جنگ سے جنگل بنا جنگل سے میں نکلا نہیں
جنگ سے جنگل بنا جنگل سے میں نکلا نہیں ہو گیا اوجھل مگر اوجھل سے میں نکلا نہیں دعوت افتاد رکھی چھل سے میں نکلا نہیں نکلے بھی کس بل مگر کس بل سے میں نکلا نہیں دیکھتے رہنا ترا مسحور چھت پر کر گیا اس قدر بارش ہوئی جل تھل سے میں نکلا نہیں جیسے تو ہی تو ہو میری نیند سے لپٹا ہوا جیسے ...