جو آئی خوشبو کبھی تیرے پیرہن کی طرح
جو آئی خوشبو کبھی تیرے پیرہن کی طرح گلاب جلنے لگے ہیں مرے بدن کی طرح یہ تیرے ناز و ادا تیری شوخی و شنگی ہیں دل فریب بہت تیرے بانکپن کی طرح جنوں کو راس تو آئی سکونت صحرا کہاں وہ لطف مگر تیری انجمن کی طرح ہیں گل ہزاروں شگفتہ چمن چمن لیکن کہاں وہ نکہت گل زخم جان و تن کی طرح بہار ...