شاعری

جنگ سے جنگل بنا جنگل سے میں نکلا نہیں

جنگ سے جنگل بنا جنگل سے میں نکلا نہیں ہو گیا اوجھل مگر اوجھل سے میں نکلا نہیں دعوت‌ افتاد رکھی چھل سے میں نکلا نہیں نکلے بھی کس بل مگر کس بل سے میں نکلا نہیں دیکھتے رہنا ترا مسحور چھت پر کر گیا اس قدر بارش ہوئی جل تھل سے میں نکلا نہیں جیسے تو ہی تو ہو میری نیند سے لپٹا ہوا جیسے ...

مزید پڑھیے

پانی شجر پہ پھول بنا دیکھتا رہا

پانی شجر پہ پھول بنا دیکھتا رہا اور دشت میں ببول بنا دیکھتا رہا ایام کے غبار سے نکلا تو دیر تک میں راستوں کو دھول بنا دیکھتا رہا تو بازوؤں میں بھر کے گلابوں کو سو رہی میں بھی خزاں کا پھول بنا دیکھتا رہا کونپل سے ایک لب سے فراموش ہو کے میں کس گفتگو میں طول بنا دیکھتا رہا بادہ ...

مزید پڑھیے

نہ رونا رہ گیا باقی نہ ہنسنا رہ گیا باقی

نہ رونا رہ گیا باقی نہ ہنسنا رہ گیا باقی اک اپنے آپ پر آوازے کسنا رہ گیا باقی ہماری خود فراموشی یہ دنیا جان جائے گی ذرا سا اور اس دلدل میں دھنسنا رہ گیا باقی ہوس کے ناگ نے دن رات رکھا اپنے چنگل میں بہت کھیلا ہمارے تن سے ڈسنا رہ گیا باقی کسی کے پیار کا قصہ ادھورا چھوڑ آئے ...

مزید پڑھیے

رہ سلوک میں بل ڈالنے پہ رہتا ہے

رہ سلوک میں بل ڈالنے پہ رہتا ہے لہو کا کھیل خلل ڈالنے پہ رہتا ہے یہ دیکھتا نہیں بنیاد میں ہیں ہڈیاں کیا ہر ایک اپنا محل ڈالنے پہ رہتا ہے مہم پہ روز نکلتا ہے تاجر بارود اور ایک خوف اجل ڈالنے پہ رہتا ہے اور ایک ہاتھ ملاتا ہے زہر پانی میں اور ایک ہاتھ کنول ڈالنے پہ رہتا ہے اور ایک ...

مزید پڑھیے

آدمی خوار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

آدمی خوار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا عشق آزار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا یہ جو کچھ لوگ خیالوں میں رہا کرتے ہیں ان کا گھر بار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا زندگی سہل پسندی میں بسر کر لینا کار دشوار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا کار دنیا ہی کچھ ایسا ہے کہ دل سے ترا درد سلسلہ وار بھی ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے اب جو حالات ہیں اے اہل زباں کیسے ہو آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں ...

مزید پڑھیے

نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ

نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ میں تجھ کو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے غم حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ مشابہ کتنے ہیں ہم سوختہ جبینوں سے کسی ستون سے سر پھوڑتے ہوئے سگریٹ کل اک ملنگ کو کوڑے کے ڈھیر پر لا کر نشے نے توڑ دیا جوڑتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا

تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا یہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہہ نکلے وہ برساتی نہیں ہوتا بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل میں جگہ دی تھی نظر سے دور کیا ...

مزید پڑھیے

راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں

راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں میں کہیں اور سے آیا ہوں مقامی تو نہیں اونچا لہجہ ہے فقط زور دلائل کے لیے اے مری جاں یہ مری تلخ کلامی تو نہیں ان درختوں کو دعا دو کہ جو رستے میں نہ تھے جلدی آنے کا سبب تیز خرامی تو نہیں تیری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا یہ مرا دل ہے کوئی خالی ...

مزید پڑھیے

آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا میں

آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا میں مسئلہ حل ہو تو حل کا مسئلہ چھیڑوں گا میں وصل و ہجراں میں تناسب راست ہونا چاہئے عشق کے رد عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا میں دیکھنا سب لوگ مجھ کو خارجی ٹھہرائیں گے کل یہاں جنگ جمل کا مسئلہ چھیڑوں گا میں کشتیوں والے مجھے تاوان دے کر پار جائیں ورنہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4439 سے 4657