوخ چتون تھی کس ستم کی کہ جس نے چشمک کہیں نہ کم کی کسی طرف کو جو برق چمکی تو سمجھے گردش اسے نظر کی ترا ہی دنیا میں ہے فسانہ ترا ہی شیدائی ہے زمانہ ترے ہی غم میں ہوئیں روانہ نکل کے روحیں ...

مزید پڑھیے

اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیے

اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیے کس طرح دونوں بازوؤں میں پر لگائیے اک تیر دل پر ایک جگر پر لگائیے حصہ لگائیے تو برابر لگائیے پھولوں میں توپئے مجھے نازک دماغ ہوں للہ اس لحد میں نہ پتھر لگائیے جب بزم یار میں ہے تکلف رسائی کا خلوت سرائے خاص میں بستر لگائیے ہر دم کیا کرے رگ جاں مرحبا ...

مزید پڑھیے

دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں

دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں جب وہ بیٹھیں ہیں آ کے پہلو میں ڈبڈباتے ہی آنکھیں پتھرائی کیا ہی حسرت بھری تھی آنسو میں سرکشی کی جو بوئے گیسو نے چھپ رہا مشک ناف آہو میں زندگی بھر کریں گے اس کی تلاش چل بسیں گے اسی تکابو میں درد دل روئی سے نہ سکوانا آگ ہے اس طرف کے پہلو میں کون کہتا ...

مزید پڑھیے

تیرے عالم کا یار کیا کہنا

تیرے عالم کا یار کیا کہنا ہر طرف ہے پکار کیا کہنا اف نہ کی درد ہجر ضبط کیا اے دل بے قرار کیا کہنا وعدۂ وصل ان سے لوں کیوں کر میرا کیا اختیار کیا کہنا کیا ہی نیرنگیاں دکھائی ہیں میرے باغ و بہار کیا کہنا کیسے عاشق ہیں ان سے جب پوچھا بولے بے اختیار کیا کہنا مشت پر بھی گلوں کے گرد ...

مزید پڑھیے

پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں

پری پیکر جو مجھ وحشی کا پیراہن بناتے ہیں گریباں چاک کر دیتے ہیں بے دامن بناتے ہیں جنوں میں جا بجا ہم جو لہو روتے ہیں صحرا میں گلوں کے شوق میں ویرانے کو گلشن بناتے ہیں جنہیں عشق دلی ہے وہ تمہارا نام جپنے کو طہارت سے ہماری خاک کی مسرن بناتے ہیں مرقع کھینچتے ہیں جو ترے گنج شہیداں ...

مزید پڑھیے

دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں

دل کو افسوس جوانی ہے جوانی اب کہاں کوئی دم میں چل بسیں گے زندگانی اب کہاں آپ الٹتے ہیں وہ پردہ وہ کہانی اب کہاں عاشقوں سے گفتگو ہے لن ترانی اب کہاں جب ہمارے پاس تھے ان کو ہمارا پاس تھا تھی ہماری قدر جب تھی قدر دانی اب کہاں اے پری پیکر ترا میرے ہی دم تک تھا بناؤ سرخ موباف و لباس ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق

ہم ہیں اے یار چڑھائے ہوئے پیمانۂ عشق ترے متوالے ہیں مشہور ہیں مستانۂ عشق دشمنوں میں بھی رہا ربط محبت برسوں خوش نہ آیا کسی معشوق کو یارانۂ عشق مجھ کو جو چاہ محبت کی ہے مجنوں کو کہاں اس کو لیلیٰ ہی کا سودا ہے میں دیوانۂ عشق جان لیں گے کہ وہ دل لیں گے جنہیں چاہا ہے دیکھیے کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوں

کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوں کیا ہے کیوں مشہور میں سودائی بازاروں میں ہوں غم نہیں جو بیڑیاں پہنے گرفتاروں میں ہوں ناز ہے اس پر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں تیرے کوچے میں جو میرا خون ہو اے لالہ رو سرخ رو یاروں میں ہوں گل رنگ گلزاروں میں ہوں اس قدر ہے اے پری رو زور پر ...

مزید پڑھیے

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی آدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئی نیم بسمل ہو کے میں تڑپا تو وہ کہنے لگے چوک تجھ سے ہو گئی تعزیر آدھی رہ گئی شام سے تھی آمد آمد نصف شب کو آئے وہ یاوری کر کے مری تقدیر آدھی رہ گئی نصف شہر اس گیسوئے مشکیں نے دل بستہ کیا خسرو تاتار کی توقیر ...

مزید پڑھیے

موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں

موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں ہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیں چل بسے سوئے عدم تم نے بلایا جن کو یاد آئی تو غریبوں کی قضائیں آئیں روح تازی ہوئی تربت میں وہ ٹھنڈی ٹھنڈی باغ فردوس کی ہر سو سے ہوائیں آئیں میں وہ دیوانہ تھا جس کے لیے بزم غم میں جا بجا بچھنے کو پریوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4466 سے 4657