شاعری

وقت کے طوفانی ساگر میں کرودھ کپٹ کے ریلے ہیں

وقت کے طوفانی ساگر میں کرودھ کپٹ کے ریلے ہیں لیکن آس کے مانجھی ہر لحظہ موجوں سے کھیلے ہیں پگ پگ کانٹے منزلوں صحرا کوسوں جنگل بیلے ہیں سفر زیست کٹھن ہے یارو راہ میں لاکھ جھمیلے ہیں الکھ جمائے دھونی رمائے دھیان لگائے رہتے ہیں پیار ہمارا مسلک ہے ہم پریم گرو کے چیلے ہیں راہزنوں ...

مزید پڑھیے

جو درد دل کہو آہستہ بولو

جو درد دل کہو آہستہ بولو خوشی سے غم سہو آہستہ بولو فغاں کرنا بھی جرم عاشقی ہے بڑے چوکس رہو آہستہ بولو تمہاری آہ بھی ہے بار خاطر تکلم کے شہو آہستہ بولو در و دیوار بھی ہوتے ہیں جاسوس کوئی سنتا نہ ہو آہستہ بولو اب آہ زیر لب ہے بزم کی رسم اسی رو میں بہو آہستہ بولو سرہانے دل ہی دل ...

مزید پڑھیے

لیلیٰ سر بہ گریباں ہے مجنوں سا عاشق زار کہاں

لیلیٰ سر بہ گریباں ہے مجنوں سا عاشق زار کہاں ہیر دہائی دیتی ہے رانجھے سا یار غار کہاں اپنا خون جگر پیتے ہیں تجھ کو دعائیں دیتے ہیں تیرے میخانے میں ساقی ہم سا بادہ خوار کہاں ہجر کا ظلم ہماری قسمت وصل کی دولت غیر کا مال زخم کسے اور مرہم کس کو درد کہاں ہے قرار کہاں ہجر کا ظلم ...

مزید پڑھیے

خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں

خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں ہم تو شہر کے شور میں شب بھر اپنی جان کو روتے ہیں کس کس درد کو اپنائیں اور کس کس زخم کو سہلائیں دیکھتی آنکھوں قدم قدم پر کئی حوادث ہوتے ہیں دل کی دلی لٹ گئی اس کے ایوانوں میں غدر مچی خودداری کے مغل شہزادے شہر میں ٹھلیا ڈھوتے ...

مزید پڑھیے

حسن ہیرے کی کنی ہو جیسے

حسن ہیرے کی کنی ہو جیسے اور مری جاں پہ بنی ہو جیسے تیری چتون کے عجب تیور ہیں سر پہ تلوار تنی ہو جیسے ریزہ ریزہ ہوئے مینا و ایاغ رند و ساقی میں ٹھنی ہو جیسے اپنی گلیوں میں ہیں یوں آوارہ کہ غریب الوطنی ہو جیسے ہر مسافر ترے کوچے کو چلا اس طرف چھاؤں گھنی ہو جیسے تیری قربت کی ...

مزید پڑھیے

میں نے دل بے تاب پہ جو جبر کیا ہے

میں نے دل بے تاب پہ جو جبر کیا ہے خوں ہو کے میری آنکھوں سے اب چھوٹ بہا ہے جس کو کسی آذر نے ہے پتھر سے تراشا اب شومیٔ تقدیر سے وہ میرا خدا ہے اس کے ستم و جور کا احساس کسے ہو اس شوخ کی صورت ہی بڑی ہوش ربا ہے مجھ بیکس و آوارہ کی پھر آ گئی شامت سنتا ہوں کہ بستی میں کہیں قتل ہوا ہے تم ان ...

مزید پڑھیے

کار زار عشق و سر مستی میں نصرت یاب ہوں

کار زار عشق و سر مستی میں نصرت یاب ہوں وہ جنونی دار تک جانے کو جو بیتاب ہوں کوہساروں پر سوا نیزے پہ سورج آئے تو چوٹیوں کی برف پگھلے وادیاں سیراب ہوں دوسرے ساحل پہ کوئی سوہنی ہو منتظر ہم مہینوالوں کے آگے بحر بھی پایاب ہوں عافیت پاتے ہیں خوابوں کے حسیں بحروں میں لوگ جب ہر اک موج ...

مزید پڑھیے

گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے

گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے یہ امس تو کسی عنوان ٹلے انگ پر زخم لیے خاک ملے آن بیٹھے ہیں ترے محل تلے اپنا گھر شہر خموشاں سا ہے کون آئے گا یہاں شام ڈھلے دل پروانہ پہ کیا گزرے گی جب تلک دھوپ بجھے شمع جلے روپ کی جوت ہے کالا جادو اک چھلاوا کہ فرشتوں کو چھلے دلدلوں میں بھی کنول ...

مزید پڑھیے

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا جو حشر مجھ پہ بپا ہے وہ اہتمام اس کا سپاہ تازہ بھی اس کی صف نگاہ سے ہے صفائے سینۂ شمشیر پر ہے نام اس کا امان خیمۂ رم خوردگاں میں باقی ہے کہ نا تمام ہے اک شوق قتل عام اس کا کتاب عمر سے سب حرف اڑ گئے میرے کہ مجھ اسیر کو ہونا ہے ہم کلام اس کا دل ...

مزید پڑھیے

بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوا

بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوا فقط فراز نگین و نگاہ مجھ سے ہوا چراغ شب نے مجھے اپنے خواب میں دیکھا ستارۂ سحری خوش نگاہ مجھ سے ہوا گرفت کوزہ سے اک خاک میری سمت بڑھی صف سراب کوئی سد راہ مجھ سے ہوا شب فسانہ و فرسنگ اس سے مل آیا جو ماورائے سفید و سیاہ مجھ سے ہوا سر گریز و گماں اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4440 سے 4657