شاعری

جو آئی خوشبو کبھی تیرے پیرہن کی طرح

جو آئی خوشبو کبھی تیرے پیرہن کی طرح گلاب جلنے لگے ہیں مرے بدن کی طرح یہ تیرے ناز و ادا تیری شوخی و شنگی ہیں دل فریب بہت تیرے بانکپن کی طرح جنوں کو راس تو آئی سکونت صحرا کہاں وہ لطف مگر تیری انجمن کی طرح ہیں گل ہزاروں شگفتہ چمن چمن لیکن کہاں وہ نکہت گل زخم جان و تن کی طرح بہار ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں جو سمائے نہ منظر لپیٹ دے

آنکھوں میں جو سمائے نہ منظر لپیٹ دے یا میری فکر میں کوئی محشر لپیٹ دے ان کی نگاہ مست کا دل میں سرور ہے ساقی سے کہہ دو بادہ و ساغر لپیٹ دے دنیا کو یوں خبر تو ہو آلام زیست کی کانٹوں کے ساتھ آج گل تر لپیٹ دے ہوں محو خواب ان کے تصور کی گود میں اے وقت اپنے درد کا بستر لپیٹ دے ہوتا ...

مزید پڑھیے

تم جو آ جاؤ غم دھواں ہو جائے

تم جو آ جاؤ غم دھواں ہو جائے بزم جاں رشک آسماں ہو جائے ٹوٹ جاتا ہے دم محبت کا بد گمانی اگر جواں ہو جائے حال و ماضی کی سرحدیں ایسی زندگی پل میں رفتگاں ہو جائے صاف ستھرا معاملہ رکھئے اس سے پہلے عذاب جاں ہو جائے چیخ اٹھتا ہے دفعتاً کردار جب کوئی شخص بد گماں ہو جائے لازمی ہیں ...

مزید پڑھیے

انا منہ آنسوؤں سے دھو رہی ہے

انا منہ آنسوؤں سے دھو رہی ہے ضرورت سر بہ سجدہ ہو رہی ہے مری دشمن مری بے باک گوئی مری راہوں میں کانٹے بو رہی ہے ریا کاری لیے جاتی ہے سبقت حقیقت سر جھکائے رو رہی ہے مسلسل اک اذیت زندگانی غموں کے بوجھ سر پر ڈھو رہی ہے زمانہ مصلحت پرور ہوا ہے ضرورت آدمیت کھو رہی ہے کسی کی شخصیت ...

مزید پڑھیے

ہم ترے عشق میں کچھ ایسے ٹھکانے لگ جائیں

ہم ترے عشق میں کچھ ایسے ٹھکانے لگ جائیں ریگ زاروں میں پھریں خاک اڑانے لگ جائیں ڈھونڈتا رہتا ہوں ہاتھوں کی لکیروں میں تجھے چاہتا ہوں مرے ہاتھوں میں خزانے لگ جائیں یہ الگ بات کہ تجدید تعلق نہ ہوا پر اسے بھولنا چاہوں تو زمانے لگ جائیں شہر بے شکل میں اے کاش کبھی ایسا ہو حسب ترتیب ...

مزید پڑھیے

اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں

اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں کوئی صورت پس تصویر نہیں چاہتا میں چاہتا ہوں کہ رفاقت کا بھرم رہ جائے عہد و پیمان کی تفسیر نہیں چاہتا میں حکم صادر ہے تو نافذ بھی کرو میرے حضور فیصلے میں کوئی تاخیر نہیں چاہتا میں چاہتا ہوں تجھے گفتار سے قائل کر لوں بات میں لہجۂ شمشیر نہیں ...

مزید پڑھیے

دے کے وہ سارے اختیار مجھے

دے کے وہ سارے اختیار مجھے اور کرتا ہے شرمسار مجھے زخم ترتیب دے رہا ہوں میں اور کچھ وقت دے ادھار مجھے پارسائی کا زعم ہے ان کو کہہ رہے ہیں گناہ گار مجھے فاصلے یہ سمٹ نہیں سکتے اب پرایوں میں کر شمار مجھے دل کے گلشن میں تم چلے آؤ اور کر دو سدا بہار مجھے ترک الفت کے بعد بھی ...

مزید پڑھیے

سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے

سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے اٹھتا ہے دھواں دل سے نگاہوں سے جگر سے آج اس کے جنازے میں ہے اک شہر صف آرا کل مر گیا جو آدمی تنہائی کے ڈر سے کب تک گئے رشتوں سے نبھاتا میں تعلق اس بوجھ کو اے دوست اتار آیا ہوں سر سے جو آئنہ خانہ مری حیرت کا سبب ہے ممکن ہے مرے بعد مری دید کو ...

مزید پڑھیے

وہ مری جرأت کم یاب سے ناواقف ہیں

وہ مری جرأت کم یاب سے ناواقف ہیں ہاں وہی لوگ جو گرداب سے ناواقف ہیں ایسی راتیں کہ جنہیں نیند کی لذت نہ ملی ایسی آنکھیں جو ابھی خواب سے ناواقف ہیں میری کم گوئی پہ جو طنز کیا کرتے ہیں میری کم گوئی کے اسباب سے ناواقف ہیں ان سے کیا کیجے توقع وہ ہیں نو وارد دشت دشت وحشت کے جو آداب ...

مزید پڑھیے

زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے

زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے مری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے عجب ٹھہراؤ پیدا ہو رہا ہے روز و شب میں مری وحشت کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے میں تجھ کو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں میری دنیا مری تحریر اب تھوڑی سی فرصت چاہتی ہے ادھر منہ زور موجیں دندناتی پھر رہی ہیں مگر اک ناؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4425 سے 4657