شاعری

گئے دنوں کی رقابت کو وہ بھلا نہ سکے

گئے دنوں کی رقابت کو وہ بھلا نہ سکے شریک بزم تھے لیکن نظر ملا نہ سکے عذاب ہجر کے لمحات ہم بھلا نہ سکے دیار غیر میں اک پل سکون پا نہ سکے بہت بعید نہ تھا مسئلوں کا حل ہونا انا کے پاؤں سے زنجیر ہم ہٹا نہ سکے تعلقات میں حد درجہ احتیاط رہی قریب آ نہ سکے وہ مجھے بھلا نہ سکے فریب کھا ...

مزید پڑھیے

جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی

جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی خواب تو دے دیے اس نے ہمیں مہلت نہیں دی بکتا رہتا سر بازار کئی قسطوں میں شکر ہے میرے خدا نے مجھے شہرت نہیں دی اس کی خاموشی مری راہ میں آ بیٹھی ہے میں چلا جاتا مگر اس نے اجازت نہیں دی ہم ترے ساتھ ترے جیسا رویہ رکھتے دینے والے نے مگر ایسی طبیعت ...

مزید پڑھیے

کافر ہوں سر پھرا ہوں مجھے مار دیجئے

کافر ہوں سر پھرا ہوں مجھے مار دیجئے میں سوچنے لگا ہوں مجھے مار دیجئے ہے احترام حضرت انسان میرا دین بے دین ہو گیا ہوں مجھے مار دیجئے میں پوچھنے لگا ہوں سبب اپنے قتل کا میں حد سے بڑھ گیا ہوں مجھے مار دیجئے کرتا ہوں اہل جبہ و دستار سے سوال گستاخ ہو گیا ہوں مجھے مار دیجئے خوشبو سے ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ کہہ رہی ہیں کچھ فضائیں آگ کی

لمحہ لمحہ کہہ رہی ہیں کچھ فضائیں آگ کی ذرہ ذرہ آ رہی ہیں کیا صدائیں آگ کی خشک پیڑوں کے لبوں پر کیا دعائیں ہیں سنو چھا رہی ہیں ہر طرف دیکھو گھٹائیں آگ کی کوچہ و بازار بھی دیوار و در بھی آگ ہیں اک اشارہ سا ہے فصلیں لہلہائیں آگ کی آگ کی لہریں ہیں یا لوگوں کی سانسیں ہیں یہاں دیکھنا ...

مزید پڑھیے

نت نئے رنگ سے کرتا رہا دل کو پامال

نت نئے رنگ سے کرتا رہا دل کو پامال بربط جاں میں سمایا ہوا اک حسن ملال عمر کاٹی ہے گھنی چھاؤں میں زلفوں کی بہت آؤ اب رنج کی دہلیز پہ سجدے کچھ سال وہ بدن جس کا اجالا تھا ہماری جنت دھیان میں اس کے ہوئے آج مگر کیسے نڈھال گوری باہیں بھی حمائل رہا کرتی تھیں کبھی اور اب سر بھی اٹھانا ...

مزید پڑھیے

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں بجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میں دھوئیں سے آسماں کا رنگ میلا ہوتا جاتا ہے ہرے جنگل بدلتے جا رہے ہیں کارخانوں میں بھلی لگتی ہے آنکھوں کو نئے پھولوں کی رنگت بھی پرانے زمزمے بھی گونجتے رہتے ہیں کانوں میں وہی گلشن ہے لیکن وقت کی ...

مزید پڑھیے

پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے

پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے یہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے دیوار پر کھلے ہیں نئے موسموں کے پھول سایہ زمین پر کسی پچھلے مکاں کا ہے چاروں طرف ہیں سبز سلاخیں بہار کی جن میں گھرا ہوا کوئی موسم خزاں کا ہے سب کچھ بدل گیا ہے تہہ آسماں مگر بادل وہی ہیں رنگ وہی آسماں کا ہے دل ...

مزید پڑھیے

خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں

خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں خون ٹھنڈا پڑ گیا آنکھیں پرانی ہو گئیں جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو اس کی تصویریں بھی اوراق خزانی ہو گئیں دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت دیکھ کر جن کو لکھنا تھا وہ سب باتیں زبانی ہو گئیں جو مقدر تھا اسے تو روکنا بس میں نہ تھا ان کا ...

مزید پڑھیے

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے ...

مزید پڑھیے

شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں

شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گزری تھی کب دھندلکا ہوا کب ناؤ چلی یاد نہیں ٹھنڈے موسم میں پکارا کوئی ہم آتے ہیں جس میں ہم کھیل رہے تھے وہ گلی یاد نہیں ان مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی تھی کیسے کھلتی تھی محبت کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4426 سے 4657