شاعری

تو پھر وہ عشق یہ نقد و نظر برائے فروخت

تو پھر وہ عشق یہ نقد و نظر برائے فروخت سخن برائے ہنر ہے ہنر برائے فروخت عیاں کیا ہے ترا راز فی سبیل اللہ خبر نہ تھی کہ ہے یہ بھی خبر برائے فروخت میں قافلے سے بچھڑ کر بھلا کہاں جاؤں سجائے بیٹھا ہوں زاد سفر برائے فروخت پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے ...

مزید پڑھیے

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا کہا نہیں تھا مرا جسم اور بھر یا رب سو اب یہ خاک ترے پاس بچ گئی ہے نا تو میرے حال سے انجان کب ہے اے دنیا جو بات کہہ نہیں پایا سمجھ رہی ہے نا اسی لیے ہمیں احساس جرم ہے شاید ابھی ہماری محبت نئی نئی ہے نا یہ کور چشم ...

مزید پڑھیے

کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے

کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے وہ دیکھتا تھا مجھے اشک بار ہوتے ہوئے پرندے آئے تو گنبد پہ بیٹھ جائیں گے نہیں شجر کی ضرورت مزار ہوتے ہوئے ہے ایک اور بھی صورت رضا و کفر کے بیچ کہ شک بھی دل میں رہے اعتبار ہوتے ہوئے مرے وجود سے دھاگا نکل گیا ہے دوست میں بے شمار ہوا ہوں شمار ...

مزید پڑھیے

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہیں جانا نہیں جانے کی تیاری نہیں کرنی تحمل اے محبت ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے اس راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر یوں ہی ...

مزید پڑھیے

اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے

اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے آندھی چلے تو صحرا میں طغیانی ہوتی ہے نثر میں جو کچھ کہہ نہیں سکتا شعر میں کہتا ہوں اس مشکل میں بھی مجھ کو آسانی ہوتی ہے جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے عشق تمہارا کھیل ہے باز آیا اس کھیل سے ...

مزید پڑھیے

گزرے تعلقات کا اب واسطہ نہ دے

گزرے تعلقات کا اب واسطہ نہ دے گم ہو چکی کتاب جو اس کا پتہ نہ دے اب تذکرے نہ چھیڑ مرے عہد شوق کے جو بجھ گئی ہے آگ اسے پھر ہوا نہ دے کچھ اس قدر فریب سہاروں سے کھائے ہیں میں گر پڑوں گا خوف سے تو آسرا نہ دے جس کی جبین شوق پہ لکھا تھا میرا نام اب دور جا بسا ہے تو شاید بھلا نہ دے شعلہ جو ...

مزید پڑھیے

ایسا منظر تو کبھی دیکھا نہ تھا

ایسا منظر تو کبھی دیکھا نہ تھا روشنی میں بھی مرا سایہ نہ تھا پیار کے بادل تو گزرے تھے مگر دل کے صحرا میں کوئی برسا نہ تھا عمر بھر پڑھتا رہا ایسا بھی خط تو نے میرے نام جو لکھا نہ تھا جسم کی دیوار اک تھی درمیاں میں نے پا کر بھی تجھے پایا نہ تھا یوں تو شبنم تھا مگر اے دوستو میں کسی ...

مزید پڑھیے

سورج کوئی نہ کوئی ستارا طلوع ہو

سورج کوئی نہ کوئی ستارا طلوع ہو تنہا اگر خدا ہے تو تنہا طلوع ہو بے رشتگی کا ایک سمندر ہے اور میں مدت سے منتظر ہوں کنارا طلوع ہو آ میرے پاس اور کبھی اس طرح چمک میرے بدن سے بھی ترا سایا طلوع ہو جمشیدؔ کیا کرو گے اگر یوں بھی ہو کبھی سورج کے دائرے سے اندھیرا طلوع ہو

مزید پڑھیے

میں خاک میں ملے ہوئے گلاب دیکھتا رہا

میں خاک میں ملے ہوئے گلاب دیکھتا رہا اور آنے والے موسموں کے خواب دیکھتا رہا کسی نے مجھ سے کہہ دیا تھا زندگی پہ غور کر میں شاخ پر کھلا ہوا گلاب دیکھتا رہا کھڑا تھا میں سمندروں کو اوک میں لیے ہوئے مگر یہ شخص عجیب تھا سراب دیکھتا رہا وہ اس کا مجھ کو دیکھنا بھی اک طلسم تھا مگر میں ...

مزید پڑھیے

کر بھی لوں اگر خواب کی تعبیر کوئی اور

کر بھی لوں اگر خواب کی تعبیر کوئی اور سینے میں اتر جائے گی شمشیر کوئی اور اب اشک ترے روک نہیں پائیں گے مجھ کو اب ڈال مرے پاؤں میں زنجیر کوئی اور میں شب سے نہیں دن کی ہلاکت سے ڈرا ہوں اب میرے لیے بھیجنا تنویر کوئی اور اب تیری محبت سے بھی کچھ کام نہ ہوگا اب ڈھونڈ مرے واسطے اکسیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4442 سے 4657